میڈیا ہاؤسز کا ظلم، صحافیوں کی بے بسی اور آخر کب تک؟ 10

میڈیا ہاؤسز کا ظلم، صحافیوں کی بے بسی اور آخر کب تک؟

تحریر: ذوالفقارعلی ببر، آزاد صحافی
آج ٹی وی کے سینئر کیمرہ مین اور کراچی پریس کلب کے رکن شہادت بلوچ کے بارے میں سامنے آنے والی خبر انتہائی افسوس ناک اور تشویش ناک ہے۔ اطلاعات کے مطابق چارماہ سے تنخواہ نہ ملنے کے دوران وہ دفتر میں اچانک بے ہوش ہوگئے، جس کے بعد انہیں مختلف اسپتالوں سے جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ اہلِ خانہ کے مطابق ان کی حالت تشویش ناک ہے اور جسم کا ایک حصہ متاثر ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ شہادت بلوچ کو صحتِ کاملہ عطا فرمائے، ان کی والدہ کو شفا دے اور ان کے اہلِ خانہ کو ہمت عطا فرمائے۔ آمین۔
لیکن ایک سوال ہے جو ہر صاحبِ ضمیر کو خود سے پوچھنا چاہیے: کیا ایک صحافی اور میڈیا ورکر کی زندگی کی کوئی قیمت نہیں؟
چار چار ماہ تنخواہیں روک دی جائیں، بچوں کی اسکول فیسیں ادا نہ ہوسکیں، گھر کا کرایہ سر پر چڑھ جائے، گھر میں راشن ختم ہونے لگے اور بیمار ملازم علاج کے لیے پیسوں کو ترستا رہے، تو آخر وہ اپنے گھر والوں کے سامنے کس منہ سے جائے؟ کیا میڈیا مالکان اور انتظامیہ کبھی اس کرب کو محسوس کرنے کے لیے تیار ہیں؟
صحافی صرف کیمرے کے پیچھے کھڑا ایک شخص نہیں ہوتا۔ وہ بھی ایک باپ، بیٹا، بھائی اور خاندان کا کفیل ہوتا ہے۔ اس کے بھی بچے ہوتے ہیں، ان کی فیسیں ہوتی ہیں، گھر کا کرایہ ہوتا ہے، بجلی اور گیس کے بل ہوتے ہیں اور روزمرہ زندگی کی بے شمار مجبوریاں ہوتی ہیں۔ اس کی تنخواہ کوئی خیرات نہیں بلکہ اس کی محنت کا حق ہے۔
میرا اپنا معاملہ بھی اسی تلخ حقیقت کی ایک مثال ہے۔ نیوز ون ٹی وی اور اس کی پیرنٹ کمپنی ایئرویوَز میڈیا گروپ (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے خلاف میرے قانونی واجبات کے حوالے سے 27 اپریل 2026ء کو میرے حق میں تحریری عدالتی فیصلہ جاری ہوا، جسے چھ ماہ سے زیادہ گزر چکے ہیں، مگر 21 لاکھ 85 ہزار 780 روپے کی ادائیگی تاحال نہیں ہوئی۔
اب بھی میرے سامنے یہ مؤقف آتا ہے کہ یہ کس چیز کے پیسے ہیں، ہم اپیل میں جائیں گے۔ اگر کسی فریق کو قانون کے مطابق اپیل کا حق حاصل ہے تو وہ ضرور استعمال کرے، لیکن سوال یہ ہے کہ جب تک قانونی عمل جاری ہے، ایک محنت کش صحافی اور اس کے بچوں کی زندگی کیسے گزرے؟ عدالتی فیصلے کے باوجود واجبات کی وصولی میں مسلسل تاخیر کیوں؟ قانون صرف کمزور ملازم کے لیے ہے یا طاقتور میڈیا مالکان پر بھی یکساں لاگو ہوتا ہے؟
دو سال سے بے روزگاری اور اپنے حق کے حصول کی جدوجہد میں میرے بچوں نے کیا کھایا ہوگا؟ گھر کا کرایہ کیسے ادا کیا ہوگا؟ ان کی اسکول فیسیں کیسے بھری ہوں گی؟ انہیں تعلیم جاری رکھنے کے لیے کن مشکلات سے گزرنا پڑا ہوگا؟ کیا کوئی یہ سوچنے کو تیار ہے کہ صحافی اپنے گھر کا چولہا کیسے جلاتا ہے؟ میں صحافت کے علاوہ کسی دوسرے شعبے سے وابستہ نہیں، اور میرے لیے یہ محض رقم کا معاملہ نہیں بلکہ میرے خاندان کے بنیادی حقوق اور بقا کا سوال ہے۔
نیوز ون سمیت تمام میڈیا ہاؤسز کی انتظامیہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ملازمین کی تنخواہیں روک کر کوئی ادارہ اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہوسکتا۔ جب اپنے حقوق مانگنے والے ملازمین کو مہینوں انتظار کرنا پڑے، جب عدالتی فیصلے کے بعد بھی ادائیگی نہ ہو اور جب ایک پیشہ ور صحافی اپنے خاندان کے اخراجات پورے کرنے سے محروم ہوجائے تو یہ صرف ایک ملازم کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ پورے میڈیا انڈسٹری کے نظام پر سوال بن جاتا ہے۔
آج ٹی وی کے ملازمین کی تنخواہوں میں تاخیر اور شہادت بلوچ کی طبی حالت سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات نے ایک مرتبہ پھر اس سنگین مسئلے کو اجاگر کیا ہے۔ ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے ممکنہ ذہنی اور معاشی اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ کسی بھی ادارے کو اپنے ورکرز کی مشکلات کو معمولی سمجھنے کے بجائے فوری طور پر ان کے واجبات ادا کرنے چاہییں۔
صحافت کوئی فیکٹری کی مشین نہیں کہ ضرورت پڑنے پر چلائی اور ضرورت ختم ہونے پر بند کردی جائے۔ یہ ایک ذمہ دار پیشہ ہے، جس کی بنیاد محنت، دیانت اور عوامی اعتماد پر قائم ہے۔ افسوس کہ بعض میڈیا اداروں میں ملازمین کے حقوق کے مقابلے میں کاروباری مفادات کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔
خصوصاً ان سرمایہ کاروں اور کاروباری گروہوں کو خود احتسابی کرنی چاہیے جو میڈیا کے شعبے میں آتے تو ہیں، لیکن صحافت کے تقاضوں، ادارتی آزادی اور کارکنوں کے بنیادی حقوق کی ذمہ داری پوری نہیں کرتے۔ کسی بھی سرمایہ کار کی نیت کے بارے میں ثبوت کے بغیر فیصلہ نہیں دیا جاسکتا، لیکن میڈیا کو محض کاروباری مفاد یا مالی لین دین کا ذریعہ سمجھ کر اس کے کارکنوں کو نظرانداز کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ میڈیا کی عمارت صرف مالکان کی سرمایہ کاری سے نہیں، کارکنوں کی محنت سے بھی کھڑی ہوتی ہے۔
ایک قول جو اس موقع پر یاد آتا ہے:”قلم کی حرمت کا تقاضا ہے کہ قلم اٹھانے والے کے حق کی بھی حفاظت کی جائے۔“
اگر ہم دوسروں کے حقوق کی آواز بلند کرتے ہیں تو ہمیں اپنے شعبے کے محنت کشوں کے حقوق کے لیے بھی اسی قوت سے کھڑا ہونا ہوگا۔
میری کراچی پریس کلب، کراچی یونین آف جرنلسٹس کے تمام دھڑوں، صحافتی تنظیموں اور میڈیا ورکرز سے اپیل ہے کہ شہادت بلوچ کی صحت یابی کے لیے دعا کے ساتھ ساتھ آج ٹی وی کے ملازمین کی تنخواہوں کی فوری ادائیگی کے لیے متحدہ اور مؤثر لائحۂ عمل اختیار کریں۔ اسی طرح نیوز ون اور دیگر میڈیا اداروں کے ملازمین کے قانونی واجبات کی ادائیگی اور عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے بھی مشترکہ آواز بلند کی جائے۔
متعلقہ حکومتی ادارے اور لیبر حکام بھی ایسے معاملات میں مؤثر کردار ادا کریں تاکہ کارکنوں کو اپنے جائز حقوق کے لیے برسوں انتظار نہ کرنا پڑے۔
آخر میں ایک بار پھر شہادت بلوچ کے لیے خصوصی دعا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جلد صحت یاب کرے، ان کی والدہ کو شفا عطا فرمائے اور ان کے خاندان کی مشکلات آسان کرے۔ آمین یا رب العالمین۔
یاد رکھیے! صحافی کی آواز دب جائے تو معاشرے کا ایک اہم سوال خاموش ہوجاتا ہے، لیکن صحافی کے گھر کا چولہا بجھ جائے تو اس کی ذمہ داری سے کوئی ادارہ بری الذمہ نہیں ہوسکتا۔( ذوالفقار علی ببر، آزاد صحافی)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں