تحریر: رباب ابراہیم
خبروں کی دنیا سے کرکٹ کے میدان تک، خواتین صحافیوں نے دکھا دیا کہ وہ ہر میدان کی کھلاڑی ہیں،کراچی پریس کلب میں جاری سپر سکسز نائٹ کرکٹ ٹورنامنٹ کے رنگ اب مزید گہرے ہونے لگے ہیں۔ 30 اکتوبر سے 7 نومبر تک جاری رہنے والے اس ٹورنامنٹ میں جہاں مختلف میڈیا ہاؤسز سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں، وہیں خواتین صحافیوں کی شرکت نے بھی اس ایونٹ کو ایک خوبصورت اور یادگار رنگ دے دیا ہے۔ آج کا دن بھی کچھ ایسا ہی یادگار رہا، جب مختلف میڈیا ہاؤسز سے تعلق رکھنے والی خواتین صحافیوں کی ٹیم ریڈ اور ٹیم بلیو کرکٹ کے میدان میں آمنے سامنے آئیں۔ دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلہ خاصا دلچسپ اور سنسنی خیز رہا، تاہم ٹیم ریڈ نے عمدہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو وکٹوں کے نقصان پر 9 رنز سے کامیابی اپنے نام کرلی۔ میچ کے آغاز ہی سے ٹیم ریڈ کی جانب سے نُصرت زہرا اورکشمالہ نجیب کے خوبصورت چوکوں نے مخالف ٹیم پر دباؤ بڑھا دیا۔ ان کے دلیرانہ شاٹس نے کھیل میں خوب رنگ جمایا اور اوپننگ میں ہی ٹیم ریڈ کو برتری دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ دوسری جانب ٹیم بلیو کی سحرش اور سمیرا نے بھی اپنی جاندار بیٹنگ سے ٹیم کا اسکور آگے بڑھانے کی بھرپور کوشش کی، لیکن وہ ٹیم ریڈ کی برتری کو ختم نہ کرسکیں۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ میدان میں دونوں ٹیمیں جیت کے لیے پُرعزم تھیں، لیکن کھیل کے دوران دوستانہ ماحول، قہقہوں اور ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی نے مقابلے کی خوبصورتی کو مزید بڑھا دیا۔ یہ محض کرکٹ کا ایک میچ نہیں تھا بلکہ ان خواتین کے جذبے، حوصلے اور عزم کا اظہار بھی تھا جو اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کے باوجود کھیل کے لیے وقت نکال کر میدان میں اتریں۔ انہوں نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ خواتین صحافت کے شعبے میں ہوں یا کھیل کے میدان میں، اپنی صلاحیتوں، محنت اور حوصلے سے کسی سے کم نہیں۔
ٹیم ریڈ کی کپتان کی حیثیت سے میری جانب سے دونوں ٹیموں کو دلی مبارک باد اور تمام کھلاڑیوں کو ان کی بہترین اسپورٹس مین اسپرٹ پر خراجِ تحسین۔ جیت یقیناً ٹیم ریڈ کے حصے میں آئی، لیکن آج کی اصل کامیابی دونوں ٹیموں کے جذبے، دوستی اور کھیل سے محبت کی رہی۔
آخر میں اس خوبصورت سرگرمی کے انعقاد اور خواتین صحافیوں کو کھیل کے میدان میں اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع فراہم کرنے پر کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکریٹری اسلم خان، گورننگ باڈی کی رکن شیما صدیقی اور سابقہ رکن کلثوم جہاں، سابق سیکریٹری رضوان بھٹی، اسپورٹس کمیٹی کے عتیق الرحمن اور زاہد غفار کی تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ آپ سب کی کاوشوں سے آج ہماری یادوں کے البم میں ایک اور خوبصورت یاد کا اضافہ ہوگیا۔ ایسی سرگرمیاں نہ صرف صحافیوں کو روزمرہ کی پیشہ ورانہ مصروفیات سے ہٹ کر ایک دوسرے کے قریب لاتی ہیں بلکہ دوستی، ٹیم ورک اور خوش گوار تعلقات کو بھی فروغ دیتی ہیں۔
کیونکہ کچھ مقابلے صرف جیتنے کے لیے نہیں کھیلے جاتے، کچھ مقابلے زندگی بھر یاد رہنے والی خوشیاں دے جاتے ہیں۔۔(رباب ابراہیم)۔۔
7