خصوصی رپورٹ۔۔۔
پاکستان میں صحافیوں اور ذرائع ابلاغ کے خلاف دباؤ ڈالنے کے طریقوں میں نمایاں تبدیلی سامنے آئی ہے، جہاں جسمانی تشدد اور براہِ راست دھمکیوں کے ساتھ ساتھ قانونی مقدمات، سائبر کرائم تحقیقات، بار بار طلبی اور طویل عدالتی کارروائیوں کو بھی صحافیوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیے جانے کی شکایات بڑھ رہی ہیں۔ میڈیا کی آزادی اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم فریڈم نیٹ ورک کی 29 اکتوبر کو جاری کردہ سالانہ رپورٹ امپیونٹی رپورٹ 2026 کے مطابق اکتوبر 2025 سے اگست 2026 کے دوران پاکستان بھر میں صحافیوں اور میڈیا اداروں کے خلاف مجموعی طور پر 97 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق ان واقعات میں ایک صحافی کا پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے متعلق قتل، تین قاتلانہ حملے، قتل یا جسمانی نقصان کی 18 دھمکیاں، تشدد کے 11 واقعات، 13 قانونی کارروائیاں اور قانونی کارروائی کی 32 دھمکیاں شامل ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مجموعی واقعات میں سے تقریباً 46 فیصد کا تعلق قانونی کارروائیوں یا ان کی دھمکیوں سے تھا، جو صحافیوں کو دباؤ میں لانے کے طریقہ کار میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
پیکا قانون اور سائبر کرائم تحقیقات پر تشویش
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا) اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے ذریعے ہونے والی بعض کارروائیاں صحافیوں کے لیے قانونی مشکلات کا باعث بن رہی ہیں۔ خصوصاً حکومتی اخراجات، بدعنوانی، سرکاری اداروں کی کارکردگی اور عوامی مفاد سے متعلق رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو شکایات، تحقیقات اور قانونی نوٹسز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ فریڈم نیٹ ورک کے مطابق متعدد معاملات میں مقدمات کے حتمی فیصلے یا الزامات ثابت ہونے سے پہلے ہی صحافیوں کو تحقیقات، سفری اخراجات، وکلا کی فیس، الیکٹرانک آلات کی جانچ پڑتال اور بار بار عدالتوں میں پیشی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تنظیم نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایسی کارروائیوں کے نتیجے میں صحافی حساس معاملات پر آزادانہ رپورٹنگ سے گریز کرنے لگتے ہیں، جس سے عوام تک معلومات کی آزادانہ رسائی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
پنجاب میں سب سے زیادہ واقعات ریکارڈ
رپورٹ کے اعدادوشمار کے مطابق صوبہ پنجاب صحافیوں کے خلاف رپورٹ ہونے والی خلاف ورزیوں میں سرفہرست رہا، جہاں 49 واقعات سامنے آئے، جو مجموعی واقعات کے نصف سے زیادہ ہیں۔ خیبرپختونخوا میں 19، اسلام آباد میں 11 جبکہ بلوچستان میں 10 واقعات رپورٹ کیے گئے۔
میڈیا کی مختلف شعبہ جاتی تقسیم کے مطابق ڈیجیٹل صحافت سے وابستہ افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جن کے خلاف 36 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ ٹیلی ویژن صحافیوں سے متعلق 33 جبکہ پرنٹ میڈیا سے وابستہ صحافیوں کے خلاف 27 واقعات سامنے آئے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً دو تہائی واقعات میں متاثرہ صحافیوں یا ان کے اہل خانہ نے سرکاری حکام یا اہلکاروں پر مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے، تاہم ان الزامات کو ثابت شدہ ذمہ داری قرار نہیں دیا گیا۔
صحافیوں کے تحفظ کے اداروں کی کارکردگی پر سوالات
فریڈم نیٹ ورک نے ملک میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے قائم اداروں کی کارکردگی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صحافیوں کے تحفظ سے متعلق قوانین موجود ہونے کے باوجود ان پر مؤثر عمل درآمد اور متاثرہ صحافیوں کو بروقت قانونی و ادارہ جاتی مدد فراہم کرنے کا نظام ناکافی ہے۔ تنظیم نے وفاقی سطح پر قائم صحافیوں کے تحفظ کے نظام کو عملاً غیر فعال قرار دیا، جبکہ سندھ میں قائم کمیشن کے بارے میں کہا کہ اس کی سرگرمیاں نسبتاً نمایاں ہونے کے باوجود کراچی سے باہر اس کی رسائی اور حفاظتی اثرات محدود ہیں۔ فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک نے اس صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے قوانین اور کمیشنز کی موجودگی کے باوجود مؤثر تحفظ کی فراہمی میں ناکامی متعلقہ حکام کے لیے سنجیدہ غور و فکر کا معاملہ ہونی چاہیے۔
26 برس میں 170 سے زائد صحافی قتل، صرف تین مقدمات میں سزا
رپورٹ میں پاکستان میں صحافیوں کے قتل کے واقعات پر احتساب کے فقدان کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ فریڈم نیٹ ورک کے مطابق جنوری 2000 سے اب تک پاکستان میں پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران 170 سے زائد صحافی قتل ہوچکے ہیں، تاہم ان میں سے صرف تین صحافیوں کے قتل کے مقدمات میں ذمہ داروں کو سزا دی جاسکی ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ صورتحال ملک میں صحافیوں کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کے احتساب اور انصاف کی فراہمی میں موجود سنگین خامیوں کو ظاہر کرتی ہے۔
حکومت کا مؤقف اور صحافتی تنظیموں کے مطالبات
دوسری جانب حکومت پاکستان ماضی میں اس مؤقف کا اظہار کرتی رہی ہے کہ سائبر کرائم قوانین کا مقصد جھوٹی معلومات، نقصان دہ آن لائن سرگرمیوں اور قومی سلامتی سے متعلق خطرات کا تدارک کرنا ہے، نہ کہ آزاد اور ذمہ دار صحافت کو دبانا۔ تاہم صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ قوانین کی غیر واضح تشریحات اور وسیع تحقیقاتی اختیارات کے باعث بعض کارروائیاں آزادیٔ اظہار اور عوامی مفاد میں کی جانے والی رپورٹنگ کو متاثر کرسکتی ہیں۔
فریڈم نیٹ ورک نے اپنی رپورٹ میں مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں کے تحفظ کے اداروں کو فعال بنایا جائے، انہیں مناسب وسائل فراہم کیے جائیں، پیکا قانون کے تحت عوامی مفاد کی صحافت کے لیے واضح قانونی تحفظ یقینی بنایا جائے اور گرفتاریوں، قانونی نوٹسز اور ڈیجیٹل آلات کی ضبطگی کے لیے سخت ضابطے مقرر کیے جائیں۔ تنظیم نے متاثرہ صحافیوں کو فوری قانونی معاونت، نفسیاتی مدد اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ قانونی اختیارات کے مبینہ غلط استعمال میں ملوث اہلکاروں کے احتساب پر بھی زور دیا ہے۔واضح رہے کہ یہ رپورٹ 2 نومبر کو دنیا بھر میں منائے جانے والے صحافیوں کے خلاف جرائم میں استثنیٰ کے خاتمے کے عالمی دن سے قبل جاری کی گئی ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں صحافت کو درپیش خطرات اب صرف جسمانی حملوں اور تشدد تک محدود نہیں رہے بلکہ قانونی اور انتظامی طریقہ کار کے مبینہ غلط استعمال کو روکنا بھی آزادیٔ صحافت کے تحفظ کے لیے ایک اہم چیلنج بن چکا ہے۔(خصوصی رپورٹ)۔۔۔
26