تحریر: نعمت خان۔۔۔
چلیں، کسی عام صحافی کے خلاف این سی سی آئی اے میں مقدمہ بن جائے تو اسے بھی برداشت کر لیا جائے۔ کہ ایسے مقدمے ہوتے رہتے ہیں۔ عام صحافی کے پاس نہ اثرورسوخ ہوتا ہے، نہ طاقت کے ایوانوں تک رسائی۔ زیادہ سے زیادہ کسی پریس کلب، یونین یا چند ساتھیوں کی طرف سے ایک آدھ مذمتی بیان آجاتا ہے۔ مکمل سرینڈر کے اس عہد میں اسے بھی غنیمت ہی سمجھ لیجیے۔
مگر معاملہ یہاں ایک عام صحافی کا نہیں۔ ملک کے سب سے پرانے اور تاریخی پریس کلب کے صدر پر ایک میڈیا گروپ کے مالک نے سوشل میڈیا پر تنقید کی وجہ سے مقدمہ قائم کرلیا، اور ایک دن بعد پریس کلب کی طرف سے مذمتی بیان پر اکتفا کیا گیا۔
بس۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں ہمیں رک کر خود سے پوچھنا چاہیے کہ ہم کہاں پہنچ گئے ہیں؟
اگر یہ صحافتی جدوجہد کا پرانا زمانہ ہوتا تو صحافی روزنامہ جنگ کے دفتر کے باہر دھرنا دیے بیٹھے ہوتے۔ دفتر کے دروازے بند، راستے بند، نہ کوئی اندر جاتا، نہ کوئی باہر آتا، جب تک احتجاج ختم نہ ہوتا۔ صحافی اپنے حق کے لیے کھڑے ہونے کا حوصلہ رکھتے تھے۔
میں نے صحافت میں اتنی بے بسی شاید پہلے کبھی نہیں دیکھی۔
ماضی میں بھی صحافیوں کا ایک دھڑا مالکان کے ساتھ کھڑا ہوجاتا تھا۔ یہ تقسیم نئی نہیں۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اس دور میں مفاد کے ساتھ مزاحمت بھی زندہ تھی۔ کچھ لوگ بک جاتے تھے، مگر سب خاموش نہیں ہوتے تھے۔ آج مسئلہ یہ ہے کہ مزاحمت ہی جیسے صحافت کے لغت سے خارج کردی گئی ہے۔
اور یہ زوال کسی ایک دن، ایک ہفتے یا ایک مہینے میں نہیں آیا۔ یہ برسوں کی حرکتوں کا حاصل ہے۔
اقبال اجمیری نے کہا تھا۔
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
یہاں جو مکمل سینڈر کی شکل میں حادثہ ہوا ہے یکدم نہیں ہوا ہے۔
اصل خرابی وہاں سے شروع ہوئی جہاں یونینوں کی قیادت یونین مزاج رکھنے والے، لڑنے والے اور کارکنوں کے درمیان سے نکلنے والے لوگوں کے بجائے یونٹ مینجمنٹ کے ماہر، طاقت اور دولت کے قریب رہنے والوں کے ہاتھ میں چلی گئی۔
یہ لوگ کبھی خود عہدوں پر ہوتے ہیں اور کبھی اپنے دوستوں کو آگے کرتے ہیں۔ نتیجہ ایک ہی رہتا ہے۔یونین کارکن کی آواز بننے کے بجائے خاموش رہتی ہے۔
اور پھر ایک عجیب عمل شروع ہوتا ہے۔ پھر رفتہ رفتہ سب کے مزاج بدلنے لگتے ہیں۔ جو کل سوال پوچھتا تھا، آج مصلحت بتاتا ہے۔ جو کل احتجاج کی قیادت کرتا تھا، آج مذمتی بیان کو جدوجہد سمجھتا ہے۔ جو کل کہتا تھا ’’ساڈا حق اتھے رکھ‘‘، آج حق مانگنے سے پہلے اجازت چاہتا ہے۔
یہی اصل المیہ ہے۔
صحافیوں کو آج سب سے زیادہ مقدمات سے نہیں، اپنی بے حسی سے خطرہ ہے۔
جب تک بہادری سے لڑنے والے، قربانی دینے والے، جدوجہد کو اپنی ذمہ داری سمجھنے والے اور ’’ساڈا حق اتھے رکھ‘‘ پورے اعتماد سے کہنے والے لوگ آگے نہیں آئیں گے، صحافیوں کی ذلت کم نہیں ہوگی۔
آج ایک صدر نشانہ بنا ہے، کل پاکستان کے کسی اور پریس کلب کا صدر ہوگا، سیکریٹری ہوگا۔ پرسوں کسی یونین کا عہدیدار۔ پھر کوئی اور۔
اور ہم ہر بار ایک نیا مذمتی بیان جاری کرکے سمجھیں گے کہ ہم نے اپنا فرض ادا کردیا۔
نہیں جناب، بیان مزاحمت نہیں ہوتا۔
مزاحمت وہ ہوتی ہے جس سے طاقتور کو اپنی طاقت کے استعمال کی قیمت ادا کرنا پڑے۔
وقت آگیا ہے کہ صحافیوں کی تقسیم ختم ہو۔ پریس کلب ہوں یا یونینیں، ذاتی گروہ بندیوں اور عہدوں کی دوڑ سے باہر نکل کر ایک مشترکہ مؤقف بنایا جائے۔ اتفاق رائے سے نہیں، اتحاد عمل سے۔
تمام پریس کلب اور یونینیں مل کر احتجاج کریں۔ قیادت کے حقیقی حقدار کارکنوں میں سے آگے آئیں۔ اپنی توانائیاں تقریبات، تصویروں، کیک کاٹنے اور تعریفی اسناد کے بجائے صحافیوں کے حقوق کے حصول پر صرف کریں۔
پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے۔
مگر سب کچھ بہا لے جانے والا آخری ریلا ابھی نہیں آیا۔
اب بھی وقت ہے کہ بند باندھنے کی تیاری کی جائے۔ اب بھی وقت ہے کہ اس بہاو کا رخ موڑا جائے جو صحافت کے لیے خطرہ ہے، صحافیوں کے لیے خطرہ ہے۔
لیکن کیا ہم واقعی تیار ہیں؟ (نعمت خان)
34