azaz syed ki gaari se tracking device baramad 109

اعزاز سید کو دو روز میں این سی سی آئی کے دو نوٹسز جاری۔۔۔

پاکستان کے دو صحافیوں نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے مختصر وقفے کے دوران متعدد نوٹسز موصول ہونے کے بعد اختیار کیے گئے طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ دونوں صحافیوں کا کہنا ہے کہ انہیں تحقیقاتی کارروائی سے قبل نہ تو الزامات کی مکمل وضاحت فراہم کی گئی اور نہ ہی جواب دینے کے لیے مناسب وقت دیا گیا۔ صحافی اعزاز سید اور اسد علی طور نے منگل کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر الگ الگ بیانات میں بتایا کہ انہیں این سی سی آئی اے کی جانب سے یکے بعد دیگرے نوٹسز موصول ہوئے ہیں۔ اگرچہ دونوں صحافیوں سے متعلق معاملات کی نوعیت مختلف ہے، تاہم دونوں نے مختصر مدت میں نوٹسز کے اجرا اور ایجنسی کے اختیار کردہ طریقۂ کار پر تحفظات کا اظہار کیا۔اعزاز سید نے کہا کہ انہیں دو دن کے دوران این سی سی آئی اے کے دو نوٹسز موصول ہوئے، لیکن ان کے بقول کسی بھی نوٹس میں ان پر عائد کیے جانے والے الزامات کی واضح تفصیل موجود نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ وہ قانون کی پاسداری کرنے والے شہری کی حیثیت سے این سی سی آئی اے کے سامنے پیش بھی ہوئے، اور اپنے خلاف الزامات کی تفصیل مانگ لیں۔۔ اعزاز سید نے اپنی پوسٹ کے اختتام پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا شکریہ بھی ادا کیا۔ اگرچہ دونوں صحافیوں کو جاری کیے گئے نوٹسز الگ الگ معاملات سے متعلق ہیں اور الزامات کی سرکاری تفصیلات بھی تاحال منظر عام پر نہیں لائی گئیں، تاہم دونوں صحافیوں نے نوٹسز کے اجرا کے طریقۂ کار پر سوال اٹھایا ہے۔اعزاز سید نے واضح الزامات کی عدم موجودگی جبکہ اسد طور نے جواب دینے کے لیے ناکافی وقت فراہم کیے جانے پر تحفظات کا اظہار کیا۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صحافیوں اور آن لائن اظہار سے متعلق تحقیقات میں این سی سی آئی اے کے کردار اور طریقۂ کار پر مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔حالیہ مہینوں میں عدالتوں اور پارلیمانی ارکان نے بھی ایجنسی کی کارروائیوں کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ قرار دے چکی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں قانون کی مقررہ حدود کے اندر رہنی چاہییں۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے بھی صحافیوں اور اخبارات کو جاری کیے جانے والے نوٹسز سے متعلق خدشات کا جائزہ لیا ہے۔جرنلزم پاکستان کا کہنا ہے کہ این سی سی آئی اے کی جانب سے کوئی عوامی یا سرکاری ردعمل سامنے آنے کی صورت میں اسے خبر میں شامل کر دیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں