208

اسدطور نے سائبرکرائم نوٹس عدالت میں چیلنج کردیا۔۔

صحافی اسد علی طور نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی(این سی سی آئی اے ) کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹس کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ انہیں ایک روز قبل پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ(پیکا) کی دفعہ 26 اے کے تحت جاری انکوائری میں طلب کیا گیا تھا۔اسد علی طور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ انہیں 29 جولائی کو طلبی کا نوٹس موصول ہوا، جس کے فوراً بعد انہوں نے تفتیشی افسر کو تحریری جواب ارسال کیا اور قانون کے مطابق شکایت اور اپنے خلاف عائد الزامات کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست کی تاکہ وہ انکوائری میں مکمل تعاون کر سکیں۔ ایڈووکیٹ عطااللہ کنڈی کے ذریعے دائر کی گئی درخواست میں سیکریٹری داخلہ، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ این سی سی آئی اے کا جاری کردہ نوٹس کالعدم قرار دیا جائے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ وہ عدالتی امور سمیت مختلف عوامی اہمیت کے معاملات پر رپورٹنگ کرتے ہیں، تاہم این سی سی آئی اے نے نوٹس جاری کرتے وقت قانونی تقاضے پورے نہیں کیے کیونکہ انہیں شکایت اور الزامات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ الزامات کی تفصیلات نہ ملنے کے باعث اسد علی طور کو مؤثر انداز میں اپنا مؤقف پیش کرنے اور جواب دینے کے حق سے محروم رکھا گیا۔دریں اثنا اسلام آباد ہائیکورٹ نے جمعہ کے روز این سی سی آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ اسدطور کو ان کے خلاف دائر درخواست سے متعلق الزامات کی تمام تفصیلات فراہم کی جائیں۔۔ جس کے بعد عدالت نے درخواست نمٹا دی۔۔اس سے قبل این سی سی آئی اے نے اسد علی طور کو ہدایت کی تھی کہ وہ 31 جولائی کو صبح 11 بجے اسلام آباد میں قائم سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر میں پیش ہوں۔ نوٹس کے مطابق ان کے خلاف پیکا کی دفعہ 26 اے کے تحت جاری انکوائری مبینہ طور پر جھوٹی یا جعلی معلومات کی تشہیر، ترسیل یا عوامی نمائش سے متعلق ہے۔نوٹس میں خبردار کیا گیا کہ اگر وہ کسی قانونی عذر کے بغیر پیش نہ ہوئے تو اسے دفاع پیش کرنے سے انکار تصور کیا جائے گا اور انکوائری ان کی عدم موجودگی میں بھی جاری رکھی جا سکتی ہے۔ نوٹس میں تعمیل نہ کرنے کی صورت میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 174 کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔اس نوٹس پر نیشنل پریس کلب نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے یا تنقیدی آراء کے اظہار پر قانونی دباؤ کا نشانہ بنانا آزادیٔ صحافت اور جمہوری اقدار کے لیے نقصان دہ ہے۔نیشنل پریس کلب نے مطالبہ کیا کہ ریاستی ادارے آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کے مطابق عمل کریں۔ کلب کے مطابق آزاد، ذمہ دار اور محفوظ صحافت ایک جمہوری معاشرے کے لیے ناگزیر ہے، لہٰذا اسد علی طور کو جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جائے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسد علی طور کو 2024 میں ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ منظم مہم چلانے کے الزامات کے تحت گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ اس گرفتاری پر صحافیوں اور میڈیا تنظیموں نے شدید تنقید کی تھی، جس کے بعد انہیں بعد ازاں رہا کر دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں