خصوصی رپورٹ۔۔
دنیا کے کئی حصوں کی طرح پاکستان میں بھی ناظرین کی ایک بڑی تعداد اب روایتی ٹی وی نیوز اینکرز اور اداروں کے بجائے سوشل میڈیا انفلوئنسرز سے خبریں اور تبصرے حاصل کرنے کو ترجیح دے رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ لوگ، خاص طور پر نوجوان، اب معلومات حاصل کرنے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔
پیو ریسرچ سینٹر کی ایک تحقیق کے مطابق تقریباً ہر پانچ میں سے ایک بالغ فرد باقاعدگی سے سوشل میڈیا انفلوئنسرز سے خبریں حاصل کرتا ہے، جبکہ 30 سال سے کم عمر افراد میں یہ شرح نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ بہت سے افراد کا کہنا ہے کہ انفلوئنسرز پیچیدہ موضوعات کو زیادہ سادہ، ذاتی اور قابلِ فہم انداز میں پیش کرتے ہیں۔
یہ رجحان عالمی میڈیا کے منظرنامے کو تبدیل کر رہا ہے اور اس سے روایتی صحافت، ادارتی اختیار اور نیوز رومز کے کردار پر نئے سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔یوٹیوب، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز نے مواد تخلیق کرنے والوں کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ تبصرے، تجزیے اور موجودہ حالات پر فوری ردعمل کے ذریعے بڑی تعداد میں ناظرین تک رسائی حاصل کریں۔ ٹی وی خبروں کے برعکس، جو ایک منظم ادارتی ڈھانچے کے تحت چلتی ہیں، انفلوئنسرز کا انداز زیادہ براہِ راست، ذاتی اور غیر رسمی ہوتا ہے۔
تحقیقات کے مطابق اس انداز سے “پیرا سوشل ریلیشن شپ” قائم ہوتی ہے، جس میں ناظرین خود کو انفلوئنسر کے قریب محسوس کرتے ہیں۔ جب کوئی تخلیق کار براہِ راست کیمرے سے بات کرتا ہے اور تبصروں یا پیغامات کے ذریعے ناظرین سے رابطے میں رہتا ہے تو اس سے ایک ذاتی تعلق کا احساس پیدا ہوتا ہے، جو اعتماد کو بڑھاتا ہے۔
اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ 30 سال سے کم عمر تقریباً 38 فیصد افراد باقاعدگی سے “نیوز انفلوئنسرز” پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ 65 سال سے زائد عمر کے افراد میں یہ شرح صرف 8 فیصد ہے۔
دوسری جانب، روایتی میڈیا اداروں پر عوامی اعتماد میں بھی کمی آئی ہے۔ سیاسی تقسیم، میڈیا کی بڑھتی ہوئی تعداد اور بعض اوقات جانبداری کے تاثر نے ناظرین کو متبادل ذرائع کی جانب مائل کیا ہے۔
اس ماحول میں ناظرین اکثر ایسے افراد کو ترجیح دیتے ہیں جو کھل کر اپنی رائے دیتے ہیں اور خبروں کو سادہ زبان میں بیان کرتے ہیں، بجائے ان اینکرز کے جو اسکرپٹ کے مطابق خبریں پیش کرتے ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ انفلوئنسرز کی کھلی رائے انہیں زیادہ شفاف ظاہر کرتی ہے، جس سے ان پر اعتماد بڑھتا ہے۔
تاہم اس رجحان کے ساتھ خطرات بھی وابستہ ہیں۔ بہت سے نیوز انفلوئنسرز کا تعلق پیشہ ور صحافت سے نہیں ہوتا، جس کے باعث غلط معلومات، فیکٹ چیکنگ کی کمی اور رائے و خبر کے درمیان حد بندی ختم ہونے جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
پاکستان میں بھی یہی رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز خبروں اور تجزیے کا ایک بڑا ذریعہ بن چکے ہیں، جہاں سیاسی یوٹیوبرز، ٹک ٹاک تبصرہ نگار اور دیگر ڈیجیٹل تخلیق کار بڑی تعداد میں ناظرین حاصل کر رہے ہیں، بعض اوقات روایتی ٹی وی پروگرامز سے بھی زیادہ۔
پاکستان کے کئی معروف ڈیجیٹل تجزیہ کار سوشل میڈیا پر براہِ راست اپنے خیالات پیش کر کے وسیع فالوونگ حاصل کر چکے ہیں۔ نوجوان نسل اب یوٹیوب چینلز، پوڈکاسٹس اور ٹک ٹاک ویڈیوز کے ذریعے سیاسی اور سماجی معاملات کو سمجھنے کو ترجیح دیتی ہے۔
ان پلیٹ فارمز کی ایک بڑی خوبی ان کی انٹرایکٹو نوعیت ہے، جہاں ناظرین فوری طور پر تبصرہ، شیئر اور بحث کر سکتے ہیں، جس سے ایک کمیونٹی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
روایتی میڈیا اداروں کے لیے یہ تبدیلی ایک چیلنج بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ کچھ ادارے اب “جرنلسٹ-کریئیٹر” ماڈل پر کام کر رہے ہیں، جہاں رپورٹرز کو ذاتی برانڈ بنانے کی ترغیب دی جا رہی ہے، جبکہ پیشہ ورانہ معیار کو برقرار رکھا جا رہا ہے۔
آخرکار، انفلوئنسرز کے ذریعے خبروں کے فروغ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ناظرین کا اعتماد اب اداروں سے ہٹ کر افراد کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔ پاکستانی صحافیوں کے لیے یہ ایک اشارہ ہے کہ وہ اپنی پیشکش کے انداز کو جدید بنائیں، ناظرین سے بہتر رابطہ قائم کریں اور شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے اس تیزی سے بدلتے ہوئے ڈیجیٹل ماحول میں اپنی جگہ برقرار رکھیں۔(خصوصی رپورٹ)۔۔
