خیبر یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام پشاور پریس کلب میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک بھر خصوصا خیبر پختونخوا میں مختلف میڈیا اداروں کی جانب سے کارکن صحافیوں، ویڈیو جرنلسٹس اور دیگر میڈیا ورکرز کی مسلسل برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، جبری استعفوں اور میڈیا ورکرز کے معاشی استحصال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔اجلاس میں خیبر یونین آف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب کے عہدیداروں سمیت پشاور کے سینئر صحافیوں اور میڈیا ورکرز نے شرکت کی جبکہ موجودہ صورتحال کے خلاف متفقہ طور پر صوبہ گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں متفقہ طور پر اعلان کیا گیا کہ جمعہ کے روز سے خیبر پختونخوا بھر میں مختلف میڈیا اداروں کی جانب سے کارکن صحافیوں، ویڈیو جرنلسٹس اور دیگر میڈیا ورکرز کی مسلسل برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، جبری استعفوں اور میڈیا ورکرز کے معاشی استحصال کے خلاف احتجاجی تحریک کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا جس کے تحت احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور دیگر احتجاجی اقدامات شامل ہوں گے ،اجلاس کے شرکاء نے حکومت خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا کہ محکمہ اطلاعات کے سرکاری اشتہارات کو میڈیا اداروں کی جانب سے بے روزگار کیے گئے صحافیوں کی بحالی، بقایا جات کی ادائیگی اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ سے مشروط کیا جائے، شرکا نے مطالبہ کیا کہ ایسے میڈیا اداروں کو سرکاری اشتہارات نہ دیے جائیں جو کارکن صحافیوں کو تنخواہوں سے محروم رکھتے ہیں یا انہیں جبری طور پر ملازمتوں سے فارغ کر رہے ہیں۔اجلاس میں صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ جرنلسٹس پروٹیکشن بل کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے اور خیبر پختونخوا میں صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ شرکا نے پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں کے خلاف درج مقدمات فوری طور پر واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا،اجلاس میں وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ آئی ٹی این ای جج کو فوری طور پر خیبر پختونخوا میں تعینات کیا جائے تاکہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو درپیش قانونی مسائل، میں آسانی ہو ۔ شرکا کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں آئی ٹی این ای جج کی عدم تعیناتی کے باعث صحافی برادری کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور متعدد مقدمات تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں۔اجلاس میں سینئر صحافی اور پشاور پریس کلب کے سابق نائب صدر عرفان خان سمیت دیگر صحافیوں کو پیکا ایکٹ کے تحت نوٹسز جاری کیے جانے کی شدید مذمت کی گئی اور اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا گیا۔ شرکا نے کہا کہ صحافیوں کو ہراساں کرنے کے لیے کالے قوانین کا استعمال ناقابلِ قبول ہے،اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر خیبر یونین آف جرنلسٹس کاشف الدین سید ،پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض،پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ورکرزکے صدر شمیم شاہد اور دیگر نے کہا کہ میڈیا ورکرز کے ساتھ جاری ناانصافیاں ناقابلِ برداشت ہو چکی ہیں اور صحافی برادری اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہر سطح پر بھرپور جدوجہد کرے گی۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحافی برادری اتحاد و اتفاق کے ساتھ اپنی جدوجہد کو آگے بڑھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب بہت ہو چکا، میڈیا مالکان کے ظلم، استحصال، جبری برطرفیوں اور تنخواہوں کی مسلسل عدم ادائیگی کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ شرکا نے واضح کیا کہ صحافیوں کے حقوق کے تحفظ، باعزت روزگار اور بقایا جات کی ادائیگی کے لیے ہر سطح پر بھرپور اور متحد آواز بلند کی جائے گی۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صحافیوں کے مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک کا دائرہ پورے ملک تک وسیع کیا جائے گا۔
