خصوصی رپورٹ۔۔۔
میڈیا واچ ڈاگ فریڈم نیٹ ورک کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران آزادیٔ اظہار کو شدید دھچکا پہنچا ہے، جس کی بڑی وجہ سائبر کرائم قوانین کا بڑھتا ہوا استعمال اور ریگولیٹری دباؤ ہے۔
تین مئی کومنائے جانے والے عالمی یومِ صحافت سے قبل جاری کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) میں 2025 کے دوران کی جانے والی ترامیم کو صحافیوں پر قدغن لگانے، اختلافی آوازوں کو دبانے اور آن لائن اظہار کو جرم قرار دینے کے لیے سب سے مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2016 میں متعارف کرائے گئے اس قانون میں حالیہ ترامیم کے بعد اس کا دائرہ کار وسیع ہو گیا ہے، جس کے تحت صحافیوں، وکلا اور سیاسی مبصرین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ فریڈم نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کے باعث خوف کی فضا پیدا ہوئی ہے اور نیوز رومز و ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر خود سنسرشپ میں اضافہ ہوا ہے۔
فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک کے مطابق، پیکا کو بطور ہتھیار استعمال کرنے سے ایسا ماحول پیدا ہو گیا ہے جہاں صحافی قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے خود سنسرشپ پر مجبور ہیں۔
رپورٹ میں انسانی حقوق کی وکلا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزاؤں کو نمایاں مثالوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جبکہ درجنوں صحافیوں کے خلاف پی ای سی اے کے تحت مقدمات، ہتکِ عزت کے دعوے، نشریاتی معطلیاں اور انٹرنیٹ بندشوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2025 سے مارچ 2026 کے درمیان صحافیوں کے خلاف کم از کم 129 تصدیق شدہ خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں، جن میں دو قتل، پانچ جان سے مارنے کی دھمکیاں، 58 قانونی مقدمات (زیادہ تر پی ای سی اے سے متعلق)، 16 حملے، 11 دھمکیاں اور دو اغوا یا جبری گمشدگی کے واقعات شامل ہیں۔
رپورٹ میں خواتین صحافیوں کو درپیش مخصوص خطرات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، جن میں مارچ 2026 میں اسلام آباد میں عورت مارچ کی کوریج کے دوران تین خواتین صحافیوں کی حراست شامل ہے۔ خواتین صحافیوں کو ہراسانی، آن لائن بدسلوکی، ملازمت میں امتیاز اور ڈیپ فیک جیسے نئے خطرات کا سامنا ہے۔
مزید برآں، معاشی دباؤ کو بھی ایک اہم عنصر قرار دیا گیا ہے، جہاں صحافیوں کو تنخواہوں میں تاخیر، ملازمت کے عدم تحفظ اور سرکاری اشتہارات پر انحصار جیسے مسائل کا سامنا ہے، جو ادارتی آزادی کو متاثر کرتے ہیں۔
پنجاب اور خیبر پختونخوا کو صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک علاقے قرار دیا گیا، جبکہ سندھ اور بلوچستان میں بھی خطرات برقرار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 60 فیصد سے زائد واقعات میں ریاستی اداروں کو مبینہ طور پر ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے، جبکہ غیر ریاستی عناصر بھی تشدد اور دھمکیوں میں ملوث پائے گئے۔
رپورٹ میں شفافیت کے فقدان کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ معلومات تک رسائی کے قوانین موجود ہونے کے باوجود ان پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو رہا، خصوصاً وفاقی سطح پر۔
ٹیکنالوجی کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ پاکستانی میڈیا میں مصنوعی ذہانت کا استعمال محدود ہے، تاہم غلط معلومات، نگرانی اور ضابطہ کار کی کمی کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ مئی 2025 کے پاک بھارت تنازع کے دوران جعلی تصاویر کے پھیلاؤ کو اس کی مثال کے طور پر پیش کیا گیا۔
ان تمام چیلنجز کے باوجود کچھ مثبت پیش رفت بھی نوٹ کی گئی، جن میں قیادت کے اقدامات اور امبرین جان کی بطور چیئرپرسن پیمرا تقرری شامل ہے، جو اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔
رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ قانونی، معاشی اور تکنیکی دباؤ کے مجموعی اثرات نے پاکستان میں آزادیٔ اظہار کے دائرے کو محدود کر دیا ہے، اور اس صورتحال کے پیش نظرپیکامیں اصلاحات، صحافیوں کے تحفظ کے قوانین پر عملدرآمد اور شفافیت کے نظام کو بہتر بنانے کی فوری ضرورت ہے۔ (خصوصی رپورٹ)۔۔۔
