پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے آئی ایف جے کے ساتھ مل کر بنائی گئی پانچ سالہ اسٹریٹجی برائے سال 2025-26 لانچ کر دی۔ سینئر صحافیوں، وکلا رہنماوں اور سیاستدانوں نے پی ایف یو جے کی پانچ سالہ حکمت عملی کو شاندار قرار دے دیا اور کہا کہ وی سب مل کر کام کریں گے۔ صحافت آزاد ہو گی تو ادارے اور ملک بھی مضبوط ہو گا۔ پی ایف یو جے نے لاہور کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب میں اپنے ممبران اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی مشاورت سے بنائی گئی پانچ سالہ اسٹریٹیجی لانچ کردی۔ تقریب میں سینئر صحافیوں مجیب الرحمان شامی، ارشاد عارف، کاظم خان، سلمان غنی، نوید چودھری، سینئر وکلا سردار لطیف کھوسہ، اظہر صدیق، بابر مرتضی، انٹرنیشنل ٹریڈ یونین ایکسپرٹ ڈاکر جاوید گل، رکن پنجاب اسمبلی رانا شہباز احمد سید مزمل ہاشمی اور آئی ایف جے کوآرڈینیٹر غلام مصطفے نے بطور خاص شرکت کی۔ پی ایف یو جے کے صدر رانا محمد عظیم اور سیکرٹری جنرل شکیل احمد نے حکمت عمل کے پانچ سالہ منصوبہ کے خدو خال بتائے۔ڈاکٹر جاوید گل، غلام مصطفے اور کوآرڈینٹر احتشام الحق نے پانچ سالہ پلان کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔تقریب میں سینئر صحافیوں مجیب الرحمان شامی، ارشاد عارف، کاظم خان، سلمان غنی، نوید چودھری اور رانا عظیم نے کہا کہ آزادی صحافت مضبوط اداروں اور خوشحال ملک کی ضامن ہوتی ہے۔ ملک میں آزادئی صحافت کو یقینی بنا نا ہو گا۔ سئنیرصحافی و تجزیہ نگار چیف ایڈیٹر روزنامہ پاکستان مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ پی ایف یو جے کی جانب سے بنائی گئی پانچ سالہ حکمت عملی شاندار ہے۔ اس میں میڈیا کی آزادی اور جمہوریت کو مضبوط کرنے کی بات قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آزادئی صحافت کا جو آج مطالبہ کر رہے ہیں وہ گزتہ پچاس سال سے کرتے آ رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ صحافیوں کا مالی تحفظ ہونا چاہئے۔ 92نیوز کے گروپ ایڈیٹر وسینئر صحافی ارشاد عارف نے کہا کہ قائد اعظم نے کہا تھا کہ صحافت اور جمہوریت ایک ساتھ چلتی ہے۔پی ایف یو جے نے اپنے پانچ سالہ حکمت عملی میں جمہوری آزادی اور آزاد صحافت کی بات کی ہے۔ ہمارے ملک میں جمہوریت کا حال بھی بجلی کی طرح ہے۔ انکا کہنا تھا کہ جہاں فکری آزادی ہو وہ ریاستیں ترقی یافتہ اور خوشحال ہوتی ہیں۔ صدر سی پی این ای کاظم خان نے کہا کہ پی ایف یو جے کا پانچ سالہ منصوبہ صحافیوں نے خود بنایا جو قابل تعریف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافت کی ایک قیمت ہوتی ہے جو ادا کرنی پڑتی ہے۔ آئی ایف جے اور پی ایف یو جے کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔ ہم ان کے ساتھ ہیں۔ گروپ ایڈیٹر دنیا نیوز سلمان غنی نے کہا کہ پی ایف یو جے لیڈرشپ کو پانچ سالہ سٹریٹجی لانچنگ پر مبارکباد دیتا ہوں۔ اس میں اداروں کو مضبوط کرنے اور بہتر تعلقات کی بات کی گئی ہے۔ بائیس اپریل سے قبل قوم منتشر تھی، میڈیا کی وجہ سے پوری قوم اکٹھی ہوئی۔ سٹی نیوز کے نوید چوھری نے کہا کہ پی ایف یو جے کی جاری کردہ حکمت عملی جامع ہے۔ اس سے یقینی طور پر بہتری آئے گی۔ حکومت کو چاہئے کہ سب کے ساتھ ایک جیسا رویہ رکھے۔ اس سے مسائل حل ہوں گے اور مساوات پروان چڑھے گی۔ ایڈیٹر 92 نیوز اورصدر پی ایف یو جے رانا محمدعظیم نے کہا کہ ہماری کوئی پارٹی نہیں، نہ ہم کسی کا حصہ ہیں۔صحافی آزاد ہونگے تو ادارے اور پاکستان بھی مضبوط ہو گا۔ سابق گورنر پجاب اور سینیر وکیل لطیف کھوسہ کا کہناتھا کہ قدغن لگانے سے قومیں ترقی نہیں کرتیں۔ اس وقت مسلم امہ کو اکٹھے ہونے کی ضرورت ہے۔ کسی جرنلسٹ پر کوئی مقدمہ ہو تو میرا چیمبر فری سروس دے گا۔ رکن پنجاب اسمبلی رانا شہباز احمد نے کہا کہ پانچ سالہ منصوبہ شاندار ہے۔ پیکا آیا تو ہم اور میڈیا ساتھ ساتھ تھے۔ سینئر وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ ہم سچ بولنے والوں کے ساتھ ہیں۔ ہمیشہ صحافیوں کی جدو جہد میں ساتھ دیا اور مستقبل میں بھی دیں گے۔ لاہور ہائی کورٹ بار ے صدر بابر مرتضی کا کہنا تھا صحافت اور وکالت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ہم مل کر ملک میں ترقی لائیں گے۔ پہلے بھی ساتھ چلے تھے اب بھی ساتھ چلیں گے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رہنما سید مزمل ہاشمی نے کہا کہ صحافی معاشرے کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ہم ان کی پیشہ وارانہ اہلیت بڑھانے میں مدد گار ہوں گے۔ ہم صحافیوں کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرا رہے ہیں اور مختلف شہروں میں ورکشاپس کرائیں گے۔ پی ایف یو جے لیڈر شپ نے انٹرنیشنل فیڈریشن اور اپنے ارکان کو یقین دلایا کہ وہ اس پانچ ساہ حکمت عملی پر من و عن عمل کر کے صحافی کار کنوں کےحقوق اور آزادئی صحافت کو یقینی بنائیں گے۔
