تحریر: میاں زاہد اسلام انجم
پاکستان میں صحافت ایک طویل عرصے تک ریاست اور عوام کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ یہ وہ شعبہ تھا جہاں سچ کو بیان کرنا ایک فریضہ سمجھا جاتا تھا اور قلم کو امانت جان کر استعمال کیا جاتا تھا۔ مگر بدلتے ہوئے حالات، معاشی دباؤ اور طاقت کے مراکز کی مداخلت نے اس شعبے کی بنیادی روح کو شدید متاثر کیا ہے۔ آج کی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں صحافت بطور ادارہ کمزور ہو چکی ہے اور کئی معاملات میں اس کی آزادی محض ایک تصور بن کر رہ گئی ہے۔
موجودہ دور میں بیشتر بڑے ٹی وی چینلز اور میڈیا ہاؤسز کا انحصار ایسے سرمایہ کاروں پر ہے جن کا بنیادی مقصد صحافت نہیں بلکہ اپنے کاروباری مفادات کا تحفظ ہے۔ خاص طور پر رئیل اسٹیٹ اور دیگر بڑے کاروباری حلقوں کی سرمایہ کاری نے میڈیا کے بیانیے کو متاثر کیا ہے۔ ایسے حالات میں ادارتی آزادی متاثر ہوتی ہے اور صحافیوں، خصوصاً نچلی سطح پر کام کرنے والے میڈیا ورکرز، کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ میڈیا ورکرز وہ لوگ ہیں جو عملی میدان میں صحافت کا اصل بوجھ اٹھاتے ہیں۔ کیمرہ مین، رپورٹرز، ایڈیٹرز اور دیگر تکنیکی عملہ دن رات کام کرتا ہے مگر ان کے مسائل اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ تنخواہوں میں تاخیر، ملازمت کا عدم تحفظ اور بعض اوقات بنیادی حقوق سے محرومی ان کے روزمرہ کے مسائل ہیں۔ وہ اپنے روزگار کے لیے مجبور ہو کر مختلف سیٹھوں کے ماتحت کام کرتے ہیں جہاں ان کے ساتھ ناانصافی عام ہے اور اپنی محنت کا حق حاصل کرنا بھی ایک مشکل مرحلہ بن جاتا ہے۔
ایسے ماحول میں علی عمران جونیئر کا پلیٹ فارم عمران جونیئر ڈاٹ کام ایک نمایاں اور مؤثر کردار کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ محض ایک ویب سائٹ نہیں بلکہ ایک ذمہ دار ڈیجیٹل فورم ہے جو میڈیا ورکرز کی آواز کو منظم انداز میں سامنے لاتا ہے۔ اس پلیٹ فارم نے ان افراد کو زبان دی ہے جو طویل عرصے سے خاموشی اختیار کرنے پر مجبور تھے۔
علی عمران جونیئر نے نہ صرف میڈیا ورکرز کے مسائل کو اجاگر کیا ہے بلکہ ان مسائل کو متعلقہ مالکان اور سرمایہ کاروں تک پہنچانے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی فراہم کیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے جو ایک طرف ورکرز کی مشکلات کو سامنے لاتا ہے اور دوسری طرف ان مسائل کو ان افراد تک پہنچاتا ہے جو فیصلہ سازی کی طاقت رکھتے ہیں۔ اس کے ذریعے نہ صرف سیٹھوں تک ورکرز کی آواز پہنچتی ہے بلکہ کئی معاملات میں مسائل کے حل کی راہیں بھی نکلتی ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ جب ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو جائیں تو ایسے پلیٹ فارمز کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ علی عمران جونیئر نے اسی خلا کو پر کیا ہے جو روایتی میڈیا پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ان کی کاوشیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ اگر نیت صاف ہو اور مقصد واضح ہو تو محدود وسائل کے باوجود بھی مؤثر تبدیلی ممکن ہے۔
آج ان کی سالگرہ کے موقع پر یہ کہنا بجا ہے کہ یہ پلیٹ فارم ایک جدوجہد کی علامت بن چکا ہے۔ ایک ایسی جدوجہد جو میڈیا ورکرز کے حقوق، ان کی عزت اور ان کے مستقبل کے لیے جاری ہے۔ یہ سالگرہ دراصل ایک سفر کا اہم سنگ میل ہے جو سچ، جرات اور ذمہ داری کے اصولوں پر قائم ہے۔پاکستان میں صحافت کا مستقبل اسی وقت محفوظ ہو سکتا ہے جب میڈیا ورکرز کے حقوق کو تسلیم کیا جائے، ادارتی آزادی کو یقینی بنایا جائے اور سرمایہ کاری کو پیشہ ورانہ حدود کے اندر رکھا جائے۔ جب تک یہ توازن قائم نہیں ہوتا، ایسے پلیٹ فارمز کی ضرورت برقرار رہے گی جو سچ کو سامنے لانے اور مظلوم کی آواز کو تقویت دینے کا کام کرتے رہیں۔
علی عمران جونیئر کا پلیٹ فارم اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگرچہ صحافت کے روایتی ڈھانچے کمزور ہو چکے ہیں مگر سچ کی آواز اب بھی زندہ ہے اور وہ ان لوگوں کے ذریعے بلند ہو رہی ہے جو اپنے ضمیر کے مطابق کام کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔(: میاں زاہد اسلام انجم)
