خصوصی رپورٹ۔۔
اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطحی امریکہ–ایران مذاکرات کے اختتام کے بعد جہاں سفارتی پیش رفت پر توجہ مرکوز ہے، وہیں ایک متوازی کہانی بھی سامنے آئی ہے۔۔یہ کہ سخت سیکیورٹی اور محدود رسائی کے باعث صحافیوں نے اس اہم ایونٹ کی کوریج کیسے کی۔موقع پر موجود رپورٹرز کے لیے اصل چیلنج صرف خبروں کی پیروی کرنا نہیں تھا بلکہ یہ کام فاصلے سے انجام دینا بھی تھا۔ مرکزی میڈیا ہب جناح کنونشن سینٹر میں قائم کیا گیا تھا جو کہ اس سیرینا ہوٹل سے تقریباً آدھا کلومیٹر دور تھا جہاں مذاکرات ہو رہے تھے۔ اس طرح میڈیا کو سفارتی سرگرمیوں کے اصل مقام سے الگ رکھا گیا۔سیرینا ہوٹل اور قریبی سفارتی علاقوں کے گرد سیکیورٹی کے کئی حصار قائم کیے گئے تھے جس کے باعث صحافیوں کی براہِ راست رسائی محدود رہی۔ کوریج کے لیے منظور شدہ صحافیوں کو مخصوص مقامات تک محدود رکھا گیا، جس سے انہیں براہِ راست مشاہدہ کرنے یا سرکاری ذرائع سے ہٹ کر معلومات حاصل کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔
وزارتِ اطلاعات کی جانب سے کنونشن سینٹر میں میڈیا کے لیے وسیع انتظامات کیے گئے تھے، جن میں کھانے، چائے، کافی اور دیگر سہولیات شامل تھیں۔ اس ماحول کو کنٹرولڈ انداز میں بڑی تعداد میں صحافیوں کو سہولت دینے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا، جہاں تیز رفتار انٹرنیٹ اور دیگر لاجسٹک سہولیات بھی فراہم کی گئیں۔تاہم ان سہولیات کے باوجود بروقت معلومات تک رسائی ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آئی۔ کنونشن سینٹر میں موجود صحافیوں کو اکثر تاخیر سے جاری ہونے والی سرکاری اپڈیٹس پر انحصار کرنا پڑا، جبکہ سیرینا ہوٹل میں ہونے والی سرگرمیوں کے بارے میں فوری آگاہی محدود رہی۔ایجنسی فرانس پریس (اے ایف پی) کے مطابق کچھ منظور شدہ صحافیوں کو ایک چیک پوائنٹ پر تقریباً ایک گھنٹہ روک لیا گیا جب وی آئی پی قافلہ گزر رہا تھا، جو سخت سیکیورٹی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ کنونشن سینٹر کے اندر اے ایف پی نے ماحول کو “شادی بیاہ جیسے کھانوں” سے تشبیہ دی جہاں بریانی، کباب، گلاب جامن اور برازیلین و ایتھوپیئن کافی پیش کی جا رہی تھی۔تاہم اس ماحول میں بے چینی بھی نمایاں تھی۔ ایک صحافی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، “میں یہاں انتہائی بور ہو رہا ہوں”، جبکہ ایک اور نے کہا، “یہاں کرنے کو زیادہ کچھ نہیں ہے۔” اے ایف پی کے مطابق اہم اپڈیٹس دوپہر دو بجے کے بعد آنا شروع ہوئیں، جو کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی آمد کے کئی گھنٹوں بعد تھیں۔
اسلام آباد مذاکرات نے ایک بار پھر بین الاقوامی صحافت کے ایک اہم مسئلے کو اجاگر کیا ہے: سیکیورٹی اور صحافتی آزادی کے درمیان توازن۔ جہاں اعلیٰ سطحی شخصیات کی حفاظت ضروری ہے، وہیں سخت پابندیاں صحافیوں کی آزادانہ اور بروقت رپورٹنگ کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہیں۔یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ دوحہ اور جنیوا جیسے شہروں میں بھی اسی طرح کے سفارتی مواقع پر سخت سیکیورٹی اقدامات صحافتی کوریج کے انداز کو متاثر کرتے رہے ہیں۔اسلام آباد کا تجربہ ایک بڑے سوال کو جنم دیتا ہے کہ اہم سفارتی ایونٹس کی کوریج کس طرح کی جانی چاہیے۔ جب صحافیوں کو اصل مقام سے دور رکھا جائے اور وہ صرف سرکاری معلومات پر انحصار کریں، تو رپورٹنگ ردعمل تک محدود ہو جاتی ہے، تحقیقاتی نہیں رہتی۔یہ مذاکرات اگرچہ سفارتی پیش رفت کا باعث بنے، لیکن انہوں نے ایک مستقل مسئلے کو بھی اجاگر کیا: جب سیکیورٹی بڑھتی ہے تو صحافت میں سب سے پہلے رسائی ہی قربان ہو جاتی ہے۔(خصوصی رپورٹ)۔۔
