میڈیاکا5سالہ طویل سفراختتام پذیر۔۔

تحریر: حسن محمد تارڑ

انٹرمیں نمبرکم آنے پرجب دلبرداشتہ ہوکرپڑھائی چھوڑدی توفارغ رہ کر وقت گزارنامشکل سا ہوگیا تھاتومصروف رہنے کی غرض سے جنریٹرکا کام سیکھنا شروع کردیا صبح نوبجے جاکردکان کھولنا اورصاف صفائی کے بعد جب ناظم بھائی جوکہ دکان کے مالک تھے آتے توکام شروع کردیتے اس طرح رات کوکبھی دس توکبھی ایک بج جاتا گھرپہنچتے تو تھکن سے فورانیندکاغلبہ ہوتا اورصبح پھرسے جانے کی ٹینشن بھی۔ ناظم بھائی مجھے چھوٹے بھائیوں کی طرح ڈیل کرتے کافی چیزیں میں نے ان سے سیکھیں کام کرتے اکثر ان سے بات ہوتی پڑھائی کو لے کر پھر انہوں نے ایک دن اچانک مجھ سے کہا کہ بھائی تم آگے کیوں نہیں پڑھتے میں نے کہا نمبر کم آئے ہیں داخلہ نہیں ملے گا جیسا کہ سنا تھا انہوں نے کہا کیوں نہیں ملے گا تم ماس کمیونیکیشن میں داخلہ لو۔ میڈیاکا نام سن کرمیرے چہرےپرخوشی کے آثارتونمایاں تھے کیوں کے میڈیاکا بہت نام سن رکھا تھا ان کے سیلری پیکج اور ٹھاٹ باٹ جو میڈیا کی چمک دمک دیکھی اورسنی تھی اس میں عملی طورپرجانےکاسوچا رہاتھااسی وقت میں نےکہا پڑھ تولوں گا مگرمیڈیا میں نوکری کے لئے بہت جان پہچان چاہیئے۔ ہماراتوکوئی میڈیامیں جاننے والا بھی نہیں ہےتوناظم بھائی نے کہا داخلہ تولوباقی بعدمیں دیکھا جائےگا۔کافی سوچ بچارکے بعدپھرمیں نے داخلہ لے ہی لیا ۔اس طرح وفاقی اردویونیورسٹی میں پہلا دن اور میڈیاانڈسٹری میں جانے کا پہلا ٹاسک توپوراہوا۔ مگرابھی بھی نوکری کی ٹینشن تھی کہ کیسے ہوگی پھرمیری ملاقات یونیورسٹی میں اسفندیارسے ہوئی جواس وقت بزنس پلس ٹی وی میں انٹرن شپ کررہا تھا تو پہلی مرتبہ نام سنا کہ جاب سے پہلےانٹرن شپ کرنی پڑتی ہے۔ اب انٹرن شپ کے لئے کوشش شروع کردی اورمختلف میڈیا ہاؤسسزمیں سی وی دے دی مگرکوئی مثبت جواب نہ ملا ۔پھراسفندیارکو انٹرن شپ کا بولا کہ تم توبزنس پلس ٹی وی میں ہوتوکوئی جگہ بناؤ۔ پھرایک دن یونیورسٹی سے اسفند مجھے چینل لے گیا کہ آؤ تمہیں اضفر بھائی سے ملواتا ہوں وہ انٹرن شپ کروادیں گے۔ پہلی مرتبہ انٹرویو کے لئے گیا اورچینل میں انٹری تھی توکافی خیال ذہن میں گھوم رہے تھے پھرریسپشن پر طویل انتظارکے بعد اضفر بھائی تو نہیں بلکہ عدنان بھائی آئے اوربولےکچھ پتہ ہے کرنٹ افیئرزکے حوالے سے میں نے نفی میں سرہلایا توانہوں نے کہا ٹھیک ہے سی وی دے دو بتادیں گے۔ پھرکافی دن تک کوئی جواب نہ آیا تو دوبارہ پہنچ گیا اورپھراضفربھائی سے بھی ملاقات ہوگئی انہوں نے کہا اچھا میں اسفند کوبتادوں گا۔ پھرکچھ دن گزرے اوراسفندنے کہا چلو اضفربھائی نے بلوایا ہے۔اس وقت میری خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا کہ میں میڈیاچینل میں کام کرنے کے کی غرض سے جارہا تھا اورمیڈیاکی رنگینیاں بظاہردیکھنے کا موقع مل رہا تھا۔ اس طرح بزنس پلس ٹی وی سےمیڈیا میں کیرئیربنانےکا خواب دیکھ کرکام شروع کیا اوربہت سے لوگ ملے جنہوں نے بہت سے معاملات میں ساتھ دیا یہاں تک کہ میں جب انٹرن شپ کے لئے گیا تو مجھے کمپیوٹرتک چلانا نہیں آتا تھا اس پرکام تودورکی بعد۔ اضفربھائی نے مجھے اپنی نیوزپروڈکشن ٹیم کا حصہ بنایا اورعدنان بھائی کے ساتھ کام کرنے کا کہا۔جب پہلی مرتبہ پی سی آرمیں گیا تو اتنی زیادہ اسکرینز دیکھ کرگھوم گیا سمجھ نہیں آیاکہ یہ کس طرح کام کررہے ہیں یہ مجھ سے نہیں ہوگا مگر اضفربھائی،عدنان بھائی،طحہٰ اوراسفندیارکا میں تہہ دل سے شکرگزارہوں کہ جنہوں نے ابتدائی دنوں میں میرابھرپورساتھ دیااورعدنان بھائی،طحہٰ نے سب چیزوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا اوروہ وقت بھی آیاکہ میں مارننگ شفٹ میں اکیلاپرودیوسر ہوتاتھا۔ عدنان بھائی نےتواتنا ساتھ دیاکہ ساتھ گھرسے آفس لے جاتے اورواپس گھر چھوڑکر بھی جاتے ان کی اس مہربانی کو کبھی نہیں بھولوں گا۔ بالآخرایک سال کی محنت رنگ لائی اورمیری وہیں جاب بھی ہوگئی اورمزید ایک سال بزنس پلس میں گزارنے کے بعدرخصت چاہی اورنئی منزل کی جانب کوچ کیا جوکہ میٹروون چینل تھا وہاں چھ ماہ ٹیکرزپرگزارنےکےبعد اجازت چاہی اورپھرایک نئے سفرکی جانب گامزن ہوگیا اورمنزل تھی نیوزون چینل جہاں مجھے بہت سےاچھے لوگ ملےاورتین سال کا عرصہ کس طرح گزرگیا پتہ بھی نہیں چلااس دورانیہ میں بول،سماء اورآج نیوزسے جوائنگ لیٹرلینےکے باوجود جوائن نہیں کیا صرف اورصرف اچھے ماحول اورلوگوں سے اچھی انڈراسٹینڈنگ کی وجہ سے۔ ہمارے ڈائریکٹر نیوزحافظ طارق صاحب کا اپنے ماتحتوں سے ملنےکاطریقہ اوربات کرنے کا اندازبہت متاثرکن ہےوہ نہایت اچھے انسان ہیں اوراپنے ماتحتوں کا خیال رکھتے ہیں ان کے حقوق کے لئے آوازبلند کرتے ہیں جس کی وجہ سے اس ادارے میں تین سال گزاردیئے۔ مجھے نہیں یادکہ اس عرصہ میں کبھی ان کو غصے میں دیکھا ہویاکسی سے تیزآوازمیں بات کرتے دیکھا ہویہ اندازمجھے بہت پسندآیا۔ جب نیوزون ٹیم کا حصہ بنا تو ایک نام جو میں نے بہت سنا تھا حسنین خواجہ صاحب جن سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔ جب سیٹ پربیٹھا پی سی آرمیں تویہ دیکھ کرحیران ہواکہ اتنے پریشر میں اوراتنا تیز کام کون کرتا ہے یہ مجھ سے نہیں ہوگا۔ خواجہ صاحب کا ایک جملہ بہت مشہورتھا کہ ابھی کوئی چیز رن ڈاؤن میں لگتی بھی نہیں تھی اورآوازآتی تھی ”بیٹافورا آجائیں فوراکیا کررہے ہیں یار“جس پرکبھی غصہ اورکبھی ہنسی بھی آتی تھی کہ ابھی تویہ چیزرن ڈاؤن میں نہیں لگی توکیسے آجائیں اکثراس چکرمیں پروڈیوسرہل جاتا تھاکہ کرنا کیا ہے۔ مگرخواجہ صاحب نے مجھے بہت سپورٹ کیا میں ان کا دل سے شکرگزارہوں کہ انہوں نے مجھے اپنی ٹیم میں شامل کیا اورآگے بڑھنےکا موقع فراہم کیا۔ خواجہ صاحب کی اس ٹریننگ کی وجہ سے جب کوئی بڑی بریکنگ بھی آتی توہم نارمل بیٹھے رہتے کوئی گھبراہٹ یاافراتفری نہیں ہوتی تھی سب سکون سے اپنا کام کرتے دیکھائی دیتے تھے۔ خواجہ صاحب نے ہمیشہ اچھے ہیڈ اور چھوٹے بھائیوں کی طرح ٹریٹ کیا جب کوئی مسئلہ ہوا ان سے ذاتی طورپر مشورہ لیا تو انہوں نے ہمیشہ اچھا گائیڈ کیا۔ اب بات کروں اپنے پروڈکشن ڈپارٹمنٹ کی توہمارے انچارج کاشف بقائی بہت ہی اچھے ہیڈ،بھائی،دوست اورانسان ہیں،جنہوں نے میراہرمعاملہ میں ساتھ دیا جہاں میں صحیح تھا یاغلط مجھے نہیں معلوم۔ کاشف بھائی اپنی ٹیم کے ساتھ ہرجگہ کھڑے رہتے ہیں اورکبھی کسی کوزبردستی نہیں کہا کہ فلاں شفٹ میں آؤ یااس ٹائم آؤپی سی آر توہم پرہی چھوڑدیا تھا کہ خوداپنی شفٹ دیکھو۔ ہماراجب دل چاہتاشفٹ اورٹائم چینج کرلیتے آپس میں جوہمارے لئے بہترہوتا اورجب چاہتےبغیربتائےچھٹٰی بھی کرلیتے ۔ان تین سالوں میں یونیورسٹی سے بیچلرزبھی مکمل کیااورپارٹ ٹائم میں جاب بھی ساتھ چلائی۔ جس وقت تھوڑے حالات خراب ہوئے تو کاشف بھائی نے فل سپورٹ کیا کہ پارٹ ٹائم میں کوئی اورنوکری کرلواوراس حساب سےٹائمنگ سیٹ کرلو۔کاشف بھائی جیسا انچارج میں نے پوری میڈیاانڈسٹری یا جہاں کہیں بھی میں نے کام کیا نہیں دیکھا۔ میں کسی اورکویادرکھوں نہ رکھوں کاشف بھائی کو نہیں بھولوں گا اورساتھ اپنی پی سی آرکی ٹیم کو سب کا بے حد مشکورہوں جنہوں نے مجھے سپورٹ کیا اورآگے بڑھنے میں مدد کی۔ میڈیاانڈسٹری کےان پانچ سالوں میں بہت سے لوگوں سے ملا اوربہت کچھ سیکھا۔ آخرمیں دعاگو ہوں کہ اللہ کرے کہ میڈیاانڈسٹری دوبارہ خوشحال ہو جائے اوربہتری کی جانب گامزن ہواور اس سے وابستہ لوگوں کا روزگارچلتارہےساتھ ہی اچھا مستقبل ہو اورآئندہ آنے والے دن ان کے لئے ایک نئے امید اورترقی کا سفرہوں۔۔آمی۔۔(حسن محمد تارڑ)

How to Write for Imran Junior website
How to Write for Imran Junior website
Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں