تحریر: رانا اکرام۔۔
ملاقات کا وقت ختم ہوگیا ۔۔۔ لاہور پریس کلب کا نیٹ کیفے جیسا بھی ہے وہاں ممبران کی مصروفیات زیادہ رہتی ہیں ۔۔۔ کوئی میگزین کے لیے مواد کی تلاش میں رہتا ہے،تو کوئی کالم لکھنے میں مصروف ۔۔۔ تو کوئی واٹس ایپ پر گپ شپ کرتا دکھائی دیتا ہے ،، مجھ سمیت بہت سارے ممبران پاکستانی اور ترکی کے تاریخی ڈراموں کے دلدادہ ہیں۔۔۔ مطلب نیٹ کیفے میں رش لگا رہتا ہے اور تو اور سسٹم حاصل کرنے کے لیے بعض اوقات انتظار کی سولی پر بھی لٹکنا پڑتا ہے۔۔۔۔۔ خیر ۔۔۔ مجھ سمیت بہت سے قلم مزدوروں کی خواہش ہوتی ہے کہ رات گئے کلب پہنچنے پر چائے وغیرہ یا نیٹ کیفے پر وقت گزار کر دفتر کی تھکان کو کم کر یں۔۔ اخبارات میں کام کرنے والے سب ایڈیٹر حضرات اخبار کی کاپی بھیجنے کے بعد شب کے پچھلے پہر تین بجے پریس کلب کا رخ کرتے ہیں۔۔کچھ دوست کینٹین میں جاتے ہیں اور کچھ نیٹ کیفے ۔۔۔ لیکن کلب کی باڈی پر افسوس صد افسوس۔۔۔ پہلے نیٹ کیفے تقریباً چوبیس گھنٹے کھلا رہتا تھا اور اب دو تین روز سے ٹھیک صبح پانچ بجے کلب کا ملازم آتا ہے اور با آواز بلند کہتا ہے وقت ختم ہوگیا۔۔ کام میں مصروف جو جہاں ہوتا ہے وہی رک جاتا ہے۔۔۔ فلموں میں اکثر دیکھتے تھے قیدی سے ملاقات۔۔۔ پھر ایک اہلکار کی انٹری ہوتی ہے۔ ۔ ۔۔ ملاقات کا وقت ختم ہوگیا۔۔۔ بس ایسا ہی ہمارے کلب کے نیٹ کیفے میں ہو رہا۔۔۔ وقت ختم ہوگیا۔۔۔ کسی کا مضمون ادھورا،،، کسی کا کالم نامکمل،،،،کسی کا ریسرچ ورک کھوہ کھاتے۔۔۔ تہانوں کیہ تے سانوں کیہ۔۔۔۔۔ نیٹ کیفے سے نکلیں تو باہر اندھیرا۔۔۔ بعض دوست سرکاری بس پر گھر جاتے ہیں اور بس ساڑھے چھ بجے آتی ہے ۔۔۔ اور یوں ڈیڑھ گھنٹہ گزارنا محال ہو جاتا ہے ۔۔۔ امید ہے کلب کی باڈی پرانے اوقات بحال کر دے گی۔۔۔۔ (رانا اکرام)۔۔
(زیرنظرتحریر رانا اکرام ایکسپریس میڈیا گروپ نے سوشل میڈیا پر شیئر کی جو ان کے شکریہ کے ساتھ شائع کی جارہی ہے، جس کے متن سے عمران جونیئر ڈاٹ کام اور اس کی پالیسی کا متفق ہونا لازم نہیں۔۔علی عمران جونیئر)۔۔
