15 نومبر تک دوماہ کی تنخواہ اور دسمبر تک تمام واجبات ادا کردینگے، آج ٹی وی 33

15 نومبر تک دوماہ کی تنخواہ اور دسمبر تک تمام واجبات ادا کردینگے، آج ٹی وی

آج نیوز میں چار ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن (سی آر اے) کی جانب سے آج نیوز کے دفتر کے باہر بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں صحافیوں اور کیمرہ مینز کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور آج نیوز انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے ملازمین کی چار ماہ سے واجب الادا تنخواہیں فوری ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے آج نیوز کے سامنے بزنس ریکارڈر روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کرکے احتجاجی دھرنا بھی دیا۔احتجاجی مظاہرے میں کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یوجے)، اے سی جے اور لوکل گورنمنٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداران اور نمائندوں نے شرکت کی۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ آج نیوز انتظامیہ صحافیوں کا معاشی قتل عام بند کرے اور ملازمین کی چار ماہ سے واجب الادا تنخواہیں فوری ادا کرے۔ اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ وفاقی وزارت اطلاعات، پیمرا اور متعلقہ ادارے میڈیا ہاؤسز میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی، تاخیر اور جبری برطرفیوں کا فوری نوٹس لیں۔ میڈیا اداروں میں تنخواہوں کی تاخیر اور ملازمین کی برطرفیاں معمول بنتی جا رہی ہیں، جس کے باعث عامل صحافی شدید معاشی مشکلات اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔
احتجاج کے بعد آج نیوز انتظامیہ کی جانب سے مشترکہ صحافتی تنظیموں کے نمائندہ وفد کو مذاکرات کی دعوت دی گئی۔ انتظامیہ کی جانب سے ڈائریکٹر فنانس حماد ترین، ڈائریکٹر نیوز معصوم رضوی اور چیف رپورٹر اقتدار انور مذاکرات میں شریک ہوئے۔صحافتی تنظیموں کے وفد میں کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر سمیر قریشی، نائب صدر عبید شاہ، کے یو جے دستور کے صدر نصراللہ چوہدری، جنرل سیکریٹری ریحان چشتی، کراچی پریس کلب کے سیکریٹری اسلم خان، جوائنٹ سیکریٹری فاروق سمیع، خازن عمران ایوب، اے سی جے کے صدر دانش شکیل اور پی ایف یو جے کے اسسٹنٹ جنرل سیکریٹری جاوید چوہدری شامل تھے۔مذاکرات کے دوران آج نیوز کے ڈائریکٹر فنانس حماد ترین کا کہنا تھا کہ میڈیا ہاؤسز کی موجودہ مالی صورتحال سے صحافی بخوبی واقف ہیں۔ ادارہ اس وقت فنڈز کی کمی کے باعث مالی بحران کا شکار ہے، تاہم انتظامیہ کی ترجیحات میں اپنے ورکرز اور صحافیوں کی تنخواہوں کی ادائیگی شامل ہے۔ فنڈز کی کمی کے باعث تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر ہوئی، جس سے یہ صورتحال پیدا ہوئی۔
اس موقع پر کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن کے نائب صدر عبید شاہ نے کہا کہ 40 سے 65 ہزار روپے تک تنخواہ لینے والے ملازمین کی چار ماہ کی تنخواہیں روکنا ان کا معاشی قتل ہے۔ ملک میں مہنگائی، بے روزگاری اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، ایسے حالات میں میڈیا ہاؤسز میں تنخواہوں میں اضافہ تو درکنار، بروقت ادائیگی بھی نہیں کی جا رہی۔ طویل عرصے تک تنخواہیں نہ ملنے سے صحافیوں کے گھروں میں فاقہ کشی کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ انتظامیہ کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور ملازمین کے تمام واجبات فوری ادا کرنے چاہئیں۔
کے یو جے دستور کے جنرل سیکریٹری ریحان چشتی کا کہنا تھا کہ آج نیوز انتظامیہ کو متعدد بار مذاکرات اور احتجاج کے ذریعے باور کروایا جا چکا ہے کہ عامل صحافیوں اور ادارے کے ورکرز کی تنخواہوں کو ترجیحی بنیادوں پر ادا کیا جائے۔ تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے ملازمین شدید معاشی بحران کا شکار ہو جاتے ہیں۔ صحافتی تنظیمیں ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون کرنے کو تیار ہیں، تاہم آج نیوز انتظامیہ کا یہ رویہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ پی ایف یو جے کے اسسٹنٹ جنرل سیکریٹری جاوید چوہدری کا کہنا تھا کہ بزنس ریکارڈر میں ملازمین کو تنخواہیں بروقت ادا کی جا رہی ہیں، تاہم آج نیوز میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی انتظامیہ کی ترجیحات کا مسئلہ دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آج نیوز کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے فوری طور پر واضح شیڈول طے کیا جائے۔
مذاکرات کے دوران آج نیوز کے ڈائریکٹر فنانس حماد ترین نے صحافتی تنظیموں کے نمائندوں کو یقین دہانی کروائی کہ *15 نومبر تک ملازمین کو جولائی اور اگست کی دو ماہ کی تنخواہیں ادا کر دی جائیں گی، جبکہ دسمبر تک تنخواہوں کی ادائیگی میں پیدا ہونے والا خلا جلد مکمل کرکے بقایا جات مرحلہ وار ادا کر دیے جائیں گے۔* انہوں نے ادارے کو درپیش مالی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے صحافتی تنظیموں سے تعاون کی اپیل بھی کی۔ مشترکہ صحافتی تنظیموں کے وفد نے انتظامیہ کی جانب سے دی گئی یقین دہانی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آج نیوز انتظامیہ اپنے وعدے پر عمل درآمد کرے گی اور آئندہ ملازمین کی تنخواہیں بروقت ادا کرنے کو یقینی بنائے گی۔
بعد ازاں کے یو جے دستور کے جنرل سیکریٹری ریحان چشتی اور کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری نذیر احمد نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ نے 15 نومبر تک دو ماہ کی تنخواہیں اور دسمبر تک تمام واجبات ادا کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ صحافتی تنظیموں کے نمائندوں نے انتظامیہ کو واضح کیا کہ مشترکہ صحافتی کمیٹی اس یقین دہانی پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گی۔ مذاکرات میں طے شدہ شیڈول کے مطابق تنخواہوں اور واجبات کی ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن دیگر صحافتی تنظیموں کے ساتھ مل کر دوبارہ بھرپور احتجاج کرے گی اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام آئینی و قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔ اس ضمن میں پیمرا، وفاقی و صوبائی وزارت اطلاعات اور دیگر متعلقہ اداروں سے بھی رجوع کیا جائے گا۔مذاکرات کے بعد انتظامیہ کی یقین دہانی پر احتجاجی دھرنا پُرامن طور پر ختم کر دیا گیا۔کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ صحافیوں کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی ان کا بنیادی حق ہے اور اس حق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں