تنخواہوں میں تاخیر،واجبات کی عدم ادائیگی، میڈیا ملازمین شکایت کہاں درج کرائیں؟ 14

تنخواہوں میں تاخیر،واجبات کی عدم ادائیگی، میڈیا ملازمین شکایت کہاں درج کرائیں؟

خصوصی رپورٹ۔۔۔
پاکستان میں صحافیوں اورمیڈیا کارکنوں کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی، کئی ماہ تک واجبات روکنے اور ملازمتوں سے برطرفیوں کے بڑھتے ہوئے مسائل کے دوران یہ اہم سوال سامنے آیا ہے کہ متاثرہ ملازمین اپنے قانونی حقوق کے حصول کے لیے کن اداروں سے رجوع کرسکتے ہیں اور ان کی شکایات کے ازالے کا قانونی طریقہ کار کیا ہے۔اس حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق ملک میں ٹی وی چینلز، اخبارات اور دیگر میڈیا اداروں سے وابستہ ملازمین کے لیے شکایات درج کرانے کے مختلف قانونی اور انتظامی فورمز موجود ہیں۔ تاہم متعلقہ ادارے کا انتخاب ملازمت کی نوعیت، میڈیا کمپنی کی قانونی حیثیت اور شکایت کی نوعیت کے مطابق کیا جاتا ہے۔
الیکٹرانک میڈیا ملازمین کے لیے پیمرا میں شکایت کا حق
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے قانون میں 2023 کے دوران ہونے والی ترامیم کے بعد الیکٹرانک میڈیا کے ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور کم از کم اجرت سے متعلق شکایات متعلقہ کونسل آف کمپلینٹس میں درج کرانے کا حق حاصل ہے۔
پیمرا آرڈیننس 2002 کی ترمیم شدہ دفعہ 26 کے تحت کونسل آف کمپلینٹس کو الیکٹرانک میڈیا ملازمین کی کم از کم اجرت کی پالیسی پر عمل درآمد اور بروقت تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق شکایات وصول کرنے اور ان کا جائزہ لینے کا اختیار دیا گیا ہے۔
متعلقہ کونسل شکایت کی سماعت کے بعد اپنی سفارشات پیمرا اتھارٹی کو بھیجتی ہے، جو قانون کے مطابق مناسب فیصلہ یا حکم جاری کرسکتی ہے۔
پیمرا کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق متاثرہ کارکن شکایت متعلقہ علاقائی ڈائریکٹر، کونسل آف کمپلینٹس کے چیئرمین یا سیکریٹری، ڈائریکٹر جنرل براڈکاسٹ میڈیا آپریشنز یا چیئرمین پیمرا کو ارسال کرسکتے ہیں۔ تاہم پیمرا کا یہ اختیار بنیادی طور پر تنخواہوں کی بروقت ادائیگی اور کم از کم اجرت سے متعلق ہے۔ ہر قسم کی برطرفی، ملازمت کی بحالی یا معاہدے سے متعلق تنازع لازماً اسی فورم کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔
اخباری ملازمین کے لیے امپلیمینٹیشن ٹریبونل فار نیوزپیپر ایمپلائز ( آئی ٹی این ای)۔۔
اخبارات اور متعلقہ اداروں میں کام کرنے والے صحافیوں اور غیر صحافتی عملے کے لیے امپلیمینٹیشن ٹریبونل فار نیوزپیپر ایمپلائز (آئی ٹی این ای) ایک اہم قانونی فورم ہے۔یہ ٹریبونل اخباری ملازمین کے لیے مقرر کردہ ویج بورڈ ایوارڈز پر عمل درآمد یقینی بنانے کی غرض سے قائم کیا گیا تھا۔وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق یہ ادارہ نیوزپیپر ایمپلائز (کنڈیشنز آف سروس) ایکٹ 1973 کے تحت کام کرتا ہے اور اس کا بنیادی اختیار ویج بورڈ ایوارڈز پر عمل درآمد سے متعلق ہے۔ٹریبونل کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں قائم ہے جبکہ اس کا دائرہ اختیار پورے پاکستان پر محیط ہے۔ متعلقہ قواعد کے تحت اہل ملازمین انفرادی طور پر بھی اپنا مقدمہ دائر کرسکتے ہیں۔
تاہم ہر قسم کی بقایا تنخواہ، برطرفی یا دیگر مالی تنازع لازماً اس ٹریبونل کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ درخواست گزار کو پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کا معاملہ ویج بورڈ ایوارڈ کے نفاذ سے متعلق ہے یا کسی دوسرے قانونی فورم سے۔
نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے
میڈیا اداروں میں ملازمت کے بعض تنازعات نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن (این آئی آر سی) کے دائرہ اختیار میں بھی آسکتے ہیں۔یہ ادارہ وفاقی دارالحکومت اور ایک سے زیادہ صوبوں میں کام کرنے والے متعلقہ صنعتی اداروں کے مزدوروں کی قانونی شکایات کا جائزہ لیتا ہے۔این آئی آر سی کے طریقہ کار کے مطابق متعلقہ قانون کے تحت اہل کارکن کو عام طور پر اپنی شکایت تحریری طور پر 90 دن کے اندر آجر کے سامنے پیش کرنا ہوتی ہے۔اگر آجر 15 دن میں جواب نہیں دیتا یا ملازم جواب سے مطمئن نہیں ہوتا تو مقررہ قانونی مدت کے اندر کمیشن میں درخواست دائر کی جاسکتی ہے۔ کمیشن کی ہدایات کے مطابق متعلقہ جواب یا جواب دینے کی مدت ختم ہونے کے بعد 60 دن کے اندر درخواست دینے کی شرط لاگو ہوسکتی ہے۔یہ مدتیں ہر صوبے اور ہر نوعیت کی ملازمت کے لیے یکساں نہیں ہیں، اس لیے متاثرہ کارکن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ادارے کی قانونی حیثیت اور متعلقہ فورم کے دائرہ اختیار کی تصدیق کرے۔
شکایت درج کرانے سے قبل ضروری دستاویزات تیار کرنے کی ہدایت
قانونی ماہرین کے مطابق تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے متاثرین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی ملازمت اور واجبات سے متعلق دستیاب ریکارڈ محفوظ رکھیں۔ ان دستاویزات میں تقرری کا خط، تنخواہ کی رسیدیں، بینک اسٹیٹمنٹ، ادارے کے ساتھ ہونے والی تحریری خط و کتابت، واجب الادا تنخواہوں کی ماہ وار تفصیل اور برطرفی کی صورت میں متعلقہ نوٹس شامل ہوسکتے ہیں۔
این آئی آر سی کے قواعد کے تحت درخواست میں فریقین کی شناخت، شکایت کی نوعیت، مطلوبہ قانونی ریلیف، آجر کو بھیجے گئے شکایتی نوٹس اور اس کی وصولی کا ثبوت بھی اہم ہیں۔
صحافتی تنظیموں کا کردار بھی اہم
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) اور اس سے منسلک علاقائی صحافتی یونینز بھی متاثرہ صحافیوں کی شکایات متعلقہ اداروں تک پہنچانے اور اجتماعی نمائندگی فراہم کرنے میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ستمبر 2025 میں راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نے ایک نجی نیوز چینل کے ملازمین کی تنخواہوں اور برطرفیوں کے معاملات پر پیمرا سے رجوع کیا تھا۔ بعدازاں واجبات کی ادائیگی سے متعلق پیش رفت کو صحافتی تنظیموں نے کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اہم کامیابی قرار دیا۔
متاثرہ صحافی شکایت کہاں اور کیسے درج کرائیں؟
میڈیا کارکنوں کی سہولت کے لیے متعلقہ سرکاری فورمز کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
متعلقہ ادارہ شکایت کی نوعیت
پیمرا کونسل آف کمپلینٹس اہل الیکٹرانک میڈیا ملازمین کی تنخواہوں میں تاخیر اور کم از کم اجرت
آئی ٹی این ای اہل اخباری کارکنوں کے ویج بورڈ ایوارڈ سے متعلق دعوے
این آئی آر سی دائرہ اختیار میں آنے والے صنعتی اداروں کے اہل کارکنوں کی ملازمتی شکایات
صوبائی لیبر فورمز متعلقہ صوبائی قانون کے تحت آنے والے ملازمتی اور اجرتی تنازعات
پیمرا شکایات ہیلپ لائن 0800-73672
سرکاری ویب سائٹ: پیمرا شکایات
آئی ٹی این ای، اسلام آباد 051-9204186
سرکاری معلومات: وزارت اطلاعات و نشریات
نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن
شکایت اور قانونی طریقہ کار: این آئی آر سی کی سرکاری ویب سائٹ
تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے قانونی آگاہی ناگزیر
پاکستان میں میڈیا کارکنوں کی تنخواہوں میں تاخیر اور ملازمتوں کے عدم تحفظ کا معاملہ متعدد مرتبہ پارلیمانی سطح پر بھی زیر بحث آچکا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے بھی پیمرا اور متعلقہ اداروں کو میڈیا ملازمین کے بقایاجات کی ادائیگی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کی ہدایت کی تھی۔
ماہرین کے مطابق متاثرہ ملازمین کو صرف زبانی یقین دہانیوں پر انحصار کرنے کے بجائے مقررہ قانونی مدت کے اندر تحریری شکایت درج کرانی چاہیے۔ خاص طور پر ملازمت سے برطرفی، بقایا تنخواہوں کی وصولی اور دیگر مالی فوائد کے دعوے الگ قانونی نوعیت رکھتے ہیں، اس لیے ہر معاملے کے لیے متعلقہ فورم اور دستیاب قانونی چارہ جوئی کا تعین ضروری ہے۔
یہ بھی واضح رہے کہ کسی سرکاری ادارے میں شکایت درج کرانے سے واجبات کی فوری ادائیگی یا ملازمت پر بحالی کی ضمانت نہیں ملتی، تاہم قانونی کارروائی متاثرہ کارکن کو اپنے حقوق کے حصول کا باضابطہ راستہ فراہم کرسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں