محسن نقوی، ڈاؤن ٹو ارتھ۔۔۔۔ 14

محسن نقوی، ڈاؤن ٹو ارتھ۔۔۔۔

تحریر: امجد عثمانی۔۔۔
گزرے کل لاہور کے نیک نام مدیر جناب نوید چودھری کی دختر نیک اختر کی رخصتی کی تقریب تھی۔۔۔۔۔چودھری صاحب سے ڈیڑھ دہائی پر محیط ادب واحترام کا رشتہ ہے۔۔اس اکرام کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک نظریاتی یعنی اسلام پسند اخبار نویس ہیں۔۔۔۔ان کی زیر ادارت لاہور کے اخبار سٹی 42میں ایک سال کام بھی کیا۔۔۔۔میرج ہال میں داخل ہوتے ہی ہمدم دیرینہ جناب عظیم گوہر مل گئے۔۔۔پھر ہم اکٹھے ہی چودھری صاحب کو ملے۔۔۔مبارک باد دی اور ایک ساتھ ہی بیٹھ گئے۔۔۔۔۔عظیم گوہر بھی ہم خیال صحافی دوست ہیں۔۔۔۔ہم نے روزنامہ خبریں۔۔۔۔روزنامہ آج اور روزنامہ سٹی 42میں ایک ساتھ کام کیا۔۔۔ان دنوں وہ روزنامہ 92 کے چیف نیوز ایڈیٹر ہیں۔۔۔۔عظیم گوہر سے آج کل کرتے کوئی سال بعد ملاقات ہوئی تو اعتبار ساجد کی غزل یاد آگئی کہ ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے بھی ایک مدت بعد ملاقات کتنی تکلیف دہ ہوتی ہے ۔۔۔۔کبھی یہ ملاقات روز کا معمول بھی تھی۔۔۔۔۔۔
بہر حال پھر ہم تقریب کے اختتام تک ایک ساتھ بیٹھے جیسے کبھی نیوز روم میں پہلو بہ پہلو بیٹھا کرتے تھے۔۔۔۔تقریب میں کچھ صحافی دوستوں سے بھی کافی دیر بعد ملاقات ہوئی۔۔۔۔زاہد چودھری صاحب ملے ۔۔۔۔اعظم چودھری صاحب سے ملاقات ہوئی۔۔۔۔شہزاد بٹ صاحب اور آصف عفان صاحب سے معانقہ ہوا۔۔۔۔چاچو شعیب الدین صاحب ۔۔۔معین اظہر صاحب ۔۔۔۔حسنین چودھری صاحب ۔۔۔صفدر رشید صاحب ۔۔۔اسد شہزاد ۔۔زوہیب وقار ۔۔۔۔بک ہوم کے رانا اور اور رانا عاطف بھی ملے۔۔۔۔خبریں۔۔۔اج کل اور سٹی 42کے رفقائے کار مرحوم عامر ندیم اور حنیف عاصم کو مس کیا۔۔۔عامر ندیم کے صاحب زادے مصطفے عامر کو مل کر کچھ ڈھارس بندھی۔۔۔ہماری خوش بختی کہ اسی نشست گاہ پر جامعہ اشرفیہ لاہور کے وضع دار نائب مہتمم جناب حافظ اسعد عبید بھی تشریف لے آئے۔۔۔۔ان کے ساتھ برادرم مولانا مجیب الرحمان بھی تھے۔۔۔۔پھر قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کے پنجاب میں سیکرٹری اطلاعات حافظ غضنفر عزیز بھی شریک مجلس ہوگئے۔۔۔۔۔اس سے بھی بڑی خوش نصیبی کہ کچھ دیر بعد جامعہ اشرفیہ لاہور کے شیخ الحدیث جناب مفتی احمد علی نے بھی زیارت کا شرف بخشا اور مصافحے معانقے کے بعد ہمارے ساتھ ہی بیٹھ گئے۔۔۔۔مفتی احمد علی صاحب کیا ہی خوب صورت عالم دین ہیں۔۔۔۔۔ایک خاک نشین آدمی جنہیں دیکھ کر خدا یاد آجاتا ہے۔۔۔ان کے ایک جملے نے مجھے ان کا گرویدہ بنادیا۔۔۔۔کچھ سال پہلے ہمارے دوست طارق عزیز کی بیٹی کے نکاح پر انہوں نے اپنے خطبے میں بیٹی کو کیا خوب نصحیت کی کہ بیٹی زندگی کے نئے سفر میں کہنا نہیں سہنا سیکھیں زندگی خوشگوار ٹھہرے گی۔۔۔۔پھر میں نے انہیں جناب تنویر عباس نقوی کی صاحب زادی کے نکاح کے لیے بھی درخواست کی اور اس جملے کے بھی۔۔۔۔انہوں نے بڑی خوش دلی سے نکاح پڑھایا اور نقوی صاحب کی بیٹی کو بھی یہی جملہ نصیحت کیا۔۔۔۔مفتی صاحب اتنے معتبر شیخ الحدیث ہیں کہ مولانا طارق جمیل صاحب بھی ان سے رہنمائی لے لیتے ہیں۔۔۔۔۔شاید یہی وجہ ہے کہ مولانا طارق جمیل نے بحریہ ٹاؤن کی جامع مسجد کے لیے بطور پہلے خطیب مفتی صاحب کو ریکمنڈ کیا تھا۔۔۔۔۔میں نے چند سال پہلے مفتی صاحب کی سیادت میں مولانا طارق جمیل سے اکلوتی ملاقات پر کہا کبھی ہمارے صحافیوں کو بھی خطاب کیجیے۔۔۔۔کہنے لگے جب کہیں۔۔۔۔میں نے کہا کہ آپ سے رابطہ تو جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔۔۔۔کہنے لگے کہ یہ مفتی احمد علی صاحب میرا رابطہ نمبر ہیں۔۔۔کچھ عرصہ پہلے میں مفتی صاحب کو ملنے گیا تو مجھے اپنے ساتھ اپنی حدیث کی کلاس میں لے گئے۔۔۔۔یوں میں نے بھی ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیے اور ان کی دل موہ لینے والی گفتگو سنی۔۔انہوں نے اپنے طلبہ کے سامنے جس طرح میرا تعارف کرایا وہ میرے لیے باعث صد افتخار ہے۔۔۔۔۔مفتی صاحب نے کلاس روم کے دروازے پر جامعہ اشرفیہ کے استاد اور گورنمنٹ ایم اے او کالج کے لیکچرار جناب ڈاکٹر ماہر جمیل کو دیکھتے ہی کہا کہ مجھے اپنے اس شاگرد پر فخر ہے ۔۔۔۔انہوں نے ماہر صاحب کے لیے بھی ایک جملہ بھی کہا ۔۔۔۔جملہ کیا تھا وہ بھی ان کے لیے سند تھی۔۔۔۔کہنے لگے اگر اللہ نے مجھے پوچھا کہ احمد علی اپنے پیچھے کیا چھوڑ آئے ہو تو میں کہوں گا کہ ڈاکٹر ماہر جمیل کو۔۔۔۔۔۔بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔۔۔۔ہم لوگ محو گفتگو تھے کہ اچانک وزیر داخلہ جناب محسن نقوی بھی ادھر آگئے۔۔۔سب سے مصافحہ کیا اور مفتی صاحب کے احترام میں جھک کر معانقہ کیا۔۔۔۔گمان ہی نہیں ہوا کہ ایک طاقت ور وزیر داخلہ ہمارے درمیان موجود ہیں۔۔۔۔وپی سادگی اور عاجزی جو میں نے 13سال پہلے ان کے ادارے میں جوائننگ کے وقت دیکھی تھی۔۔۔ایک ڈائون ٹو ارتھ آدمی۔۔۔۔بہر حال یہ اچھی تقریب تھی۔۔۔اللہ کریم نوید چودھری صاحب کی صاحب زادی اور ہماری بھتیجی کے مقدر اچھے کرے۔۔۔۔ان کے گھر پر برکتوں کی برکھا فرمائے۔۔۔۔۔!!!!(امجد عثمانی)۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں