میڈیا ملازمین کیلئے خوشخبری: دھمکی،تذلیل،توہین آمیز سلوک بھی ہراسمنٹ قرار۔۔ 18

میڈیا ملازمین کیلئے خوشخبری: دھمکی،تذلیل،توہین آمیز سلوک بھی ہراسمنٹ قرار۔۔

قومی اسمبلی نے کام کی جگہ پر ہراسانی کے دائرہ کار سے متعلق اہم قرارداد منظور کرلی، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ہراسانی صرف جنسی نوعیت کے رویوں تک محدود نہیں بلکہ صنفی امتیاز، دھمکانے، تذلیل کرنے، توہین آمیز سلوک اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی صورت میں بھی سامنے آسکتی ہے۔وی نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں یہ قرارداد رکن قومی اسمبلی اور خواتین پارلیمانی کاکس کی سیکریٹری ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے پیش کی، جسے ایوان نے منظور کرلیا۔قرارداد میں پارلیمنٹ کے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت انسانی وقار کے تحفظ اور آرٹیکل 25 کے تحت شہریوں کی برابری کے اصولوں کے مطابق ہر فرد کو کام کی جگہ پر ہراسانی اور صنفی امتیاز کی تمام اقسام سے تحفظ فراہم کیا جائے گا۔کام کی جگہ پر ہراسانی کو صرف جنسی نوعیت کے رویوں تک محدود نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس میں صنفی بنیادوں پر امتیاز، دھمکانا، تذلیل، توہین آمیز سلوک، مخالفانہ رویہ اور اختیارات کا ناجائز استعمال بھی شامل ہے، خواہ ان کا تعلق جنسی نوعیت کے طرز عمل سے ہو یا نہ ہو۔
ایوان نے کام کی جگہ پر خواتین کو ہراسانی سے تحفظ دینے کے قانون 2010 اور اس میں 2022 میں کی گئی ترامیم کے تحت حاصل قانونی تحفظات کی توثیق بھی کی۔ قرارداد کے مطابق قانون صنفی بنیادوں پر ہونے والے جنسی اور غیر جنسی دونوں طرح کے امتیازی سلوک کو ہراسانی کے دائرے میں تسلیم کرتا ہے۔قرارداد میں مزید واضح کیا گیا کہ کسی جنسی پیش قدمی یا مطالبے کی عدم موجودگی سے صنفی بنیادوں پر ہونے والی ہراسانی یا امتیازی سلوک کی سنگینی کم نہیں ہوجاتی۔ کسی فرد کے وقار کو ہراسانی کی مختلف اقسام کے درمیان محدود فرق کی بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور قانون کے دائرے میں آنے والے ہر عمل سے یکساں سنجیدگی، انصاف اور جواب دہی کے ساتھ نمٹا جانا چاہیے۔ قومی اسمبلی نے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ موجودہ قانون پر اس کی مکمل روح کے مطابق عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور کسی بھی فرد کو محض اس وجہ سے قانونی تحفظ سے محروم نہ رکھا جائے کہ اس کے ساتھ ہونے والی ہراسانی یا صنفی امتیاز جنسی نوعیت کا نہیں تھا۔قرارداد میں کہا گیا کہ ایسا ماحول جہاں ہراسانی، تذلیل اور صنفی امتیاز نہ ہو، کوئی رعایت نہیں بلکہ انسانی وقار، مساوات اور انصاف کی بنیادی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں