خاتون اینکر،کیمرہ مین کے خلاف جھوٹے مقدمہ 19

خاتون اینکر،کیمرہ مین کے خلاف جھوٹے مقدمہ

الیکٹرانک میڈیا رپورٹرز ایسوسی ایشن (ایمرا) پاکستان کے مرکزی صدر محمد آصف بٹ، مرکزی سیکرٹری جنرل انور رضا، سنٹرل پنجاب ایمرا کے صدر چوہدری شہباز آرائیں، اپر پنجاب ایمرا کے صدر تیمور اقبال جدون اور جنوبی پنجاب ایمرا کے جنرل سیکرٹری تاج غوث نے میڈیا 92 کی خاتون اینکر پرسن اور کیمرہ مین کے خلاف مبینہ جھوٹ پر مبنی مقدمہ درج کیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت، صحافیوں کے وقار اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے ایک تشویشناک اقدام قرار دیا ہے۔ایمرا پاکستان کے رہنماؤں نے کہا کہ صحافت کے عالمی دن کے موقع پر ایک خاتون اینکر پرسن کو مبینہ طور پر جھوٹا وقوعہ تشکیل دے کر ہراساں کرنا اور کیمرہ مین کو بھی مقدمے میں ملوث کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ صحافیوں کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی سے روکنے، دباؤ میں لانے اور خوفزدہ کرنے کے لیے قانونی کارروائیوں کو بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا ورکرز معاشرے میں حقائق عوام تک پہنچانے اور مظلوموں کی آواز حکام تک پہنچانے کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ اگر صحافیوں اور بالخصوص خواتین صحافیوں کو اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران ہراسانی، تشدد اور جھوٹے مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا تو اس سے نہ صرف آزادیٔ صحافت متاثر ہوگی بلکہ عوام کے حقِ معلومات کو بھی نقصان پہنچے گا۔ایمرا پاکستان کے عہدیداران نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف، آئی جی پنجاب پولیس اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ میڈیا 92 کی خاتون اینکر پرسن اور کیمرہ مین کے خلاف درج مقدمے کا فوری نوٹس لیا جائے، واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں اور اگر کسی مافیا یا سرکاری اہلکار کی جانب سے اختیارات کا ناجائز استعمال، ہراسانی یا جھوٹا مقدمہ درج کروانے میں کردار ثابت ہو تو ان کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔ایمرا رہنماؤں نے مزید کہا کہ کسی بھی قبضہ مافیا یا بااثر گروہ کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ سرکاری اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے صحافیوں کو ہراساں کرے اور انہیں سچ سامنے لانے سے روکنے کی کوشش کرے۔ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے اور صحافیوں کو بھی آئین و قانون کے تحت مکمل تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خواتین صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں، صحافیوں پر تشدد، ہراسانی، دھمکیوں اور جھوٹے مقدمات کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر قانون سازی کی جائے اور صحافتی فرائض کی انجام دہی کے دوران پیش آنے والے واقعات کے فوری ازالے کے لیے باقاعدہ نظام قائم کیا جائے۔ایمرا پاکستان کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ آزادیٔ صحافت کا تقاضا ہے کہ صحافی بلا خوف و خطر اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دے سکیں۔ کسی بھی صحافی یا میڈیا ورکر کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر ایمرا خاموش نہیں رہے گی اور صحافیوں کے حقوق، عزت، تحفظ اور آزادیٔ صحافت کے لیے ہر متعلقہ فورم پر بھرپور آواز بلند کرتی رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں