صحافی تحقیق کے بعد خبر فائنل کریں، سی سی پی او لاہور۔۔۔۔ 13

صحافی تحقیق کے بعد خبر فائنل کریں، سی سی پی او لاہور۔۔۔۔

سی سی پی اولاہوربلال صدیق کمیانہ نے لاہورپریس کلب کے پروگرام گیسٹ آف آنر میں شرکت کی۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران اور ڈی آئی جی انوسٹی گیشن ذیشان رضابھی اس موقع پر موجود تھے۔ لاہورپریس کلب کے صدر ارشد انصاری ،سینئر نائب صدر سلمان قریشی، جنرل سیکرٹری افضال طالب اور جوائنٹ سیکرٹری عمران شیخ نے معزز مہمانوں کوکلب آمد پر خوش آمدید کہا۔ صدر ارشد انصاری نے کہاکہ ہمارے لئے اعزازکی بات ہے کہ آج ہمارے درمیان سی سی پی اولاہوربلال صدیق موجود ہیں جنہوں نے قانون کی بالادستی کو قائم کرکے لاہورمیںنہ صرف جرائم پرقابوپایاہے بلکہ شہرکو امن کا گہوارہ بھی بنادیاہے۔ سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ انھیں لاہورپریس کلب آکر بہت خوشی محسوس ہورہی ہے ، پولیس اور صحافیوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے،جرائم کے واقعات کو رپورٹ کرنا صحافیوں کا کام ہے لیکن کچھ عناصر کرائم رپورٹ نہیں کرتے بلکہ پراپیگنڈہ کرتے ہیں ،اس پراپیگنڈہ سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی بدنامی ہوتی ہے۔ انھوں نے کہاکہ لاہور شہر میں جرائم کی وارداتوں میں کمی واقع ہوئی، لاہور میں کوئی قبضہ گروپ یا بدمعاش یا انڈر ورلڈ نہیں ہے ،شہر میں سنگین جرائم کی وارداتوں میں کمی واقع ہوئی ہے ، پچھلے تین سالوں میں دس لاکھ کیسز حل کئے، منشیات کے خلاف بڑا کریک ڈاﺅن جاری ہے، ہزاروں منشیات فروش گرفتار کئے، تقریبا ڈیڑھ ارب روپے کی ریکوری کی، اشتہاری ملزمان کے خلاف گھیرا تنگ کیا گیا اور ہزاروں اشتہاری پکڑے گئے۔ انھوں نے مزید کہاکہ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم میں بھی واضح کمی واقع ہوئی، خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم میں جھوٹے مقدمات کی تعداد زیادہ ہے، خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کے زیادہ تر واقعات کے مقدمات خارج ہوئے، زیادہ تر مقدمات مخالفین کو پھنسانے کے لئے درج کئے گئے۔ ان کا کہناتھاکہ کرپشن کے خلاف پولیس اور اینٹی کرپشن کارروائیاں کررہی ہے،عوام سے اپیل ہے کہ کرپشن کی شکایت پولیس افسران کو بتائیں۔ انھوں نے صحافیوں کے مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہاکہ خبر کو کبھی چھپانا نہیں چاہیئے بلکہ حقائق کی تحقیق کے بعد اسے جاری کرناچاہیے۔ انھوں نے کہاکہ کرائم کو کنٹرول کرنا ہمارا کام ہے،بعض اوقات خبروں کا منفی اثر آتا ہے،باہر بیٹھے لوگوں کے سامنے پاکستان کا منفی چہرہ جاتا ہے،وہ چیزیں بتائیں جو حقائق پر ہیں،تیس سال سے مختلف حوالوں سے لاہور میں سروس کرتا رہا،گذشتہ دو سالوں میں لاہور میں جیسے جرائم پر قابو پایا گیا وہ پہلے کبھی نہیں ہوا، کرائم فیگرز کو ون فائیو کی کال پر جانچا جاتا ہے،لاہور سیف سٹی ہے، اس بات کو انشور کیا جاتا ہے کہ یہاں کوئی بھتہ خور، بدمعاش نہ ہو،خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم وزیر اعلی کی ریڈ لائن ہیں ، پولیس کی پرفامنس سنگین جرائم پر پرکھی جاتی ہے جس میں قتل، موٹر سائیکل سنیچنگ، رابری شامل ہیں،مرڈر میں منفی نو، ڈکیتی میں منفی چوالیس، رابری میں منفی چھیاسٹھ فیصد پر ہیں،پچھلے تین سال میں دس لاکھ کیسز ڈسپوز آف کیئے گئے، منشیات کے خلاف آپریشن میں سوا چھ ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا،چوبیس سو دس گینگز ابھی تک پکڑے، ایک ارب اکاون کروڑ کی ریکوری پچھلے سال میں کی گئی، چودہ ہزار سے زائد بی اور پینسٹھ سو سے زائد اے کیٹگری کے اشتہاری گرفتار کیئے گئے، تین سو پینسٹھ کے دو ہزار چوبیس میں چرانوے فیصد، پچیس میں پچانوے اور چھبیس میں چراسی فیصد کیسز خارج ہوئے ،جو لوگ خواتین بارے غلط کیسز درج کروائے گے ان کے خلاف اینٹی ریپ ایکٹ کے تحت کارروائی ہو گی، بعض اوقات لوگ مخالفین سے بدلہ لینے کے لیئے بچوں کو بھی استعمال کرتے ہیں، تفتیش کے بعد اکانوے فیصد مقدمات خارج ہوئے ، وزیراعلی کی طرف سے کرپشن پر زیرو ٹالرنس ہے ، اینٹی کرپشن بھی کام کر رہا ہے اور ہم اپنے طور پر بھی خود احتسابی کر رہے ہیں، ڈیانا نے پہلے سے ایک سو چونسٹھ کا بیان دیا ہوا ہے،تفتیشی ونگ میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے،انوسٹی گیشن ونگ کو آپریشنز ونگ سے الگ کرنے کا مقصد یہی تھا کہ تفتیش بہتر ہو،قوانین میں بھی بہت سی ترامیم کی ضرورت ہے۔اس موقع پر ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بتایاکہ خواتین اور بچوں کے خلاف ہر درخواست پر مقدمہ درج کیا جاتا ہے، ون فائیو کی کال میں واضح کمی آئی ہے، صحافیوں کو بھی چاہئے کہ خبر کی تحقیق کے بعد خبر فائنل کی جائے، غیر تصدیق شدہ خبر زیادہ تر غلط ثابت ہوتی ہے،ان خبروں سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی بدنامی ہوتی ہے۔انھوں نے کہاکہ مریم اورنگزیب نے کل کال پر کہا کہ بہت سے لوگ مینوفیکچرر ہیں جن کے پاس لائسنس بھی ہے پھر بھی پولیس وہاں چھاپے مار رہی ہے،کل ہی اس حوالہ سے احکامات دیئے ہیں کہ جن کے پاس لائسنس ہے انہیں سٹوریج سے منع نہ کیا جائے اورلائسنس کی پابندی بھی کروانی ہے، ایف آئی آر درج کروانا ہر شہری کا حق ہے ، لاہور میں کوئی بھی مقدمہ ایسا نہیں جو پولیس درج نہ کیا جائے، کرائم الحمداللہ بہت کم ہوا ہے ، اس شہر میں ایک وقت میں ایک ماہ کے دوران نو ہزار سے زائد کالز ہوتی تھیں، اب ان کالز کی تعداد آٹھ سو تک آ گئی ہے، لاہور میں کوئی آرگنائزڈ گینگز کام نہیں کر رہے،حکومت چاہتی ہے کہ لاہور ٹورازم کا سپاٹ بنے ،بعض اوقات مس رپورٹنگ پوری دنیا میں آپکا امیج متاثر کرتی ہے،حقائق پر مبنی رپورٹنگ ہونی چاہیئے، لاہور دنیا کے دو سو چھیاسی شہروں سے جرائم کے حوالہ سے بہتر ہے۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا نے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ بچوں اور خواتین کے خلاف درج مقدمات ننانوے فیصد ٹریس ہوگئے ہیں،خواتین اور بچوں کے اغواءکے واقعات اولین ترجیح ہیں، جب بھی کوئی شکایت دہندہ پولیس کے پاس آتا ہے تو ہمیں ایف آئی آر درج کروانا ہے، ایسے معاملہ میں مدعی کا ریکارڈ بھی چیک کیا جاتا ہے، پہلے بھی بہت سے اینٹی ریپ ایکٹ کے تحت جو مقدمات درج ہوئے وہ ایسے ہی ہوئے۔گیسٹ آف آنرپروگرام کے اختتام پر معزز مہمانوں کوکلب کی جانب سے یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں