کراچی پریس کلب میں بریسٹ کینسر آگاہی سیشن۔۔۔۔ 22

کراچی پریس کلب میں بریسٹ کینسر آگاہی سیشن۔۔۔۔

کراچی پریس کلب، IMPAKT (Innovative Methods for Promoting Advancement, Knowledge and Transformation) اور عیسیٰ لیبارٹری کے مشترکہ تعاون سے بریسٹ کینسر سے آگاہی کے لیے خصوصی سیشن منعقد کیا گیا، جس میں ماہر ڈاکٹروں نے خواتین کو چھاتی کے سرطان کی علامات، خود معائنے کے طریقہ کار، بروقت تشخیص، طبی معائنے اور صحت مند طرزِ زندگی کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ مقررین نے زور دیا کہ خواتین سماجی جھجھک اور مصروفیات کے باعث اپنی صحت کو نظرانداز نہ کریں، کیونکہ بیماری کی بروقت تشخیص اور مناسب علاج بہتر نتائج اور قیمتی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عطروبہ اسماعیل نے کہا کہ بریسٹ کینسر کے خلاف مؤثر جدوجہد کے لیے آگاہی، ابتدائی علامات کی شناخت اور بروقت طبی مشورہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنے جسم میں ہونے والی غیر معمولی تبدیلیوں پر توجہ دیں اور کسی بھی علامت کو معمولی سمجھ کر نظرانداز کرنے کے بجائے فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔انہوں نے چھاتی کے سرطان کی ممکنہ علامات بیان کرتے ہوئے کہا کہ چھاتی کی شکل یا سائز میں غیر معمولی تبدیلی، جلد پر گڑھے پڑنا، نپل کا اندر کی جانب دھنسنا، نپل سے خون یا غیر معمولی رطوبت کا اخراج اور بغل میں نئی گلٹی محسوس ہونا ایسی علامات ہیں جنہیں سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہر گلٹی سرطان نہیں ہوتی، تاہم اس کی اصل وجہ جاننے کے لیے طبی معائنہ ضروری ہے۔ڈاکٹر عطروبہ اسماعیل نے خواتین کو خود معائنے کے طریقہ کار سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اپنی چھاتی اور بغلوں میں کسی نئی گلٹی یا تبدیلی پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ ماہواری کے بعد خود معائنہ کرنے سے بعض خواتین کے لیے اپنے جسم کی معمول کی کیفیت کو سمجھنا آسان ہوسکتا ہے، جبکہ ماہواری بند ہونے کے بعد بھی باقاعدگی سے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ تاہم خود معائنہ باقاعدہ طبی معائنے یا میموگرام کا متبادل نہیں، بلکہ آگاہی اور ابتدائی طور پر تبدیلی محسوس کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین اکثر گھر، بچوں اور خاندان کی ذمہ داریوں میں اس قدر مصروف ہوجاتی ہیں کہ اپنی صحت کے لیے وقت نہیں نکال پاتیں۔ خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنی صحت کو ترجیح دیں اور ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق ضروری معائنہ اور اسکریننگ کروائیں۔ چالیس سال کی عمر کے بعد بریسٹ کینسر کی اسکریننگ پر خصوصی توجہ دینا اہم ہے، تاہم میموگرام کی ضرورت اور مناسب وقت کا تعین عمر، ذاتی خطرات اور طبی مشورے کی روشنی میں کیا جانا چاہیے۔ڈاکٹر عطروبہ اسماعیل نے خاندانی تاریخ کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر خاندان میں بریسٹ کینسر یا دیگر متعلقہ سرطان کی تاریخ موجود ہو تو اس بارے میں معالج کو ضرور آگاہ کیا جائے، تاکہ انفرادی خطرے کے مطابق مناسب اسکریننگ اور طبی معائنے کا فیصلہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ بریسٹ کینسر صرف خواتین تک محدود نہیں، مرد بھی اس مرض کا شکار ہوسکتے ہیں، اس لیے مردوں کو بھی چھاتی میں گلٹی، نپل سے خون آنے یا جلد میں غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں طبی معائنہ کروانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ بیماری کی ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہونے سے علاج کے بہتر نتائج کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس لیے کسی علامت کے ظاہر ہونے پر انتظار کرنے یا گھریلو ٹوٹکوں پر انحصار کرنے کے بجائے مستند معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔ڈاکٹر فرحانہ فیروز قذافی نے صحت مند طرزِ زندگی، متوازن غذا اور جسمانی سرگرمیوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خواتین اپنی خوراک پر خصوصی توجہ دیں، جنک فوڈ اور اضافی چینی کا استعمال محدود کریں اور پھلوں، سبزیوں سمیت متوازن غذا کو روزمرہ معمول کا حصہ بنائیں۔ صحت مند وزن برقرار رکھنا اور باقاعدہ جسمانی سرگرمیاں بھی مجموعی صحت کے لیے مفید ہیں۔ڈاکٹر فرحانہ فیروز قذافی نے کہا کہ خواتین کو بیماری یا جسم میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے شرم اور جھجھک محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ سماجی دباؤ، غلط فہمیوں اور ہچکچاہٹ کے باعث بعض خواتین بروقت ڈاکٹر سے رجوع نہیں کرتیں، جس سے تشخیص میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنے صحت کے مسائل اہلِ خانہ اور معالج کے ساتھ بلاجھجھک بیان کریں اور ضرورت پڑنے پر طبی مدد حاصل کریں۔انہوں نے کہا کہ خواتین گھر، بچوں، شوہر، والدین اور دیگر رشتوں کی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھاتی ہیں، لیکن انہیں اپنی صحت کو بھی اتنی ہی اہمیت دینی چاہیے۔ ایک صحت مند عورت اپنے خاندان کی بہتر دیکھ بھال کرسکتی ہے، اس لیے خواتین کو اپنی صحت کے بارے میں فیصلے کرنے اور ضروری طبی معائنہ کروانے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ڈاکٹر فرحانہ فیروز قذافی نے مزید کہا کہ چھاتی یا بغل میں کسی گلٹی اور غیر معمولی تبدیلی کو معمولی سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ ہر گلٹی سرطان کی علامت نہیں ہوتی اور بعض اوقات انفیکشن یا دیگر وجوہات بھی اس کا سبب ہوسکتی ہیں، تاہم درست تشخیص کے لیے ڈاکٹر سے معائنہ اور ضرورت کے مطابق ٹیسٹ کروانا ضروری ہے۔ماہر ڈاکٹرز نے اپنے پیغام میں کہا کہ بریسٹ کینسر سے بچاؤ اور اس کے مؤثر علاج کے لیے درست معلومات، بروقت تشخیص اور مناسب طبی رہنمائی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ خواتین اور مردوں دونوں کو چاہیے کہ وہ جسم میں ہونے والی غیر معمولی تبدیلیوں کو نظرانداز نہ کریں، علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی مشورہ لیں اور اپنی عمر و انفرادی خطرے کے مطابق ضروری اسکریننگ کروائیں۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ بیماری سے متعلق خاموشی اور جھجھک کے بجائے آگاہی کو فروغ دیا جائے، تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد بروقت طبی مدد حاصل کرسکیں۔اس موقع پر کراچی پریس کلب کے سیکرٹری اسلم خان نے آگاہی سیشن کے انعقاد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحت سے متعلق ایسے پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ خواتین بریسٹ کینسر جیسے اہم مسئلے پر کھل کر بات کررہی ہیں اور آگاہی سیشنز میں شرکت کرکے مستند معلومات حاصل کررہی ہیں۔اسلم خان نے کہا کہ ماضی میں ایسی بیماریوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سماجی جھجھک اور ہچکچاہٹ محسوس کی جاتی تھی، تاہم اب یہ رکاوٹیں بتدریج کم ہورہی ہیں۔ خواتین کی ایسے پروگراموں میں شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ اپنی صحت کے حوالے سے زیادہ باخبر ہورہی ہیں اور ضروری اقدامات کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے کراچی پریس کلب کی خواتین کمیٹی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں بھی صحت اور سماجی اہمیت کے حامل موضوعات پر ایسے آگاہی پروگرام منعقد کیے جانے چاہئیں۔کراچی پریس کلب کے سیکرٹری نے IMPAKT کی بانی و شریک بانی رباب ابراہیم، مونا صدیقی اور کلثوم جہاں کی کوششوں کو بھی سراہا اور امید ظاہر کی کہ باہمی تعاون سے خواتین اور صحافی برادری کے لیے صحت، آگاہی اور فلاح و بہبود سے متعلق مزید پروگراموں کا انعقاد جاری رہے گا۔تقریب کے اختتام پر کراچی پریس کلب کی روایت کے مطابق سیکرٹری کراچی پریس کلب اسلم خان نے مہمان ڈاکٹرز کو کراچی پریس کلب کی جانب سے اعزازی شیلڈز اور اجرک کے تحائف پیش کیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں