سوشل میڈیا پر مکمل پابندی حل نہیں، شزہ فاطمہ خواجہ۔۔۔۔ 33

سوشل میڈیا پر مکمل پابندی حل نہیں، شزہ فاطمہ خواجہ۔۔۔۔

وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر مکمل پابندی حل نہیں، بچوں کا آن لائن تحفظ یقینی بنانا ہوگا،سخت پابندیاں انہیں غیر منظم اور زیادہ خطرناک پلیٹ فارمز کے استعمال کی طرف دھکیل دیتی ہیں، اصل چیلنج نوجوان نسل کو جدید ٹیکنالوجی سے مکمل محروم کیے بغیر ان کے لیے ایک محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنا ہے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بچوں کے تحفظ کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں کو مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے، یہاں گزشتہ روز میٹا کے زیر اہتمام ڈیجیٹل تحفظ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے،صدر زندگی ٹرسٹ شہزاد رائے نے کہا ہمارے بچے تیزی سے ڈیجیٹل ہوتی دنیا میں پروان چڑھ رہے ہیں، ہماری ذمہ داری ہے کہ انہیں اس دنیا میں محفوظ طریقے سے آگے بڑھنے کی مہارتیں دیں اور آن لائن ان کی فلاح یقینی بنائیں،سمٹ کا انعقاد وزارت آئی ٹی ، وزارت انسانی حقوق، پی ٹی اے، سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی ، نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ اور زندگی ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا گیا، وفاقی وزیر نے کہا بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق آگاہی کو بڑے شہروں سے نکل کر ملک کے کونے کونے تک پہنچانا ہوگا، پاکستان کے دیہی اور دور دراز علاقوں میں بھی بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق شعور اجاگر کرنا ضروری ہے، والدین، اساتذہ اور بچوں کو آن لائن خطرات سے آگاہ کرنا اجتماعی ذمہ داری ہے، انہوں نے کہا میٹا جیسی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو آن لائن تحفظ سے متعلق آگاہی مہمات میں مزید فعال کردار ادا کرنا چاہیے، بچوں اور والدین تک آن لائن تحفظ کے پیغامات پہنچانے کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں کو فعال اقدامات کرنا ہوں گے، وفاقی وزیر نے کہا پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق آگاہی مہمات چلا رہی ہے، بچوں کو انٹرنیٹ کے ممکنہ نقصانات سے بچانے کے لیے والدین اور اساتذہ کی رہنمائی ناگزیر ہے، بچوں کے لیے ایسا ماحول ضروری ہے جہاں وہ آن لائن مسائل پر بلا جھجھک بات کر سکیں، شزہ فاطمہ نے کہا بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے آگاہی، مؤثر اقدامات اور کھلے مکالمے کو فروغ دینا ہوگا، ڈیجیٹل تحفظ کے اقدامات اسی وقت مؤثر ہوں گے جب عوام ان سے آگاہ ہوں اور انہیں استعمال کرنا جانتے ہوں، بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق گفتگو کو ہر کلاس روم، ہر استاد اور ہر والدین تک پہنچانا ہوگا، نوجوانوں، والدین اور اساتذہ کے لیے محفوظ ڈیجیٹل ماحول کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے، آن لائن تحفظ کے بارے میں آگاہی صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں