تحریر: محمد طاہر۔۔
سندھ حکومت نے فیک نیوز اور گمراہ کن اطلاعات کی روک تھام کیلئے محکمہ اطلاعات میں مؤثر مانیٹرنگ نظام وضع کرنے اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سے معاونت لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیرصدارت محکمہ اطلاعات کے اہم اجلاس میں سیکریٹری اطلاعات کاشف گلزار شیخ، ڈی جی اطلاعات معز پیرزادہ اور تمام ڈائریکٹرز نے شرکت کی۔
ذرا ان ناموں کی فہرست پر غور کریں اور ان کی صلاحیت کا اندازہ لگائیں، شرجیل انعام میمن سمیت ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے، جو فیک نیوز تو کجا نیوز کو بھی سمجھتا ہو، یہ فیصلہ کریں گے کہ فیک نیوز کیا ہوتی ہے؟ یہ ادارہ جاتی نظام وضع کریں گے، جن پر خود طرح طرح کے الزامات ہیں اور جن میں سے کچھ نیب کو مطلوب بھی رہے ہیں۔
اس معاملے میں پہلا اور بنیادی سوال یہ ہے کہ "فیک نیوز قرار دینے کا اختیار کس کے پاس ہوگا، وہ اختیار کس معیار کے تحت استعمال ہوگا، اور اگر ریاست خود فریق ہو تو ریاست کے دعوے کی تصدیق کون کرے گا"؟اسی منظرنامے کا دوسرا پہلو زیادہ سنگین ہو کر سامنے آتا ہے جب یہ سوال اُٹھایا جائے کہ "اگر کسی حکومت پر عوامی اعتماد کم ہو، یا وہ خود خبر میں فریق ہو، تو فیک نیوز کے فیصلے کا ادارہ جاتی ڈیزائن کیسا ہونا چاہیے"؟
فرض کریں کہ سندھ حکومت کے شعبہ اطلاعات کے اشتہاراتی نظام پر سوال اُٹھایا جائے اور یہ پوچھا جائے کہ ایک وزیر اطلاعات یعنی شرجیل انعام میمن اپنے ہی ٹی وی چینلز رکھتا ہو، اپنے ہی اخبارات رکھتا ہو، اور اگر وہ اپنے ہی ادارے کو سب سے زیادہ یا پھر محتاط الفاظ میں غیر متوازن طور پر اشتہارات سے نوازتا ہو تو یہ خبر کیسے لی جائے گی؟ فیک یا حقیقی خبر! پھر اس خبر کا تعین کرنے والا ادارہ کون سا ہے؟ وہی نا جو اشتہارات کی بندر بانٹ میں ملوث ہے۔ تو پھر یہ نگرانی کا پورا نظام دراصل نگرانی نہیں بلکہ اپنی بدعنوانیوں کو چھپانے یا اس پر بات کرنے کا راستہ روکنے کا ایک بھیانک جال بن جاتا ہے۔ اس پہلو کا ازالہ کیسے ہوگا؟
اب اس معاملے کا سب سے پہلا قدم یعنی سب سے بڑا سوال اُٹھاتے ہیں کہ فیک نیوز کی تعریف کون کرے گا؟
خبر میں یہ کہا گیا ہے کہ “فیک نیوز کی بروقت نشاندہی، تصدیق اور تدارک کے لیے مؤثر نظام وضع کیا جائے۔”مگر خبر میں یہ بنیادی چیز واضح ہی نہیں کہ یہاں ویری فیکیشن اتھارٹی کون ہوگی؟ اگر محکمہ اطلاعات ہی خبر تلاش کرے، وہی خبر کو مشکوک بھی قرار دے، پھر اس کی تصدیق بھی کرے، وہی حکومت کا مؤقف طے کرے، اور این سی سی آئی اے کو کارروائی کے لیے بھیجے (جس کا خود اپنا قیام ایک کالے قانون کے تحت عمل میں آیا ہے اور جس کے اقدامات پر بنیادی انسانی حقوق کے ادارے سوال بھی اُٹھا چکے ہیں) تو یہاں ایک بنیادی ادارہ جاتی مفادات کے ٹکراؤ کی صورت پیدا ہو گی۔ اب آئیے ایک سچویشن سے سمجھتے ہیں کہ
ایک صحافی کہتا ہے کہ “سندھ حکومت کے ایک منصوبے میں مالی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔” جو روز کا معمول بھی ہے۔
اب حکومت کہتی ہے:
“یہ فیک نیوز ہے۔”
اب سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ حکومت نے کیا کہا۔
اصل سوال ہوگا:
حکومت کے دعوے اور صحافی کے دعوے میں آزادانہ فیکٹ فائنڈنگ کون کرے گا؟ یہی وہ سیف گارڈ ہے جو موجودہ اعلان میں نمایاں طور پر بیان نہیں کیا گیا۔ بہت جلد سندھ حکومت اس فیصلے سے ایک بہت بڑا مذاق بننے والی ہے۔(محمد طاہر)۔۔۔
30