سینئر صحافی رہنما ضیاء اللہ نیازی نے انکشاف کیا ہے کہ تقریباً تین دہائیوں کی صحافت میں سرکاری اداروں کے دروازے کھٹکھٹائے، افسران سے سوال کیے، تلخیاں بھی دیکھیں اور اختلافات بھی۔ مگر یہ تجربہ قدرے منفرد تھا کہ ایک سرکاری محکمے کے گیٹ پر صحافیوں کو یہ کہہ کر روک دیا جائے کہ ’’میڈیا والوں کے داخلے پر پابندی ہے‘‘—اور پوچھنے پر بتایا جائے کہ پابندی کا کوئی تحریری حکم نہیں، صرف سیکرٹری صاحب کا زبانی حکم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سینئر صحافی جاوید اقبال کے ہمراہ محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر پنجاب گئے۔ معمول کے مطابق سیکرٹری صاحب سے ملاقات مطلوب تھی، مگر گیٹ پر ہی روک دیا گیا۔
سوال سادہ ہے: کیا کسی سرکاری محکمے میں صحافیوں کے داخلے پر زبانی حکم کے ذریعے پابندی لگائی جا سکتی ہے؟ اگر یہ حکومت پنجاب کی پالیسی ہے تو تحریری حکم سامنے آنا چاہیے۔ اگر یہ کسی افسر کا ذاتی فیصلہ ہے تو پھر اس فیصلے کی قانونی حیثیت اور ضرورت بھی واضح ہونی چاہیے۔آخر صحافیوں کو محکمہ میں داخل ہونے سے روکنے کی نوبت کیوں آئی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ حکومت پنجاب کے سینکڑوں ارب روپے کے اعلان کردہ منصوبوں کی صرف وہی تصویر عوام تک پہنچے جو سرکاری پریس ریلیزز اور ہینڈ آؤٹس میں دکھائی جاتی ہے، جبکہ میڈیا کو زمینی حقیقت جانچنے سے دور رکھا جائے؟ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ صحافی سرکاری دفاتر میں سیر کے لیے نہیں جاتے۔ وہ سوال پوچھتے ہیں، دعووں کی تصدیق کرتے ہیں، منصوبوں کی پیش رفت دیکھتے ہیں اور عوام کو بتاتے ہیں کہ اعلان کہاں تک حقیقت بنا۔سرکاری ادارے عوام کے ٹیکس سے چلتے ہیں۔ ان کے فیصلوں، منصوبوں اور اربوں روپے کے اخراجات کے بارے میں سوال کرنا میڈیا کا حق بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ اس لیے متعلقہ حکام سے صرف اتنا سوال ہے:اگر پابندی ہے تو اس کا تحریری حکم اور قانونی جواز سامنے لائیں۔اور اگر کوئی تحریری حکم موجود نہیں تو پھر یہ بتایا جائے کہ محکمہ کے گیٹ پر صحافیوں کو کس کے حکم پر روکا جا رہا ہے؟ یہ محض ایک گیٹ کا مسئلہ نہیں۔ یہ اس بنیادی سوال کا معاملہ ہے کہ کیا سرکاری ادارے عوام اور میڈیا کے لیے کھلے ہیں یا اب ’’زبانی احکامات‘‘ کے ذریعے سوال پوچھنے والوں کے لیے دروازے بند کیے جا رہے ہیں؟ کیونکہ اگر صحافی کو سرکاری ادارے کے دروازے پر ہی روک دیا جائے اور اسے صرف سرکاری ہینڈ آؤٹ تک محدود کر دیا جائے تو پھر عوام تک پہنچنے والی خبر مکمل تصویر نہیں، صرف سرکاری تصویر ہوگی جبکہ ایک صحافی کا کام سرکاری تصویر دکھانا نہیں، اصل تصویر سامنے لانا ہے۔
61