وفاقی وزیر مذہبی امور و چئیر مین صوبہ ہزارہ تحریک سردار محمد یوسف نے ہزارہ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں صوبوں اور انتظامی یونٹس سے متعلق قومی مباحثہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پورے ملک سے آواز اٹھ رہی ہے کہ چھوٹے یونٹ، صوبے بنانے چاہئیں صوبے اشد ضرورت ہیں، آج سے کئی سال پہلے بننا چاہئے تھا اسمبلیوں میں یہ بات وقتا فوقتاً اٹھتی رہی ہے ایک نہیں کئی قراردادیں آچکی ہیں اب اس پر باضابطہ طریقے سے بات ہونی چاہئے ، بحث ہونی چاہئے چھوٹے یونٹ اختیارات کے ساتھ بنائیں جائیں اختیارات کے ذریعے عوام کو سہولت ملے گی تمام پارٹیاں متفق ہیں، سب کا مطالبہ ہے کہ صوبہ ہزارہ بننا چاہئے ہم اقتدار میں ہوئے نہ ہوئے ہم نے یہ تحریک چلائی ہے ہمیں امید ہے کہ مزید صوبے بنیں گے پاکستان میں ڈویژن بن سکتے ہیں تو صوبے کیوں نہیں بن سکے، کوئی علیحدہ ملک تو نہیں بنانا قومی مباحثہ میں نظامت کے فرائض ہزارہ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر لقمان شاہ اور جنرل سیکرٹری نوید الرحمان نے سر انجام دیئے، تقریب سے سینیٹر طلحہ محمود ، سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی، استحکام پاکستان پارٹی کے ایم این اے گل اصغر خان، تحریک انصاف کے ایم این اے شہزادہ گشتاسپ خان ، ایم پی اے سونیا شاہ ، سینئر صحافی عمار مسعود، ایم کیو ایم کے صفیان چیمہ ایڈووکیٹ ،پروفیسرسجاد قمر،جنید قاسم ،سرداریاسر کڑلال نے بھی خطاب کیاجبکہ فنانس سیکرٹری محمد پرویز،نائب صدر ملک مرتضیٰ، سیکرٹری اطلاعات ارشد خان تنولی، راحیل سواتی، عادل خان، محبوب الرحمان تنولی، سبوخ سید، شکیل پسوال ، ابرار ولی،یاسر نذر،عمیرخان آباد ،عبد الرشید خان، سلطان اعوان،بلال فریدسمیت بڑی تعداد میں صحافی شریک ہوئے ۔اس موقع پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ہم ہزارہ صوبے کے حوالے سے آواز اٹھاتے رہے ہیں میں نے 2010 میں سینیٹ میں اس حوالے سے آواز بلند کی تھی صوبہ ہزارہ پر ہم بہت عرصے سے بات کر رہے ہیں 4 سو ارب روپیہ اگر این ایف سی ایوارڈ کے تحت دیا جاتا ہے کیا 100 ارب ضلعوں تحصیلوں کے اندر پہنچ رہا ہے؟ چترال کو بھی علیحدہ صوبے کا حصہ بنانا چاہئے خیبرپختونخوا سے ہٹ کر علیحدہ صوبہ ہونا چاہئے پورا مالاکنڈ ایک صوبہ بننا چاہئے سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کہا کہ یہاں پہ حکومت ایک پہیئے پہ چل رہی ہے عوام اس حکومت میں کہیں نہیں ہیں اسٹیٹس کو کوئی آپشن نہیں ہے یہ صوبے بنانا اس وقت پاکستان کی ضرورت ہے صوبائی اسمبلیوں نے متفقہ قراردادیں پاس کی ہوئی ہیں اس کے باوجود آپ روک کے بیٹھے ہوئے ہیں۔صوبے بننے کی بات پاکستان کے مفاد کی بات ہے وہ لیڈر جو اس کو روکنے کی کوشش کریں گے تو ان کے پیچھے ان کے اپنے پارلیمنٹیرینز بھی نہیں ہوں گے اگر صوبے نہ بنائے تو ملک میں انارکی پھیلے گی۔ قراردادیں ایک دفعہ پاس ہونے کے بعد کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ اس طرح کل دنیا کہے گی کہ کشمیر کی قرار داد ختم ہو گئی ہے۔ صوبوں کی قرارداد اگر ختم کرنی ہے تو اس کے خلاف قرارداد پاس کروانی ہو گی تحریک انصاف کے ایم این اے شہزادہ گشتاسپ خان نے کہا کہ کوئی بھی تحریک ہوتی ہے تو اس کے پیچھے مقصد ہونا چاہئے یہ انتظامی معاملہ ہےںبہتر گورننس کے لئے جتنا چھوٹا یونٹ ہوگا اچھا ہوگا یہ نفرت کی بنیاد پر نہیں ہے کہ ہم صوبہ چاہتے ہیں جتنا چھوٹا یونٹ ہو گا اتنا بہتر اسے مینج کر سکیں گے استحکام پاکستان کے رہنماء پارلیمانی سیکرٹری برائے مواصلات گل اصغر خان نے کہا ہے کہ ہماری پارٹی نے اس پر بہت زیادہ بحث کی یہ بہت پہلے ہو جانا چاہئے تھا ابھی بھی اس میں دیر نہیں کرنی چاہئے امریکہ 60 ریاستوں میں تقسیم ہے، چین نے 32 ریاستیں بنا رکھی ہیں بھارت میں 28 یونٹس ہیں انتظامی یونٹس بن جاتے ہیں تو نقصان کیا ہے؟ جتنا جلدی ممکن ہو صوبے بننے چاہئیں۔
58
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل