تحریر: علی انس گھانگھرو
کبھی کبھی کسی صحافی کا قتل صرف ایک فرد کا قتل نہیں ہوتا، بلکہ یہ معاشرے کے ضمیر، اظہارِ رائے کی آزادی اور سچ بولنے کے حق پر حملہ ہوتا ہے۔ صحافی جب قلم اٹھا کر عوام کے مسائل، ظلم، ناانصافی اور جرائم کو سامنے لاتا ہے تو وہ صرف خبر نہیں لکھتا بلکہ معاشرے کی آنکھ اور کان کا کردار ادا کرتا ہے۔ ایسا ہی صحافتی کردار شہید جان محمد مہر کا تھا، جنہیں 13 اگست 2023ء کو سکھر کے وسط شہر میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔
ان کی شہادت کو تین سال مکمل ہوچکے ہیں، لیکن انصاف اب بھی منزل سے دور دکھائی دیتا ہے۔ جان محمد مہر صرف کاوش اور کے ٹی این نیوز کے بیورو چیف نہیں تھے بلکہ سندھ کی صحافتی دنیا میں اپنی منفرد شناخت رکھنے والے صحافی تھے۔ ان کا 27 سالہ صحافتی سفر جدوجہد، محنت، مشکلات اور مسلسل کوششوں سے عبارت تھا۔ انہوں نے سکھر اور شمالی سندھ کے عوامی مسائل، انتظامی نااہلی، جرائم، سیاسی سرگرمیوں، ظلم، جبر اور سماجی معاملات کو اپنی صحافت کا موضوع بنایا۔ ان کی رپورٹنگ میں عام آدمی کی آواز کو خصوصی اہمیت حاصل تھی۔ وہ ان معاملات کو بھی اجاگر کرتے تھے جن پر بات کرنا ہر کسی کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ جان محمد مہر نے اپنے صحافتی سفر کے دوران کئی مشکل مراحل دیکھے، مشکلات برداشت کیں اور مختلف حالات کا سامنا کیا، لیکن اپنے کام اور مشن سے کبھی ایک قدم پیچھے نہیں ہٹے۔ وہ جانتے تھے کہ صحافت کا اصل مقصد صرف خبر دینا نہیں بلکہ سچ کو سامنے لانا اور مظلوم کی آواز کو طاقتور بنانا ہے۔ 13 اگست 2023ء کی وہ رات سندھ کی صحافتی تاریخ کا ایک سیاہ باب بن گئی، جب جان محمد مہر کو سکھر کے وسط شہر میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔ ایک ایسا صحافی جو دوسروں کے دکھ اور مسائل عوام تک پہنچاتا تھا، خود ایسی خبر بن گیا جس نے سندھ کی پوری صحافتی برادری کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان کے قتل کے بعد صحافتی تنظیموں، سیاسی جماعتوں، وکلا، سول سوسائٹی اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے قاتلوں کی گرفتاری اور شفاف انصاف کے لیے احتجاجوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ سکھر سے کراچی اور سندھ کے مختلف شہروں سمیت چاروں صوبوں میں ریلیاں، مظاہرے اور دھرنے دیے گئے۔ کاوش اور کے ٹی این نیوز کی جانب سے ایس ایس پی آفس سکھر اور ڈی آئی جی آفس سکھر کے سامنے احتجاج کیا گیا، جبکہ کراچی پریس کلب پر بھی احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے کراچی پریس کلب سے سندھ کے وزیراعلیٰ ہاؤس تک ریلی نکالی گئی۔ ان احتجاجوں کا مقصد ایک ہی تھا: جان محمد مہر کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے اور شہید صحافی کے خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔ حکومت کی جانب سے بھی مختلف اوقات میں تحقیقات اور مرکزی ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے وعدے کیے گئے۔ سندھ حکومت کی جانب سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم قائم کرنے کے بار بار اعلانات کیے گئے، تاہم تحقیقاتی افسر کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم قائم نہیں ہوسکی۔ سندھ کے آئی جی کی جانب سے پہلی تحقیقاتی کمیٹی ڈی آئی جی جاوید عالم اوڈھو کی سربراہی میں قائم کی گئی، تاہم اس کی رپورٹ تاحال عوام کے سامنے نہیں آسکی۔ اس کے بعد دوسری تحقیقاتی کمیٹی ڈی آئی جی عبدالحمید کھوسو کی سربراہی میں قائم کی گئی، لیکن اس حوالے سے بھی کوئی حتمی رپورٹ سامنے نہیں آسکی۔ یہ صورتحال کئی سوالات اٹھاتی ہے۔ آخر ایک صحافی کے قتل جیسے سنگین واقعے کی تحقیقات میں اتنی تاخیر کیوں؟ اگر حکومت خود تحقیقاتی کمیٹیاں قائم کرتی ہے تو ان کی رپورٹس عوام کے سامنے کیوں نہیں آتیں؟ اگر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم قائم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا تو وہ عملی طور پر کیوں قائم نہیں ہوسکی؟ جان محمد مہر کے قتل کے بعد سکھر پولیس میں کئی افسران کے تبادلے ہوچکے ہیں۔ مختلف اوقات میں ایس ایس پی سنگھار ملک، عرفان سموں، شیراز زبیر شیخ، ثمیر نور چنا، عابد بلوچ اور امجد شیخ سکھر کے ایس ایس پی مقرر رہے، جبکہ ایس ایس پی اطہر مغل بھی تعینات رہے ہیں۔ اسی طرح ڈی آئی جی کی سطح پر بھی جاوید جسکانی، عبدالحمید کھوسو، پیر محمد شاہ اور فیصل عبداللہ چاچڑ سمیت مختلف افسران تبدیل ہوچکے ہیں، جبکہ ناصر آفتاب پٹھان کو اضافی چارج دیا گیا ہے۔ پولیس افسران کی تبدیلیوں کے اس طویل سلسلے کے باوجود بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے: جان محمد مہر کے قاتل کب قانون کے کٹہرے میں لائے جائیں گے؟ کچے کے علاقے میں جاری پولیس آپریشن کے حوالے سے بھی مختلف اوقات میں بات ہوتی رہی، لیکن یہ آپریشن انتخابات سے قبل ہی ختم کردیا گیا۔ اس وقت بھی امید ظاہر کی گئی تھی کہ جان محمد مہر کے قتل میں ملوث مرکزی ملزمان تک قانون نافذ کرنے والے ادارے پہنچ جائیں گے، لیکن یہ امید اب تک پوری نہیں ہوسکی۔ آج جب جان محمد مہر کے قتل کو تین سال مکمل ہوچکے ہیں تو ان کے خاندان کے لیے وقت کا ہر دن ایک نئی اذیت لے کر آتا ہے۔ ایک خاندان اپنا پیارا کھو دے اور پھر تین سال تک انصاف کا انتظار کرے، اس درد کو شاید وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے اپنا کوئی عزیز اچانک کھویا ہو۔ جان محمد مہر کے قتل کیس میں کچھ نامزد ملزمان ضمانت پر آزاد ہیں، جبکہ بعض مرکزی نامزد ملزمان کی گرفتاری اب تک عمل میں نہیں آسکی۔ ان ملزمان کے خلاف عائد الزامات عدالت میں حتمی طور پر ثابت ہونے تک قانونی طور پر صرف الزامات ہی تصور کیے جائیں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایک صحافی کے قتل کو تین سال گزرنے کے باوجود کیس میں مطلوبہ پیش رفت کیوں نظر نہیں آتی؟ سکھر کی انسداد دہشت گردی عدالت میں کیس کی سماعت جاری ہے، تاہم حالیہ سماعت بھی جج کے رخصت پر ہونے کے باعث بغیر کارروائی کے 3 ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔ عدالتوں میں مقدمات کا قانونی عمل اپنی جگہ، لیکن مقتول صحافی کے اہلخانہ کے لیے ہر ملتوی ہونے والی سماعت ایک نئے انتظار اور نئی مایوسی کا سبب بنتی ہے۔ تین سال کا عرصہ کم نہیں ہوتا۔ انصاف کی رفتار ایسی ہونی چاہیے جو ورثا کی امید کو زندہ رکھے، نہ کہ ہر نئی تاریخ کے ساتھ مایوسی میں اضافہ کرے۔ جان محمد مہر کا قتل صرف ایک خاندان کا نقصان نہیں۔ یہ صحافتی برادری کا نقصان ہے، یہ آزادیِ اظہار کا نقصان ہے اور ان ہزاروں لوگوں کا نقصان ہے جو صحافی کے ذریعے اپنے مسائل کی آواز اعلیٰ ایوانوں تک پہنچاتے ہیں۔ آج بھی شمالی سندھ میں جہاں ظلم، جبر، قتل، ناانصافی اور عوام کے ساتھ زیادتیاں موجود ہیں، وہاں جان محمد مہر کی صحافتی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ ان کی رپورٹنگ کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ وہ عام آدمی کی تکلیف کو اپنی خبر کا مرکز بناتے تھے۔ ان کے جانے سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کئی مظلوموں کی ایک مضبوط آواز خاموش ہوگئی ہو۔ ان کے ساتھی صحافی آج بھی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جان محمد مہر کا آخر قصور کیا تھا؟ کیا یہ کہ وہ صحافی تھے؟ کیا یہ کہ وہ خبر کو خبر کی طرح عوام تک پہنچاتے تھے؟ کیا یہ کہ وہ اپنے قلم کے ذریعے ان معاملات کو اجاگر کرتے تھے جن پر خاموش رہنا آسان تھا؟ ان سوالات کے جواب نعروں، مذمتی بیانات یا وعدوں سے نہیں بلکہ شفاف تحقیقات، مضبوط قانونی کارروائی اور عدالت کے فیصلے کے ذریعے ملنے چاہئیں۔ ریاست کی ذمہ داری صرف قاتلوں کو گرفتار کرنے تک محدود نہیں۔ ریاست کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ تحقیقات مضبوط ہوں، گواہوں کو تحفظ حاصل ہو، شواہد قانونی معیار کے مطابق جمع کیے جائیں اور مقدمہ عدالت میں مؤثر انداز میں آگے بڑھے۔ صحافیوں کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہیں تو ان پر عملدرآمد بھی نظر آنا چاہیے، کیونکہ صحافی کا تحفظ دراصل عوام کے معلومات حاصل کرنے اور اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ ہے۔ جان محمد مہر کو راستے سے ہٹا دیا گیا، لیکن ان کی آواز کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی رپورٹس، صحافتی خدمات اور عوامی مسائل کے حوالے سے ان کی آواز آج بھی ان کے ساتھیوں اور قارئین کی یادوں میں زندہ ہے۔ کچھ لوگ زندگی کے بعد بھی تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ جان محمد مہر بھی ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اپنی جستجو، محنت اور جدوجہد سے صحافت میں کامیابی کی کئی منزلیں طے کیں اور بالآخر اپنی جان بھی قربان کردی۔ ان کی شہادت سندھ کی صحافت کے لیے کسی بڑے زلزلے سے کم نہ تھی۔ آج ان کی شہادت کے تین سال مکمل ہونے پر سندھ کو خود سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ کیا صحافی کا خون اتنا سستا ہے کہ قاتل برسوں تک قانون کی گرفت سے بچتے رہیں؟ اگر جواب ”نہیں“ ہے تو پھر جان محمد مہر کے مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے عملی اقدامات نظر آنے چاہئیں۔ جان محمد، تم بچھڑ گئے ہو، مگر بھلائے نہیں گئے۔ آج بھی کئی زبانوں پر تمہارا نام ہے۔ جان محمد صرف ایک فرد کا نام نہیں بلکہ مظلوموں کے حقوق کے لیے اٹھنے والی آواز کا نام تھا۔ کاوش اور کے ٹی این نیوز سے اٹھنے والی وہ آواز آج خاموش ضرور ہوئی ہے، لیکن ان کا مشن آج بھی جاری ہے۔ شہید جان محمد مہر کے خاندان، صحافتی برادری اور سندھ کے عوام کا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ قانون حرکت میں آئے، تحقیقات مکمل کی جائیں، مرکزی ملزمان کو گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور شفاف عدالتی عمل کے ذریعے انصاف فراہم کیا جائے۔ جان محمد مہر کو تین سال گزر گئے، لیکن انصاف کی امید آج بھی زندہ ہے۔ ان کا قلم خاموش ہوا ہے، ان کا مشن نہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے خون سے انصاف کیا جائے، تاکہ مستقبل میں کسی اور جان محمد مہر کو اپنے فرض کی قیمت اپنی جان سے ادا نہ کرنا پڑے۔(علی انس گھانگھرو)۔۔۔
38