نائنٹی ٹو نیوز لاہور کے نیوز روم میں گزشتہ روز سیلری آتے ہی اچانک ہلچل مچ گئی۔ایک شفٹ انچارج کے کنٹرولر بنتے ہی استعفے آنے شروع ہو گئے۔ایوننگ شفٹ میں ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے سینئر رن ڈاؤن پروڈیوسر مستعفی ہو گئے۔ اور آج ایک سینیئر اسائنمنٹ ایڈیٹر نے بھی استعفی دے دیا۔ جبکہ مسلسل نائٹ شفٹ کے باعث مختلف بیماریوں کے شکار ایک اور اسائنمنٹ ایڈیٹر نے بھی استعفی تیار کر لیا ہے۔استعفے ادارے کی پالیسیوں کی وجہ سے دیے جا رہے ہیں کہ نیوز روم میں شام کی شفٹ میں لوگ پورے نہیں، صرف ایک یا دو لوگوں کے ساتھ شفٹ بھگتائی جا رہی ہے۔ چھٹی کرنا ممکن نہیں رہا اگر ایمرجنسی ہو جائے تو چھٹی پر تنخواہ کاٹ لی جاتی ہے۔ مستعفی سینئر اسائنمنٹ ایڈیٹر اس بات سے دلبرداشتہ ہوا کہ وہ اپنی اہلیہ کی بیماری کے باعث سب کو بتا کر چھٹی گیا واپسی پر سب رپورٹس دکھائیں مگر کنٹرولر بننے والے شفٹ انچارج نے 9 دن کی تنخواہ کٹوا دی، حیران کن بات یہ ہے کہ گزشتہ سال اسی اسائنمنٹ ایڈیٹر کو اسکی اپنی شادی پر بھی چھٹی نہیں دی گئی تھی اور 15 دن کی تنخواہ کاٹ لی گئی تھی۔ورکرز دشمن پالیسیوں کی وجہ سے ادارے کی ساکھ اس قدر متاثر ہو چکی ہے کہ کئی آسامیاں خالی ہونے پر لوگوں کو انٹرویو کے لیے کالز کی جارہی ہیں لیکن ان دو شفٹ انچارجوں کے غیر پیشہ ورانہ اور آمرانہ رویے کی شہرت کے باعث کوئی بھی وہاں کام کرنے کو تیار نہیں ہو رہا۔
