تحریر: سلمان لطیف۔۔
سماء ٹی وی میں گزارے ہوئے 16 سالوں پر نظر ڈالی جائے تو واقعی خوشگوار احساس اور خوبصورت یادیں تازہ ہوتی ہیں اچھی تنخواہ میرٹ پر بھرتیاں عزت و احترام کا رشتہ (جس زمانے میں سماء لاؤنچ ہوا اس وقت تمام چینلز میں سماء کی تنخواہ قابل ذکر تھی) میڈم فرحت بشیر ایج۔آر ہیڈ تھیں۔ طاہر اکرام ، طارق علی ، اظہر محمود چیف ٹیکنیکل تھے دیکھا جائے تو چینل کا ڈھانچہ بنانے والے یہ ہی لوگ تھے کیونکہ چینل کے لئے سب سے ضروری ٹیکنیکل فیسیلیٹیز ہوتی ہیں ( چند ایک نام بھول رہا ہوں اس کے لئے معزرت) اور ان سب کے سربراہ ظفر صدیقی صاحب مرحوم (اللّٰہ ان پر رحمتیں نازل فرمائے) جو انسان دوست اور سب سے بڑھ کر ملازمین دوست مالک تھے کاروان چلتا رہا اونچ نیچ کے دور اتے جاتے رہے مگر سماء کو عروج دینے والے ڈائریکٹر ٹیکنیکل شاہد الرحمن صاحب جو جدید ترین ٹیکنالوجی کو متعارف کرتے رہےتھے اور ڈائریکٹر نیوز ندیم رضا صاحب اور ڈائریکٹر پروگرامز سرور موسوی جن کی بنائی ہوئی سٹریٹیجک و پلاننگ پر بعد میں انے والوں نے اپنی خوب دوکانیں چمکائی , ظفر صاحب بیمار ہوئے ڈائریکٹ انٹر ایکشن کافی کم ہوگیا اور چینل کی اعلیٰ انتظامیہ ہی مالک بن بیٹھی تھی ڈائریکٹر نیوز فرحان ملک کا دور بھی آیا جس میں سماء ٹاپ تھری میں شمار ہونے لگا یہ الگ بات ہے کہ ان کو زیادہ تر عجیب نام سے پکارا جانے لگا تھا جس کا زکر مناسب نہیں ( ان کی بد زبانی اور بدتمیزی کی وجہ سے ) بہرحال ادارہ ترقی کرتا چلاگیا کوئی راتوں رات بیورو چیف بن گیا تو کوئی ایڈیٹر ایکزیکٹیو پروڈیوسر، اندھے میں ریوڑیاں کھل کر بنٹ رہی تھی بس پریشانی یہ تھی کہ نوکری محفوظ تصور نہیں کی جاسکتی تھی بنا چاپلوسی والوں کے لئے تھوڑا سخت ماحول تھا مگر ابھی تک کوئی شخص ہارٹ اٹیک سے مرا نہیں تھا اور پھر فیصلہ ہوا کی چینل علیم خان صاحب کو بیچا جائےگا ظفر صاحب نے ٹاؤن ہال میں علیم صاحب کو بتایا یہ ملازمین میرے بچے ہیں اعلان کیا کہ اچھے لوگوں کو چینل دیا ہے آپ کو تنخواہ کی کبھی پریشانی نہیں ہوگی اور ہوا بھی ایسا ہی علیم خان بھی اچھے اور انسان دوست ثابت ہوئے تنخواہیں بڑھادی گئی بونس کا اضافہ ہوا چینل لاہور شفٹ ہوا تو ایک صاحب رات دن آفس میں نظر آنے لگے “شاہد الرحمن” کام کام کام خوش اخلاق شریف النفس، خان صاحب کا حکم آیا کہ کسی کو نکالا نہیں جائے گا جانے والوں کو وقتی رہائش اور تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے گا چینل شفٹ کی تمام تر زمہ داری شاہد الرحمن صاحب پر تھی جو انہوں نے احسن طریقے سے نبھائی اب تک دو ڈائریکٹر نیوز تبدیل ہو چکے ہیں شاہد الرحمن کی وکٹ اپنوں نے گرادی تنخواہوں کے ساتھ ساتھ ہارٹ اٹیک کا ریشو لاہور ہیڈ آفس میں بڑھ گیا کچھ دن پہلے ایک صاحب ہسپتال گئے اپنا تعرف کرایا کہ سماء سے ہوں تو ڈاکٹر حیران ہوگیا کہ اپ لوگوں کو کیا ہو رہا ہے ہحرحال نوکری سے نکالنے جانا میڈیا کے لئےکوئی نئی بات نہیں مگر جنہوں نے آپ پر بھروسہ کیا گھر بار منتقل کئے اپنے ہی ملک میں پردیس کاٹی ان کے ساتھ ناانصافی انہیں ذہنی تناؤ کا سبب بن رہی ہے اب تک تین لوگ کوفن باکس میں کراچی لائے جاچکے ہیں کافی ساروں نے استعفیٰ دے دیا ہے کافی سارے اپنی باری کے انتظار میں ہیں اور جب ایسے میں علی عمران جونئیر نے لکھنا شروع کیا تو انتظامیہ نے بھونڈا طریقہ اپنایا اور خود ساختہ تعریفی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کی جانے لگی میں بحیثیت صحافی یا میڈیا ورکر عمران بھائی کو سلام کرتا ہوں کہ سفید بالوں والا دھان پان سا انسان جس کی لکھاوٹ نے مجبور کردیا کہ سماء جیسا بڑا ادارہ خود نمائی پر مجبور ہوگیا ہونا تو یہ چائیے تھا کہ ان کی لکھائی پر تنقید یا تصدیق کی جاتی مگر ہوا یوں کہ کردار کشی شروع ہوگئی ۔۔۔ مجھے امید ہے کہ خان صاحب کو پتہ بھی نہیں ہوگا کہ ان کے مشیر کیا گل کھلا رہے ہیں کیونکہ خان صاحب کی سخاوت کا میں خود بھی گواہ ہوں (کراچی سینٹرل جیل میں ایک عظیم الشان ہسپتال تیار کرایا ہے بنا کسی پبلیسٹی کے ) یقیناً ان کو دیکھنا چاہئے کہ ان کے مشیروں میں کون چوہدری ہے کون سلطان ہے کون ترانہ یا قومی ترانہ ہے۔۔(سلمان لطیف)۔۔
