تحریر: سید بدرسعید۔۔
یہ شخص تصویر میں جتنا کمزور نظر آ رہا ہے حقیقی زندگی میں اس سے بھی زیادہ کمزور ہے ۔اتنا کمزور کہ پھونک ماریں تو زمین پر گر جائے لیکن اپنے کام کے معاملے میں وہ چراغ ہے جو پھونکوں سے نہیں بجھتا ۔
دستیاب تاریخ کے مطابق علی عمران جونیئر 1992 کے لگ بھگ اس وقت کے بڑے اور طاقتور اخبار نوائے وقت گروپ کے رپورٹر تھے ۔ اس لیے اگر کوئی یہ کہے کہ علی عمران جونیئر کہاں کا صحافی ہے تو یہ بات وہی کہہ سکتا ہے جسے صحافت میں زیادہ عرصہ نہ ہوا ہو یا پھر اس کا علم محدود ہو ۔ آج رپورٹنگ کرنے والے کئی صحافی اس وقت سکول میں پڑھتے تھے جب یہ شخص کراچی جیسے مشکل شہر میں رپورٹنگ کر رہا تھا ۔ 34 سال سے زیادہ عرصہ کی صحافت کے باوجود وہ آج بھی اپنے نام کے ساتھ “جونیئر ” لکھتے ہیں جو کہ نام نہاد اور خود ساختہ سینئرز پر ایک طنز ہے کہ یہاں دو سال صحافت کرنے کے بعد لوگ خود کو سینیئر صحافی کہلوانے لگتے ہیں
علی عمران کئی بڑے میڈیا ہاؤسز میں رہے ۔ بول نیوز زیر عتاب آیا تو یہ وہاں تھے ۔ اس وقت یہ میڈیا ورکر کی ایسی طاقتور احتجاجی آواز بن کر سامنے آئے کہ یوجیز بہت پیچھے رہ گئیں ۔پھر ہجرت کرنی پڑی اور لاہور کے میڈیا ہاؤس میں نیوز چینل کے شفٹ انچارج کے عہدے پر کام کرتے رہے ۔ بول کی بندش کے ساتھ ہی انہوں نے ویب سائٹ بنائی اور میڈیا ورکرز کے مسائل اور ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی خبریں بریک کرنے لگے ۔
یہ ویب سائٹ پاکستان بھر کے میڈیا مالکان اور ڈائریکٹرز کے لیے خوف کی علامت بن گئی تو دوسری طرف میڈیا ورکرز کے لیے امید کی کرن بنی ۔ جہاں یونین ناکام ٹھہریں وہاں علی عمران کی ویب سائٹ کامیاب رہی ۔ اس شخص پر میڈیا مالکان نے مقدمات درج کروائے ، طاقتور اینکرز اور ڈائریکٹرز نے نوٹس بھجوائے لیکن یہ ڈٹا رہا ۔ وہ وقت بھی آیا جب اس جرم کی پاداش میں علی عمران پر ہی نہیں ان کے بیٹے پر بھی میڈیا ہاؤسز کی ملازمت کے دروازے بند کر دیے گئے ۔ یہ مشکل وقت تھا لیکن یہ وقت بھی اس کمزور سے شخص کو “بریک ” نہ کر سکا ۔ علی عمران نے بکنے یا جھکنے کی بجائے اپنے بیٹے کو پرائم ٹائم کے ٹی وی پروگرام سے ہٹا کر آئی ٹی انڈسٹری میں بھیج دیا۔ وہ بھی اتنا فرماں بردار نکلا کہ باپ پر الزام دھرنے کی بجائے باپ کا بازو بن گیا ۔ اس وقت جنہیں لگتا تھا بیٹے کو باپ کی کمزوری بنا دیں گے آج وہ ناکام رہے اور وہی بیٹے آئی ٹی انڈسٹری کے ایکسپرٹ بن کر پورا گھر سنبھالنے لگے ۔ انٹرنیشنل مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے ۔ جہاں ہزاروں میں تنخواہ لینی تھی وہاں لاکھوں روپے کمانے لگے ۔
میڈیا انڈسٹری میں علی عمران جونیئر کا دوست ہونا جرم ہے ۔ ایسے واقعات بھی ہوئے کہ پریس کلب میں کوئی صحافی ان کے ساتھ بیٹھ کر چائے پیتا تو میڈیا ہاؤس کے ایچ آر کی جانب سے وہ تصویر اسے واٹس ایپ کر کے کہا گیا آپ کی ملازمت ختم ہو گئی ہے ۔لوگ دوستی اور تعلق کے باوجود ملنے سے ڈرنے لگے تھے ۔ علی عمران جونیئر نے یہ وقت بھی صبر سے گزارا ۔
مجھے کبھی بھی اپنی دوستی چھپانے کی ضرورت نہیں پڑی ۔ میں اس وقت بھی علی عمران سے دھڑلے سے ملتا اور تصاویر اپلوڈ کرتا تھا جب میڈیا انڈسٹری میں یہ سنگین جرم سمجھا جاتا تھا ۔ مجھے پی ایچ ڈی سے سلسلے میں کراچی رہنا پڑا تو کئی ملاقاتیں ہوئیں ۔ اس لیے میں جانتا ہوں علی عمران نے بےروزگاری اور مشکل وقت کیسے گزارہ ہے ۔اس نے لفافہ لینا ہوتا تو لائن لگی ہوئی تھی ۔ مینج ہونا ہوتا تو کوئی مشکل نہ تھی ، بے راہ روی کا شکار ہوتا تو میں ذاتی طور پر ایسے میسجز سے واقف ہوں جو اینکرز کی جانب سے میری موجودگی میں موصول ہوئے لیکن اس بندے کا جواب تھا کہ میں “ملاقات” نہیں کرتا ۔
اس نے حقیقی معنوں میں کہا اور سمجھا کہ “رازق اللہ ہے “۔
مجھے یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ میری درخواست پر علی عمران نے اپنی ایک خبر مینج کر دی تھی ۔ ہوا یہ کہ ایک چینل کی ٹاپ اینکر سے متعلق دھماکے دار خبر شائع ہو گئی ۔ میں اسی چینل میں کام کر رہا تھا اور سب کو پتا تھا کہ اعلانیہ علی عمران کا دوست ہوں ۔ مجھے چینل کے دوستوں خصوصا اپنے پروگرام پروڈیوسر کی کالز موصول ہونا شروع ہوئیں ۔ پھر اتھارٹی نے بھی فون کیا ۔ اینکر کے گھر سے بھی رابطہ کیا گیا ۔ میں نے علی عمران کو فون کیا اور کہا بھائی یہ خبر درست ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس میں غیر اخلاقی معاملے کو ایکسپوز کیا گیا ہے ۔ اس اینکر نے یہ سب کیا ہے ، پیسے بھی کھائے ہیں لیکن اس کی بہن کی شادی ہے ۔اس موقع پر خبر میں اینکر کا نام یا حوالہ اس کی بہن کا رشتہ تباہ کر سکتا ہے ۔ اس بچی کا تو کوئی قصور نہیں ۔
علی عمران کہنے لگے ، شاہ صاحب میرے پاس ویڈیوز شواہد بھی ہیں ۔ مجھے میرے ڈائریکٹر نیوز اور ایچ آر کی کالز بھی آئی ہیں اور میں نے انہیں کہہ دیا ہے کہ خبر مینج نہیں ہو گی البتہ کہیں تو میں ادارے سے استعفی دے سکتا ہوں ۔میں نے کہا یہ بات وہ سب تسلیم کر رہے ہیں ۔ مجھے نہ تو وہ غیر اخلاقی ویڈیوز دیکھنی ہیں اور نہ خبر کی صداقت پر کوئی شک ہے ۔ ہو سکتا ہے ادارے کے اندر اس غیر اخلاقی سکینڈل کی وجہ سے اینکر کو برطرف کر دیا جائے لیکن ایشو یہ ہے کہ میں وعدہ کر بیٹھا ہوں ،زبان دے چکا ہوں کہ خبر سے کم از کم نام نکال دیا جائے گا ۔ اس اینکر کی بہن کو تسلی دے چکا ہوں کہ اس کا رشتہ خراب نہیں ہو گا ۔ اب میری زبان کا کیا ہوا ؟
علی عمران نے گہرا سانس لیا اور کہنے لگے ، شاہ صاحب بات میری ملازمت تک ہوتی تو میں خبر مینج کرنے کی بجائے استعفی کو ترجیح دیتا لیکن آپ کی زبان کی اہمیت ہے ۔ انہیں بتا دیں خبر سے خاتون کا نام نکل جائے گا ۔ علی عمران نے میری عزت رکھ لی لیکن چند روز بعد از خود اس ادارے سے بھی استعفی دے دیا ۔ میں آج بھی اس دن میری عزت رکھنے پر علی عمران جونیئر کا احسان مند ہوں ۔ممکن ہے وہ یہ بات کی بھول چکے ہیں۔
جتنا میں اس شخص کو سمجھ پایا ہوں آپ دھمکی دیں گے تو یہ اپنی آخری سانس تک لڑے گا ، آپ ڈرائیں گے تو اسے مزید توانائی ملے گی ، آپ اس کے خلاف منفی کمپین کریں گے تو اس کا “بھلا ” ہو گا کہ یہ مزید طاقت سے ابھرے گا ۔ آپ محبت سے بات کریں گے ، عزت سے اپنا موقف دیں گے، عاجزی سے درخواست کریں گے تو یہ مینج ہو جائے گا ۔ اس کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے ۔اپنی اور ایک بیٹے کی میڈیا ملازمت تھی وہ اس نے بہت پہلے اس مشن کے راستے میں کھو دی تھی۔
مجھے اندازہ تھا کہ علی عمران جونیئر میڈیا انڈسٹری میں کھٹک رہا ہے لیکن یہ اندازہ نہیں تھا کہ نو سال قبل تن تنہا شروع کی گئی اس کی ویب سائٹ اتنا بڑا ادارہ بن چکی ہے کہ مین سٹریم کا طاقتور نیوز چینل اس کی خبر سے ہل جاتا ہے ۔ اپنی ٹیم کو کھڑا کر کے باقاعدہ ویڈیو پروگرام کر دیتا ہے ۔چینل کے لوگ منظم انداز میں علی عمران پر غیر اخلاقی جملے کسنے لگتے ہیں ۔ وہ الزامات لگاتے ہیں جن کا پوری دنیا کو علم ہے کہ اگر یہ شخص کرپٹ ہوتا تو چینلز سے ٹکر نہ لے پاتا ۔
خبر کیا تھی ، کیوں تھی ، درست تھی یا کوئی ابہام تھا اس ساری بحث سے ہٹ کر علی عمران جونیئر کو مبارک ہو کہ پاکستان کی ویب سائٹ انڈسٹری میں عمران جونیئر ڈاٹ کام “کنگ ” بن گئی ہے ۔ایسی ویب سائٹ جس کی خبر پر ایک پورا چینل اسے مینج کرنے میں لگ گیا ۔ شاید پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے۔ چینل مینجمنٹ کو بھی سوچنا چاہیے کہ ایک خبر جو ویب سائٹ تک محدود تھی اسے ملک بھر کا ہاٹ ٹاپک بنانے میں انہوں نے علی عمران جونیئر کی کتنی مدد کی ہے (سید بدر سعید )
