میڈیا انڈسٹری کے گونگوں کی آواز۔۔۔

تحریر: صادق حسین رضوی۔۔

پاکستانی میڈیا کی چمک دمک کے پیچھے ایک اندھیری دنیا بھی ہے جہاں صحافی اور دیگر میڈیا ورکرزبنیادی حقوق کے لیے ترستے ہیں۔ تنخواہیں مہینوں تک رکی رہتی ہیں، نوکری کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی، اور ادارے کے اندر کی سیاست میں بے گناہ لوگ پستے رہتے ہیں۔ اس تاریک ماحول میں جب کوئی آواز بلند کرنے والا نہیں ہوتا، تب ایسے لوگوں کی ضرورت پڑتی ہے جو بلا خوف و خطر سچ بولنے کی جرأت رکھتے ہوں۔ علی عمران جونئیر ایسا ہی ایک نام ہے۔ جس کی کوئی دوسری برانچ بھی نہیں۔

علی عمران جونئیر نہ صرف ایک عامل صحافی ہیں بلکہ انہوں نے میڈیا ورکرز کے حقوق کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم کھڑا کیا جو آج ہزاروں میڈیا ورکرز کی امید بن چکا ہے۔ ان کی ویب سائٹ اور فیس بک پیج، پاکستانی میڈیا انڈسٹری کے اندرونی حالات جاننے کا سب سے قابلِ اعتماد ذریعہ بن چکے ہیں۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں ہیں، یہ ان لوگوں کا اعتماد ہے جو خود کہیں بولنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے۔

پاکستانی میڈیا میں تنخواہوں کا مسئلہ کوئی نئی بات نہیں۔ بڑے بڑے نیوز چینلز اور اخبارات میں کام کرنے والے ملازمین کو مہینوں، بلکہ بعض اوقات سالوں تک تنخواہیں نہیں ملتیں۔ اس صورتحال میں علی عمران جونئیر نے وہ کام کیا جو کوئی بڑا ادارہ یا یونین بھی نہ کر سکی۔ انہوں نے ہر ادارے کی تنخواہوں کی صورتحال کو عوام کے سامنے رکھا۔ کون سا چینل کتنے ماہ کی تنخواہیں دینے میں پیچھے ہے، کن ملازمین کو بغیر معاوضے کے نکالا گیا، کہاں وعدے کیے گئے اور توڑے گئے، یہ سب انہوں نے نہایت جرأت کے ساتھ اپنے پلیٹ فارم پر شائع کیا۔

اس کوشش کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سے ملازمین کو وہ حوصلہ ملا جس کی انہیں ضرورت تھی۔ جب کسی ادارے میں تنخواہوں کا معاملہ عوامی ہو جاتا ہے تو انتظامیہ پر دباؤ بڑھتا ہے اور اکثر اوقات معاملات حل ہوتے ہیں۔ علی عمران جونئیر کا یہ کردار میڈیا ورکرز کے لیے ایک غیر رسمی لیکن انتہائی مؤثر ٹریڈ یونین جیسا ثابت ہوا۔

میڈیا ورکرز کے مسائل صرف تنخواہوں تک محدود نہیں۔ ادارے کے اندر کی سیاست، من پسند لوگوں کو ترقی دینا، اہل لوگوں کو نظرانداز کرنا، ہراسانی اور بے جا برطرفیاں، یہ وہ مسائل ہیں جن پر عموماً کوئی بات نہیں کرتا کیونکہ نوکری کا خوف سب کی زبانیں بند کر دیتا ہے۔ علی عمران جونئیر نے اس خاموشی کو توڑا۔

انہوں نے بے باکی سے ان تمام ناانصافیوں کو زیرِ بحث لایا۔ چاہے معاملہ کسی سینئر اینکر کی من مانیوں کا ہو، کسی مینجمنٹ کی جانبداری کا ہو، یا پھر کسی ملازم کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کا، علی عمران جونئیر نے ہمیشہ وہ کہا جو کہنا ضروری تھا۔ یہی وجہ ہے کہ میڈیا کے گلیاروں میں ان کا نام ایک مخصوص احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔

علی عمران جونئیر کی سب سے دلچسپ اور منفرد کاوش “پپو” کا کردار ہے۔ یہ ایک ایسی شخصیت ہے جس کے ذریعے انہوں نے میڈیا انڈسٹری کی اندرونی خبریں اور انکشافات پیش کیے۔ اس کردار کی خوبی یہ تھی کہ معلومات فراہم کرنے والوں کی شناخت بھی محفوظ رہتی تھی اور حساس معاملات بھی سامنے آتے رہتے تھے۔

پپو کے ذریعے کی گئی مخبریاں درحقیقت ان لوگوں کی آواز تھیں جو خود سامنے آنے سے ڈرتے تھے۔ کسی چینل میں ہونے والی اندرونی سیاست، کسی بڑے نام کی پردے کے پیچھے کی حرکات، یا کوئی ایسا فیصلہ جو ملازمین پر ظلم بن کر ٹوٹنے والا ہو،  پپو کے ذریعے یہ سب پہلے سامنے آتا تھا۔ اس سے نہ صرف متعلقہ ملازمین کو ہوشیار رہنے کا موقع ملتا تھا بلکہ انتظامیہ کو بھی معلوم ہو جاتا تھا کہ ان کے فیصلے عوامی نظروں میں ہیں۔ یہ کردار میڈیا ورکرز کے درمیان اس قدر مقبول ہوا کہ لوگ خود اپنے ادارے کی خبریں پپو تک پہنچانے لگے، جس سے علی عمران جونئیر کا نیٹ ورک اور بھی مضبوط ہوتا گیا۔

پاکستانی نیوز چینلز کے پردے کے پیچھے ایک پیچیدہ سیاسی کھیل جاری رہتا ہے۔ گروپ بندیاں، چاپلوسی کا کلچر، اور “جس کی لاٹھی اس کی بھینس” کا اصول، یہ وہ حقیقتیں ہیں جن سے ہر میڈیا ورکر واقف ہے مگر کوئی کھل کر بیان نہیں کرتا۔ علی عمران جونئیر نے اس روایت کو چیلنج کیا۔ انہوں نے نہ صرف ان حقیقتوں کو بیان کیا بلکہ ان کے اثرات کا بھی تجزیہ کیا۔ اس سے میڈیا انڈسٹری میں شفافیت کا مطالبہ زور پکڑا اور کم از کم ایک ایسا ماحول ضرور بنا جہاں لوگوں کو معلوم تھا کہ ناانصافی کرنے والے بالکل بے خوف نہیں ہیں۔

علی عمران جونئیر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ خود بھی اسی انڈسٹری کا حصہ ہیں جس کے بارے میں لکھتے ہیں۔ انہوں نے عملی صحافت کرتے ہوئے بھی اپنے ساتھی میڈیا ورکرز کی آواز بننے کا سلسلہ جاری رکھا۔ یہ آسان نہیں ہوتا جب آپ خود نظام کے اندر ہوں اور اسی نظام کی خامیاں بیان کریں تو خطرات ہر طرف سے آتے ہیں۔

اس جدوجہد کی قیمت علی عمران جونئیر کو ذاتی سطح پر بھی چکانی پڑی۔ سچ بولنے اور طاقتور اداروں کے سامنے آواز اٹھانے کے نتیجے میں انہیں اپنے کیئرئرمیں سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مواقع چھنے، راستے بند ہوئے اور وہ دروازے بھی بند ہو گئے جو کسی اور کے لیے کھلے رہتے۔ مگر اس سے بھی تکلیف دہ بات یہ رہی کہ اس جدوجہد کا بوجھ صرف انہوں نے اکیلے نہیں اٹھایا، ان کے گھر والوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک باپ، ایک بیٹا، ایک گھر کا سہارا، جب وہ دوسروں کے حقوق کے لیے لڑ رہے تھے تو ان کا اپنا گھر معاشی دباؤ تلے دب رہا تھا۔

یہی وہ قربانی ہے جو علی عمران جونئیر کو ایک عام صحافی سے ممتاز کرتی ہے۔ جو شخص اپنے اور اپنے خاندان کے آرام کو داؤ پر لگا کر بھی دوسروں کی آواز بنتا رہے، وہ محض ایک قلم کار نہیں بلکہ ایک مشن پر چلنے والا انسان ہوتا ہے۔ پاکستانی میڈیا کی تاریخ میں علی عمران جونئیر کا یہ کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، ایک ایسے شخص کے طور پر جس نے خود تکلیف اٹھائی مگر دوسروں کا درد کم کرنے کی کوشش نہیں چھوڑی۔

علی عمران جونئیر اور ان کی ٹیم کو ان کے مقبول پلیٹ فارم کے 9 سال مکمل ہونے پر دلی مبارکباد۔ دعائیں اور نیک تمنائیں۔ والسلام۔۔۔ ( صادق حسین رضوی)۔۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں