انسدادِ دہشت گردی عدالت میں صحافی طیب گوندل کے خلاف درج مبینہ دہشت گردی کے مقدمے کی سماعت کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی، جہاں عدالت نے ان کی ضمانت کنفرم کر دی۔سماعت کے دوران انویسٹیگیشن آفیسر انسپیکٹر حنیف صبح تقریباً 11 بجے عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ اس موقع پر معزز عدالت نے استفسار کیا کہ طیب گوندل کو کیس میں کیوں نامزد کیا گیا اور ان کے خلاف کیا شواہد موجود ہیں۔اس پر انویسٹیگیشن آفیسر نے عدالت کو بتایا کہ طیب گوندل کے پاس ٹیئر گیس موجود تھی۔ اس بیان پر کمرۂ عدالت میں ہلکی ہنسی کی فضا قائم ہو گئی۔فاضل جج، ابو الحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو ٹیئر گیس سے متعلق صورتحال کا علم ہے، اور استفسار کیا کہ آیا اس حوالے سے کوئی ریکارڈ عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔انویسٹیگیشن آفیسر نے جواب دیا کہ ریکارڈ اس وقت پیش نہیں کیا جا سکتا اور اس کے لیے مزید مہلت درکار ہے۔ اس پر معزز عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔بعد ازاں عدالت نے شواہد پیش نہ کیے جانے اور تفتیشی عمل میں پیش رفت نہ ہونے پر طیب گوندل کی ضمانت کنفرم کرنے کا حکم دے دیا۔
