صحافت بحران کا شکار: تقسیم اور ختم ہوتا وقار

تحریر: ولید شکیل کانگا

ملک بھر میں بے شمار صحافی موجود ہیں، جن کی سوچ، اندازِ رپورٹنگ اور کام کرنے کے طریقے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ یہ تنوع کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے ایک مثبت علامت سمجھا جاتا ہے، کیونکہ مختلف آوازیں مل کر سچ کو سامنے لانے میں مدد دیتی ہیں۔ مگر افسوس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسی شعبے کی آڑ میں کچھ ایسے عناصر بھی شامل ہو چکے ہیں جو صحافت جیسے مقدس پیشے کو بدنام کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔

یہ وہ لوگ ہیں جو صحافت کے نام پر دو نمبر کاموں اور بلیک میلنگ جیسے ہتھکنڈوں میں ملوث ہیں۔ ایسے افراد نہ صرف اداروں اور شخصیات کو ناجائز دباؤ میں لاتے ہیں بلکہ اپنی ذاتی مفادات کے لیے صحافت کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ ان کے اس رویے کی وجہ سے اصل، محنتی اور دیانتدار صحافیوں کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔ جو صحافی دن رات محنت کر کے سچ کو سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ بھی عوام کی نظر میں مشکوک بن جاتے ہیں۔ یوں ایک غلط فرد پورے شعبے کی عزت کو نقصان پہنچا دیتا ہے۔

دوسری جانب ایک اور اہم مسئلہ صحافتی تنظیموں کی بھرمار ہے۔ آج کے دور میں چھوٹی چھوٹی اور بے شمار تنظیمیں وجود میں آ چکی ہیں، جن کا کوئی واضح کردار یا مؤثر آواز نہیں ہوتی۔ ماضی میں صورتحال اس کے برعکس تھی۔ اس وقت صحافتی تنظیمیں کم تھیں مگر مضبوط تھیں۔ ان میں صحافیوں کی بڑی تعداد شامل ہوتی تھی، اور خاص طور پر سینئر صحافیوں کا مقام اور احترام نمایاں ہوتا تھا۔

ان تنظیموں کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے نہ صرف متحد ہوتی تھیں بلکہ اپنی بات منوانے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتی تھیں۔ صحافی اپنے موقف پر ڈٹ جاتے تھے اور ان کی آواز کو سنجیدگی سے لیا جاتا تھا۔ یہی اتحاد ان کی اصل طاقت تھا، جو آج کہیں نہ کہیں کمزور پڑ چکا ہے۔

آج کے حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ صحافی اپنی انا، ذاتی اختلافات اور لیڈر بننے کی خواہش کو ایک طرف رکھیں۔ ہر شخص اگر اپنی الگ تنظیم بنانے لگے گا تو نہ صرف اتحاد ختم ہوگا بلکہ طاقت بھی بکھر جائے گی۔ اس کے بجائے ضروری ہے کہ صحافی ایک مستند، مضبوط اور بااعتماد تنظیم کا حصہ بنیں اور اسے سپورٹ کریں۔

جب ایک ہی پلیٹ فارم پر زیادہ تعداد میں صحافی موجود ہوں گے تو وہ اپنے حقوق کے لیے زیادہ مؤثر انداز میں آواز اٹھا سکیں گے۔ ایسی تنظیم نہ صرف صحافیوں کا تحفظ کرے گی بلکہ ان کے وقار کو بھی برقرار رکھے گی۔ اتحاد میں ہی طاقت ہے، اور یہی طاقت صحافیوں کو استحصال سے بچا سکتی ہے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ صحافت ایک ذمہ داری ہے، صرف پیشہ نہیں۔ اگر اس شعبے سے وابستہ افراد خود احتسابی کریں، غلط عناصر کا راستہ روکیں اور متحد ہو کر کام کریں تو نہ صرف صحافت کا کھویا ہوا مقام بحال ہو سکتا ہے بلکہ معاشرے میں سچ کی آواز بھی مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔(ولید شکیل کانگا)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں