تحریر: شکیل احمد بازغ
دو طرح کے ہی تو لوگ ہوتے ہیں۔ ایک، جن کے پیشِ نظر ذاتی معاملات ہوتے ہیں، سیدھا اچھے بچوں کی طرح نوکری کرتے ہیں۔ باتیں سنتے ہیں سہتے ہیں ،قسمت کا کھیل مان کر گھر لوٹ جاتے ہیں۔ علی عمران جونیئر وہ سینئر صحافی ہیں جو دوسری قسم کے ہیں جو یوں مانتے ہیں جہاں غلط ہورہا ہے وہاں بول دینا چاہیئے تاکہ کہیں اصلاح کا کوئی پہلو شاید نکلے۔ وگرنہ گونگوں کے قبیل سے تو کبھی نہیں ہونا۔
علی عمران کام میں بھی بہتر لیکن ان کے دیکھنے کا کینوس انکی چھوٹی سی عینک سے کہیں وسیع تھا۔ جب لوگ اپنا الو سیدھا کررہے ہوتے تھے تب ہماری نظروں کے سامنے ہلکی دبی مسکراہٹ سے وہ آئندہ کیلئے کچھ وکھرا سوچ رہے تھے پھر وہ ہم سے جدا ہوکر کراچی لوٹ گئے۔ پھر معلوم ہوا علی عمران اپنی ویب سائٹ پر توجہ دے رہے ہیں۔بہرحال یہ دوسروں سے منفرد ڈاٹ کام نکلی۔ یہاں وہ باتیں ہونے لگیں جو میڈیا ورکرز انجانے خوف سے بولنے سے گریز کرتے تھے۔ سینوں میں بھرتا الاؤ لوگ زبان پر لانے کی جرات نہیں کرتے تھے۔ آپ سینہ بہ سینہ سے نکال کر بیچ ڈیجیٹل چوراہے لے آئے۔
پہلے پہل ایک خیال گُزرا کہ اتنی بے باکی؟ علی عمران کو ایسے حالات میں کونسا میڈیا گروپ جاب دے گا۔
بول نیوز پر افتاد آن پڑی تو متاثرین کے دلوں کے گہرے گھاو وقت کیساتھ مندمل ہوہی گئے۔ لیکن عمران جونیئر کیلئے یہ گھاو لائف ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔
اب وہ تمام پاکستانی میڈیا ورکرز کے زخموں پر پھاہا رکھنے کا فیصلہ کر بیٹھے تھے۔ کیونکہ میڈیا کے اندرونی حالات باہر سے نظر نہیں آسکتے۔ اندر کا یہ عکس اب دنیا کو باہر سے نظر آنے لگا۔ یہ میڈیا کریئر وہی ڈھول ہے جو دور سے سہانا لگتا ہے۔ میڈیا ورکرز سے میڈیا مالکان یا افسران بالا کی “محبت” کے قصے اب زبان زد عام لانے کا بار علی عمران نے اٹھا لیا تھا۔ یہ عام بات بالکل بھی نہیں۔ یہ عام اقدام بھی نہیں۔ ایک نڈر اور اتھارٹیز کو خوفزدہ کردینے والا عمران جونیئر ڈاٹ کام میڈیا اداروں میں شد و مد سے ڈسکس ہونے لگا۔ ہم جب آفس آتے تو معلوم ہوتا عمران جونیئر ڈاٹ کام پر وہ خبر لگ چکی جس کی ہمیں ادارے میں رہتے ہوئے کانوں کان خبر نہ ہوتی تھی۔ ایک ادارے میں تو مجھے کچھ روز اس لیئے شک کی نظروں سے دیکھا جانے لگا کہ میری غیر میڈیائی موضوعات پر کشیدہ آڑی ترچھی سطریں بھی علی عمران اس پیج پر اپ لوڈ کردیتے۔ اور میں خود اکثر ان سے پوچھ لیتا بھائی آپ کو فلاں خبر کس نے دی۔لوگ مجھ پہ شک کرنے لگے ہیں۔ علی عمران جونیئر ہنسی میں ٹال دیتے۔ جیسے کہہ رہے ہوں کہ صحافی اپنا سورس کب بتاتا ہے؟
نہایت ہلکے پھُلکے انداز میں عمران بھائی نے میڈیا بارے توجہ دلاؤ گفتگو کا انداز خبر کی شکل میں اس پلیٹ فارم پہ اپ لوڈ کرنا شروع کیا۔ نہ صرف خود بلکہ ان لوگوں کو بھی لکھنے کا موقع و اعزاز بخشا جو اپنی بے لاگ طبیعت کی وجہ سے “ناقابلِ اشاعت” سمجھ کر اخبارات نے خود سے دور کردیئے۔ میڈیا ورکرز کی حقیقی آواز بننے والوں میں عمران جونیئر کا شمار پاکستان کی سر فہرست ویب سائیٹس میں ہے۔ میں یوں کہوں گا یہی مؤقر ہے۔ یہاں سب سے بہترین بات یہ رہی کہ لکھاری کا تحریری مواد من و عن بنا کسی چوں و چراں شائع کیا جاتا ہے۔ یہ حوصلہ اور دلیری علی عمران بھائی میں ہی دیکھی ہے۔عمران جونیئر ڈاٹ کام کےنو سال کا یہ سفر عزم مسمم، حق بات کی ترویج اور شائستگی کا کامیاب سفر ہے علی عمران صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں۔
علی عمران نے یہ کردکھایا کہ اپنی ذات سے بالاتر ہوکر کسی طبقے کیلئے کھڑے ہوجانا تنہا اور بے وقعت نہیں کرتا بلکہ حوصلہ ہمت بندھی رہے تو وقت اس کا بہترین اجر دیتا ضرور ہے۔ جس کی عملی تصویر علی عمران جونیئر کی ڈاٹ کام ہے۔علی عمران بھائی اور انکی ٹیم کیلئے ان گنت دعائیں ہیں۔۔ والسلام۔۔(شکیل احمد بازغ)۔۔
