تحریر:اعظم الفت
کوئٹہ پریس کلب میں منعقدہ میڈیا کنونشن محض ایک رسمی اجتماع نہیں تھا، بلکہ یہ اس گھٹن، بے چینی اور اضطراب کا اجتماعی اظہار تھا جو آج ملک بھر، بالخصوص بلوچستان کے صحافتی حلقوں میں شدت اختیار کر چکا ہے۔ یہ اجتماع دراصل اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش تھا کہ کیا پاکستان میں آزادیٔ اظہار اب بھی ایک آئینی حق ہے یا محض ایک نظری اصطلاح ۔۔۔
(پی ایف یو جے) کے صدر افضل بٹ نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ تنظیم نے پیکا قانون کے خلاف تین مرحلوں پر مشتمل احتجاج کیا اور آئندہ بھی آزادیٔ اظہار کے دفاع کے لیے منظم جدوجہد جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ایف یو جے ریگولیشن کی مخالف نہیں، لیکن ایسی ریگولیشن کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا جو آزادی کو سلب کر دے۔ ان کا جملہ،آج ہم ایک نقطہ بھی اپنی مرضی سے نہیں لگا سکتے، محض شکوہ نہیں بلکہ موجودہ صحافتی فضا کی عکاسی ہے، جہاں خبر سے زیادہ خبر کے زاویے پر پہرہ ہے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ صحافت صرف صحافیوں کا مسئلہ نہیں۔ یہ عوام کے حقِ معلومات کی جنگ ہے۔ جب قلم محدود ہوتا ہے تو شعور محدود ہو جاتا ہے، اور جب شعور محدود ہو جائے تو جمہوریت محض ایک رسمی ڈھانچہ رہ جاتی ہے۔
میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پی ایف یو جے کے سابق جنرل سیکرٹری ناصر زیدی نے یاد دلایا کہ سنسرشپ اس ملک کے لیے کوئی نئی روایت نہیں۔ ان کے مطابق 1948 میں محمد علی جناح کی ایک تقریر تک کو سنسر کیا گیا۔ قائداعظم کے دور سے لے کر آج تک ریاستی بیانیے سے اختلاف رکھنے والی آوازوں کو دبانے کا سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں جاری رہا ہے۔ یہ تسلسل اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ وقتی نہیں بلکہ ساختیاتی ہے۔ناصر زیدی نے پیکا ایکٹ میں حالیہ ترامیم کو صحافت کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ انوسٹی گیٹو رپورٹنگ اب قانونی موشگافیوں کی زد میں ہے۔ جب تحقیقاتی صحافت کمزور پڑتی ہے تو احتساب کا عمل مفلوج ہو جاتا ہے، اور جب احتساب کمزور ہو تو جمہوریت اپنی روح کھو دیتی ہے۔
بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر منظور بلوچ نے صوبے کی صورتحال کو نہایت تشویشناک قرار دیتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان میں تقریباً تیس صحافی اپنی جانوں کا نذرانہ دے چکے ہیں۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ وہ چراغ ہیں جو اندھیروں کے خلاف جلتے ہوئے بجھا دیے گئے۔ ہر نام کے پیچھے ایک خاندان، ایک خواب اور ایک نامکمل داستان موجود ہے۔انہوں نے تین بنیادی مسائل کی نشاندہی کی،صحافیوں کا تحفظ،معلومات تک رسائی کا فقدان اورمعاشی بدحالی ،منظوربلوچ نے کہا کہ رائٹ ٹو انفارمیشن قوانین کے باوجود صوبے میں معلومات تک رسائی ایک خواب بنی ہوئی ہے۔ جب معلومات بند کمروں میں قید ہو جائیں تو افواہیں جنم لیتی ہیں، اور افواہیں ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھا دیتی ہیں۔ شفافیت کی کمی بداعتمادی کو جنم دیتی ہے، اور بداعتمادی ریاستی استحکام کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر منظم ٹرولنگ، قانونی دباؤ اور مالی مشکلات نے صحافیوں کی پیشہ ورانہ آزادی کو مزید محدود کر دیا ہے۔ کئی قومی چینلز کے بیوروز بند ہو چکے ہیں، اور میڈیا ورکرز کو تین تین ماہ بعد تنخواہوں کی ادائیگی ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں آزاد صحافت کی توقع کرنا حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔
پیکا قانون بظاہر سائبر کرائم کی روک تھام کے لیے بنایا گیا، مگر اس کی بعض شقیں مبہم اور وسیع تشریح کی حامل ہیں، جنہیں اختلافی آوازوں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جب قانون کی تلوار غیر واضح ہو تو ہر قلم اپنے آپ کو نشانے پر محسوس کرتا ہے۔ خوف کی فضا میں تخلیق ہونے والی صحافت کبھی مکمل سچ بیان نہیں کر سکتی۔
بلوچستان جیسے حساس اور شورش زدہ صوبے میں میڈیا پہلے ہی دباؤ، خطرات اور محدود وسائل کے درمیان سانس لے رہا ہے۔ ایسے میں مزید قانونی قدغنیں مقامی صحافت کو تقریباً مفلوج کر سکتی ہیں۔ اگر صحافی خوف کے سائے میں کام کریں گے تو سچائی کا دامن چھوٹ جائے گا، اور یک طرفہ بیانیہ معاشرے پر مسلط ہو جائے گا۔ یک رُخی بیانیہ وقتی طور پر سکون دے سکتا ہے، مگر طویل المدت استحکام کی ضمانت نہیں بن سکتا۔
کوئٹہ پریس کلب اور بلوچستان یونین آف جنرنلسٹس کے زیر اہتمام منعقدہ میڈیا کنونشن کا پیغام دوٹوک تھا آزادیٔ اظہار کوئی ریاستی رعایت نہیں بلکہ آئینی ضمانت ہے۔ ریاست اگر میڈیا کو مخالف کے بجائے شراکت دار سمجھے تو بہت سی غلط فہمیاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔ ریگولیشن اور احتساب ناگزیر ہیں، مگر ان کی بنیاد شفافیت، مشاورت اور اعتماد پر ہونی چاہیے،خوف اور دباؤ پر نہیں۔
بلوچستان میں میڈیا پر قدغن دراصل پورے ملک کے جمہوری مستقبل کا سوال ہے۔ آج اگر صحافی خاموش کیے گئے تو کل عوام کی آواز بھی مدھم پڑ جائے گی۔ آزادیٔ صحافت کو محدود کرنا وقتی طور پر آسان حل محسوس ہو سکتا ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ دبائی گئی آوازیں خاموش نہیں رہتیں، وہ لوٹتی ہیں، اور زیادہ شدت کے ساتھ لوٹتی ہیں۔
آج پیکا ایکٹ کی بعض شقیں،خصوصاً وہ دفعات جو “ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ پروپیگنڈےیا غلط معلومات کی مبہم تعریف کرتی ہیں، عملی طور پر ایک ایسی تلوار بن چکی ہیں جس کی دھار کی سمت واضح نہیں۔ جب قانون کی تعریف غیر متعین ہو تو اس کا اطلاق بھی غیر متعین ہو جاتا ہے، اور یہی غیر یقینی کیفیت خوف کو جنم دیتی ہے۔
جب معلومات کا بہاؤ رک جائے تو تجزیہ قیاس آرائی بن جاتا ہے، اور قیاس آرائی عدم اعتماد کو جنم دیتی ہے۔ ایک ایسے صوبے میں جہاں پہلے ہی سیاسی اور سماجی تناؤ موجود ہو، معلومات کی بندش خلیج کو مزید گہرا کرتی ہے۔
بلوچستان میں کئی قومی چینلز نے اپنے بیوروز بند کر دیے ہیں یا نمائندوں کی تعداد کم کر دی ہے۔ مقامی اخبارات محدود وسائل پر چل رہے ہیں۔ تنخواہوں کی غیر یقینی ادائیگی، اشتہارات کی بندش اور حکومتی اشتہارات کا بطور دباؤ استعمال ہونا، یہ سب صحافت کی آزادی کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔جب صحافی معاشی طور پر غیر محفوظ ہو تو ادارتی آزادی بھی متاثر ہوتی ہے۔ مالی دباؤ اکثر سنسرشپ سے زیادہ مؤثر ہتھیار ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ خاموشی کو رضاکارانہ بنا دیتا ہے۔
یہ کہنا شاید تلخ ہو، مگر زمینی حقیقت یہی ہے کہ بلوچستان میں آزاد اور تحقیقاتی صحافت کا دائرہ سکڑ کر انتہائی محدود ہو چکا ہے۔ اکثر خبریں سرکاری بیانیے یا رسمی بیانات تک محدود رہ جاتی ہیں۔ حساس موضوعات پر خاموشی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ خود احتسابی یا سیلف سینسرشپ ایک غیر اعلانیہ پالیسی بن چکی ہے۔اگر صحافی خوف، قانونی پیچیدگی، معاشی دباؤ اور سکیورٹی خطرات کے درمیان گھرا ہو تو وہ کتنا سچ بیان کر سکتا ہے؟ جب قلم پر پہرہ ہو تو الفاظ بھی محتاط ہو جاتے ہیں، اور محتاط الفاظ اکثر ادھورا سچ بیان کرتے ہیں۔بلوچستان میں صحافت کی گھٹتی ہوئی سانس دراصل جمہوریت کی کمزور ہوتی نبض ہے۔
سوال اب بھی وہی ہے،کیا بلوچستان میں صحافت کو زندہ رکھنے کا ارادہ موجود ہے، یا ہم ایک ایسے صوبے کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں خبر صرف وہی ہوگی جو سنانا مقصود ہو؟بلکہ آج سوال یہ نہیں کہ صحافی محفوظ ہیں یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا سچ محفوظ ہے؟(اعظم الفت)۔۔
