تحریر: علی عمران جونیئر
معروف شاعر مجروح سلطان پوری کا ایک مشہور شعر ہے کہ۔۔
اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
یہ شعر جدوجہد اور تحریک کے پھیلنے کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔عمران جونیئر ڈاٹ کام اسی شعر کی ایک عمدہ مثال ہے۔ اس سفر کو گیارہ سال پہلے اس وقت شروع کیا تھا جب بول پر برا وقت آیا تھا، اس کے مالک شعیب شیخ کو گرفتار کرلیا گیا تھا اور بول کی پوری قیادت انڈرگراؤنڈ ہوگئی تھی، ایسے وقت میں سوشل میڈیا پر سازشیں کرنے والے میڈیا ہاؤسز کے خلاف لکھنا شروع کیا، پھر دو اپریل دوہزار سترہ کو عمران جونیئر ڈاٹ کام کی بنیاد رکھی، کیوں کہ اس کےعلاوہ چارہ بھی کوئی نہیں تھا، وجہ صرف اتنی تھی کہ مجھ پر ایک چھاپ پڑ گئی تھی باغی ہونے کی۔۔ ساتھ ہی رب تعالیٰ کا کروڑہا شکر کہ اب تک باغی ہوں، داغی نہیں۔۔
شروع شروع میں جب میڈیا کی اندرونی خبریں دینے لگےتو قریبی دوستو نے برابھلا کہا، شدید حوصلہ شکنی کی، یہ تک کہا کہ اب تمہارا صحافتی کیرئر تباہ ہے، تمہیں کوئی بھی نوکری نہیں دے گا۔ مگر جب “اوکھلی میں سر دیا تو موصلوں کا کیا ڈر” یعنی جب کوئی خود کو بڑی خوشی سے کسی مشکل میں ڈال دے تو پھر اس سے جڑی چھوٹی بڑی تکالیف یا خطرات سے گھبرانا نہیں چاہیے۔
جب اس ویب سائٹ کی بنیاد رکھی تو لاہور میں نیونیوز میں کام کرتا تھا، وہاں میرے بڑے بھائیوں کی طرح ڈائریکٹر نیوز عثمان بھائی اور قابل صد احترام نصراللہ ملک صاحب نے ہرممکن خطرات سے بچایا، پروٹیکشن دی، میری خبروں پر آنے والے ہر طرح کے ردعمل کو بھی برداشت کیا اور پوری کوشش کرتے رہے کہ اس کی جاب لگی رہے ورنہ یہ یہاں سے چلا گیا تو کوئی اور ادارہ نوکری بھی نہیں دے گا۔۔ اٹھارہ ماہ بعد ہی استعفا دے کر کراچی واپسی ہوگئی۔ اس نیت اور ارادے کے ساتھ کہ اب کسی ادارے نے جاب دینی ہے نہ کہیں جاب کرنی ہے۔۔
یہ تو ہے انتہائی مختصر سی وہ داستان جو عمران جونیئر ڈاٹ کام اسٹیبلش ہونے تک کی تھی۔
اس سے آگے کی داستان اب مجھ سے سن۔۔۔
عمران جونیئر ڈاٹ کام لوہے کے وہ چنے ہے جو ہر کوئی نہیں چبا سکتا۔۔ اس کیلئے سب سے پہلے تو کچھ تلخ سچائیوں کے کڑوے گھونٹ پینے پڑیں گے۔۔ میری مثال اس خان صاحب کی طرح کی ہے کہ ساحل سمندر پر کھڑے تھے ایک بچہ سمندر میں ڈوب رہا تھا، خان صاحب نے چھلانگ ماری، بچے کو باہر نکال لائے، سب نے خوب واہ واہ کی، کسی نے اچانک پوچھ لیا۔ خان صاحب آپ کو سمندر میں کودتے ہوئے ڈرنہیں لگا، خان صاحب نے پلٹ کر جواب دیا۔۔ خوچہ، ڈر ور چھوڑو، پہلے یہ بتاؤ ہمیں دھکا کس نے دیا تھا؟؟
عمران جونیئر ڈاٹ کام بلاشبہ میڈیا انڈسٹری میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی ویب سائٹ بن گئی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری نیک نیتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم پورے خلوص، صدق دل سے اپنے کام کو کررہے ہیں اور کبھی بھی اس کام سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی۔
لوگ پوچھتےہیں اور مذاق بھی اڑاتے ہیں کہ آپ کی خبروں کو میڈیا مالکان بھلا کیوں پڑھیں گے؟ اس کیلئے صرف مختصر سا اتنا ہی کہیں گے کہ جنگ و جیو کے مالک میر شکیل الرحمان، بول کے سابق مالک شعیب شیخ کروڑوں روپے ہرجانے کے لیگل نوٹس ہمارا چہرہ دیکھ کر نہیں بھیجتے تھے۔۔ ہماری خبریں اور تحریریں مالکان کتنا پڑھتے ہیں اور کیسے پڑھتے ہیں، اس کیلئے ہمیں کسی کو بتانے یا سمجھانے کی ضرورت نہیں۔
اب سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ عمران جونیئر ڈاٹ کام کو نو سال ہوگئے، پوری میڈیا انڈسٹری میں پڑھی جاتی ہے، لوگ اس کی خبروں کا انتظار بھی کرتے ہیں، مارکیٹ میں ہر کامیاب چیز کی نقل فوری بن کر سامنے آجاتی ہے، پھر آج تک اس جیسی کوئی دوسری ویب کیوں سامنے نہ آسکی؟ اگر سچ پوچھیں تو ہم نے کبھی اس حوالےسے نہیں سوچا، ہمارا پورا فوکس اپنے کام پر ہوتا ہے، اگر کوئی اس کی نقل یا اس جیسی ویب بنانا چاہے تو بسم اللہ۔۔ میدان اور گھوڑا دونوں حاضر ہیں، ہمیں تو اچھا لگے گا کہ چلو ہماری تنہائی دور ہوئی، کوئی تو مقابلے پر آیا۔۔
کسی نے پوچھا تھا کہ اس کام کے دوران کیا کبھی شدید مایوسی کا سامنا بھی ہوا۔۔۔ ایسا ایک بار نہیں کئی بار ہوا، جب گھر میں ایک ایک ہفتہ چولہا نہ جلے۔۔۔ بچوں کی اسکول کی فیس جمع کرانے کیلئے ایک پیسہ نہ ہو۔۔ پردیس کاٹنی ہو۔۔۔ فیملی سے دور رہنا پڑے۔۔ ہر وقت تھریٹ ہو، یکے بعد دیگرے سائبر کیسز کا سامنا کرنا پڑے۔۔۔ بچے عید کی خوشیاں صرف اس لئے نہ منا سکیں کہ ابا کے پاس پیسے نہیں کپڑے اور جوتے کہاں سے دلائیں؟۔۔۔ بیٹے کو اس لئے بار بار نیوز چینلز والے صرف اس لئے نوکری سے نکال دیں کہ وہ عمران جونیئر کا بیٹا ہے۔۔۔ میں بھی انسان ہوں، روبوٹ یا مشین نہیں، احساسات اور جذبات رکھنے والا ہر انسان کہیں نہ کہیں شدید مایوس ہوتا ہے یا ڈپریشن کا شکار ہوجاتا ہے۔۔ لیکن وہ کسی نے کیا خوب کہا۔ نجانے کون دعاؤں میں یاد رکھتا ہے، میں ڈوبتا ہوں سمندر اچھال دیتا ہے۔۔۔ ہر بار مایوسی یا ڈپریشن سے میرے پاک پروردگار نے نکالا۔۔ آج بھی کبھی کبھی ایسا ٹائم آجاتا ہے کہ دل چاہتا ہے سب کچھ اپنی زندگی سے ڈیلیٹ کرکے درویشوں والی زندگی گزاری جائے، کسی سے کوئی لینا دینا نہیں رکھنا۔۔ مگر یہاں بھی مایوسی ہی ہوتی ہے یہ کام ہر بار ہو نہیں پاتا۔۔
جب شاہ سے بڑھ کر شاہ کے وفاداروں کی پوری نسل کسی پوسٹ پر دیدہ دلیری سے سچ کو جھوٹ ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہوتی ہے تو اس وقت یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہوں کہ کیا میں اندھوں کے شہر میں آئینہ بیچنے کی کوشش تو نہیں کررہا۔۔
عمران جونیئر ڈاٹ کام کے اس نو سالہ سفر کے پیچھے ایک پوری داستان ہے، ہزاروں واقعات ہیں، ایسی تلخ حقیقتیں ہیں کہ سن کر آپ کے بھی رونگھٹے کھڑےہوجائیں ( اگر آپ حساس انسان ہیں)۔۔۔ ایسے ایسے واقعات سے دوچار ہونا پڑا کہ اب وہ سوچ کر بھی ہنسی آجاتی ہے۔۔ ایک دو واقعات آپ سے بھی شیئر کرتےہیں۔۔۔
پہلےہم غلطیوں والےٹکرز کے اسکرین شاٹس بہت زیادہ شیئر کرتے تھے، اب بھی کرتے ہیں لیکن مہینہ میں ایک آدھ بار۔۔ ہم نہیں چاہتے ہماری وجہ سے لوگوں کی نوکریاں خطرے میں پڑے۔۔ آپ یقین نہیں کریں گے روزانہ درجنوں اسکرین شاٹس انباکس میں ملتے ہیں، ایسی ایسی غلطیاں کہ آپ اپنا سر دیوار سے ٹکرائیں۔۔ انتہائی مجبوری میں ایک آدھ بار شیئر کر ہی دیتے ہیں کیوں کہ ہماری ویب اور فیس بک پیج صرف میڈیا انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے ہی نہیں، عام عوام بھی شوق سے دیکھتے، پڑھتے اور اپنا فیڈبیک دیتے ہیں۔۔ دوہزار سترہ کی بات ہے، میں لاہور میں ہوتا تھا، ایک بار ایک بڑے چینل کا غلطی والا اسکرین شاٹ شیئر کردیا۔۔ پانچ سے دس منٹ کے اندر ہی ایک بہت ہی قریبی دوست کا فون آگیا کہ۔۔ یار وہ میرا بہت قریبی جاننے والا ہے، اسے چینل میں ایچ آر نے بلا کر کہا ہے کہ اگر وہ اسکرین شاٹ ڈیلیٹ نہ کرایا تو آج سے آپ فارغ ہیں،آپ کے پاس صرف دو گھنٹے ہیں۔۔۔ یار میری ریکویسٹ ہے،اسے ڈیلیٹ کردو، وہ بیچارہ اپنے گھر کا واحد کفیل ہے، اس کی جاب چلی گئی تو گھر میں فاقے ہوجائیں گے۔۔ ہم ٹھہرے ایک درد دل رکھنے والے انسان، دوست کی ریکویسٹ مان لی۔ پوسٹ ڈیلیٹ کردی۔۔۔ اگلے دن شام کو ایف آئی اے کے دفتر سے فون آیا کہ آپ حاضر ہوجائیں، آپ نے غلط پوسٹ لگائی تھی جسے بعد میں آپ نے ڈیلیٹ بھی کردیا، آپ کے خلاف تحریری شکایت آئی ہے۔۔۔ اب اندازہ کریں، نیکی کیسے گلے پڑ جاتی ہے۔۔۔
اچھا ایک اور بات، میں اتنا زیادہ سوشل نہیں، بحالت مجبوری کسی صحافتی تقریب میں جانا پڑ جائے تو پوری کوشش ہوتی ہے کسی صحافی یا میڈیا ورکر کے ساتھ تصویر نہ بنواؤں، کیوں کہ پھر اس بندے کی خیر نہیں ہوتی، ایسے ہی تین چار واقعات ہوچکے۔ ایک بات کراچی پریس کلب میں ایک بہت پرانے کیمرہ مین کے ساتھ بیٹھا گپ شپ کا ماحول بنا ہوا تھا، چائے چل رہی تھی، اچانک اسے دواٹس ایپ کال آئی، دوسری طرف سے کچھ کہا گیا، دس سے پندرہ سیکنڈ کی بات ہوئی ہوگی، اس نے واٹس ایپ کھولا۔۔ مجھے دکھایا۔۔ وہاں کسی نے اس کی اور میری تصویر واٹس ایپ کی ہوئی تھی، ابھی ہم یہ سوچ ہی رہے تھے کہ یہاں ہماری تصویر کس نے بنائی ہوگئی؟ اسی دوران اسی جگہ اگلا میسیج آیا۔۔ یو آر فائرڈ۔۔ یعنی آپ نوکری سے فارغ۔۔۔
ایسے بہت سے یادگار واقعات ہیں، پھر کبھی یار زندہ صحبت باقی۔۔۔ آخر میں صرف اتنا ہی کہیں گے، ہم بغیر کسی لالچ یا مفاد کے یہ کام کررہے ہیں، اگر کہیں ہم سے کوئی کوتاہی ہوجایا کرے تو معاف کردیا کریں، آپ لوگوں سے صرف دعاؤں کی درخواست ہے۔۔۔ تاکہ یہ سلسلہ مزید چلتا رہے۔۔ آپ سب کا اپنا
علی عمران جونیئر۔۔۔
دو اپریل دوہزار چھبیس۔۔
