صحافیوں کو بغیر الزام بتائے اٹھانے کا سلسلہ جاری۔۔۔

سینئر صحافی فخر الرحمٰن کو مبینہ طور پر اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لے لیا گیا ہے۔ یہ دعویٰ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات اور صحافیوں کے بیانات میں سامنے آیا ہے، جس کے بعد معاملے میں شفافیت اور قانونی تقاضوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اہل خانہ کے ذرائع کے مطابق، جیسا کہ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر مختلف پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا، فخر الرحمٰن کو بغیر کسی پیشگی اطلاع اور الزامات کی تفصیلات فراہم کیے ان کے گھر سے لے جایا گیا۔ تاہم ان اطلاعات کی تاحال سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔اطلاعات کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کی جانب سے 14 اپریل 2026 کو جاری ایک نوٹس میں صحافی کو 16 اپریل کو پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کروانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ نوٹس میں الزام عائد کیا گیا کہ وہ اپنے ایکس اکاؤنٹ کے ذریعے جھوٹا، گمراہ کن اور دھمکی آمیز مواد پھیلا رہے ہیں۔ ساتھ ہی خبردار کیا گیا تھا کہ عدم تعمیل کی صورت میں پاکستان پینل کوڈ 1860 کی دفعہ 174 کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا فخر الرحمٰن مقررہ تاریخ پر پیش ہوئے تھے یا ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی شروع کی گئی تھی۔ تاحال این سی سی آئی اے یا دیگر سرکاری اداروں کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا جس میں کیس کی نوعیت، الزامات کی تفصیل یا گرفتاری کے قانونی طریقہ کار کی وضاحت کی گئی ہو۔دوسری جانب صحافی برادری کی جانب سے سوشل میڈیا پر اس واقعے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جس میں اسے اظہارِ رائے کی آزادی اور قانونی شفافیت سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔صحافی مریم نواز خان نے ایکس پر اپنے بیان میں کیس کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو بغیر الزامات بتائے گھروں سے اٹھایا جا رہا ہے اور انہیں بنیادی قانونی حقوق تک رسائی نہیں دی جا رہی۔ جوریہ صدیق نے بھی اس مبینہ گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فخر الرحمٰن کو ایک نامعلوم شکایت کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا، جبکہ نہ انہیں اور نہ ہی ان کے اہل خانہ کو الزامات سے آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے حکام سے شفافیت یقینی بنانے اور فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔سینئر صحافی مطیع اللہ جان نے بھی ایکس پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ فخر الرحمٰن کو این سی سی آئی اے نے ایک مبینہ ریاستی شکایت کے سلسلے میں گرفتار کیا، تاہم گرفتاری کے وقت شکایت کی تفصیلات صحافی یا ان کے اہل خانہ کے ساتھ شیئر نہیں کی گئیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں