معروف ٹی وی اینکر غریدہ فاروقی نے کہا ہے کہ حکام نے ان کے خلاف آن لائن ہراسانی کی منظم مہم چلانے والے افراد کے خلاف گرفتاریاں اور قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ حالیہ مہینوں میں صنفی بنیاد پر ڈیجیٹل بدسلوکی کے خلاف یہ نمایاں کارروائیوں میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے۔ چوبیس اپریل کوجاری اپنے عوامی بیان میں غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ انہوں نے 11 اپریل کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی( این سی سی آئی اے) میں شکایت درج کروائی تھی۔ ان کے مطابق یہ معاملہ “منظم صنفی ڈیجیٹل تشدد” کا تھا، جس میں ان کی ظاہری شکل سے متعلق نازیبا اور توہین آمیز مواد پھیلایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ این سی سی آئی اے نےشکایت پر کارروائی کرتے ہوئے کم از کم ایک ملزم کو چنیوٹ سے گرفتار کر لیا ہے، جبکہ مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔ غریدہ فاروقی کے مطابق ادارے نے ڈیجیٹل شواہد محفوظ کر لیے ہیں اور خبردار کیا ہے کہ پوسٹس حذف کرنے سے ملوث افراد قانونی کارروائی سے نہیں بچ سکیں گے۔اینکر نے اس مہم کو صرف ذاتی حملہ قرار دینے کے بجائے اسے عوامی زندگی میں سرگرم خواتین، خصوصاً میڈیا سے وابستہ افراد، کو ہراساں کرنے کے وسیع تر رجحان کا حصہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی قانونی کارروائیاں متاثرہ خواتین کا اعتماد بحال کرنے اور سائبر کرائم قوانین پر یقین مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ ٹی وی اینکر غریدہ فاروقی نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل سید خرم علی کا شکریہ ادا کیا ہے، جنہوں نے اس کیس کی نگرانی کی۔ غریدہ فاروقی کے مطابق خواتین کے خلاف جرائم کے حوالے سے “زیرو ٹالرنس پالیسی” اختیار کی جا رہی ہے۔ اگرچہ حکام کی جانب سے تاحال تحقیقات کے مکمل دائرہ کار سے متعلق کوئی تفصیلی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم غریدہ فاروقی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاملے کو انفرادی واقعات کے بجائے ایک منظم سائبر کرائم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
