تحریر: ذاکر اعوان،چیئرمین دیپ۔۔
ڈیسک پر ذمہ داریاں نبھانے والے صحافی اصل میں میڈیا انڈسٹری کا مظلوم طبقہ ہے جو دوسروں کی آواز تو بنتا ہے لیکن اس کی آواز کوئی نہیں بنتا ان کے مسائل سننے کے ذمہ دار بھی انہی میں سے منتخب کیے جاتے ہیں جو منیجمنٹ کا حصہ بننے کے بعد مالکان اور انتظامیہ کی خوشنودی کیلئے واپس اپنی برادری کو ہی تختہ مشق بنانے لگ جاتے ہیں۔ بحیثیت چیئرمین ڈیسک ایڈیٹرز ایسویشن پاکستان میں ان حالات میں عمران جونیئر ڈاٹ کام کو پاکستان بھر کے اِن ڈور صحافیوں کی واحد آواز سمجھتا ہوں۔ اخبارات اور ٹی وی چینلز کے تقریباً نوے فیصد ورکرز اپنا دکھ اور تکلیف عمران جونیئر ڈاٹ کام تک ہی پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ انکی آواز حکام بالا تک پہنچ سکے۔ عمران جونیئر ڈاٹ کام کی ٹیم سے اتنی گزارش ہے کہ ہرمظلوم کو آواز کو کسی بالا افسر کے دباؤ میں آئے بغیر اعلیٰ حکام تک پہنچانے کا یہ سلسلہ جاری رکھیں اور موصول ہونے والی ہر خبر کی مختلف ذرائع سے تصدیق ضرور کریں، عین ممکن ہے خبر دینے والا اس سے اپنا ذاتی مفاد حاصل کرنا چاہتا ہو۔ اور سب سے اہم بات ٹکرز کا سی جیز میں ہونے والی چھوٹی موٹی املا کی غلطیوں کو نظرانداز کیا کریں کیونکہ اس سے ڈیسک پر بیٹھے کسی ورکر کی ہی شامت آ جاتی ہے جو جلدی کرو جلدی کرو کے پریشر میں املا کی غلطی کر جاتا ہے۔ (ذاکر اعوان، چیئرمین دیپ)۔۔
