تحریر: سید بدرسعید۔۔
ایک وقت تھا کہ صحافتی یونین بہت مضبوط ہوتی تھی ۔ ہم جیسوں نے کتابوں میں پڑھا ہے اور سینئرز سے سنا ہے ۔ منہاج برنا ،نثار عثمانی سمیت درجنوں بڑے نام ایسے تھے جن کی وجہ سے صحافت کی آبرو ہے ۔ جرات مندی ، حق گوئی اور ورکرز کے حقوق کے لیے کسی بھی حد تک چلے جانے کی جہد مسلسل ہماری یونین کی پہچان تھی ۔ صحافیوں کے حقوق کے لیے اپنی ملازمتوں کی قربانیاں اور مقدمات کا سامنا سر کا تاج سمجھا جاتا تھا ۔
یہ سنہری دور گزر گیا ۔ صحافی راہنما امیر ہونے لگے ۔ مزدور کی بجائے ایلیٹ کی دوستی پر فخر کیا جانے لگے ۔ ہمارے صحافی راہنماؤں نے مہنگی گاڑیوں میں سفر کرنا شروع کر دیا اور مہنگی جائیدادوں کے مالک بن گئے ۔ جن کے سامنے احتجاج کرنا تھا انہی کے ساتھ فوٹو سیشن کو کامیابی سمجھا جانے لگا ۔ صحافی کمیونٹی کی اصل طاقت یونین تھی ۔ یہی طاقت مفادات کے ہاتھوں تقسیم ہوئی اور پھر مالکان سمیت جانے کس کس کی محافظ بنتی چلی گئی ۔ ورکرز بےروزگار ہوتے رہے لیکن یونین لیڈرز کے اثاثے بڑھتے رہے ، ورکرز مارے گئے ، دھمکیاں سنتے رہے ، تشدد کا نشانہ بنتے رہے ، ہراسمنٹ کا شکار ہوتے رہے لیکن یونین اور یونین کے راہنما لاپروا رہے البتہ جب جب مالکان پر حرف آیا یہی یونین آزادی صحافت کا نعرہ لگاتی رہی ۔ سچ کہیں تو اب عامل صحافیوں کو بھی علم نہیں کہ وفاقی سطح پر کتنی یونین بن چکی ہیں اور صوبائی سطح پر یہ تقسیم در تقسیم کا عمل کس حد تک جا چکا ہے ۔ ہر دوسرے دن کسی نئی یونین کے نام سے ایک نئی دکان کھلتی نظر آتی ہے ۔ اکثر یوجیز کے پاس اتنے ہی لوگ ہیں جتنے اس کے عہدے دار ہیں ۔ کہیں عزت بچانے کے لیے نام نہاد الیکشن کے لیے بھی پریس کلبز کے ممبران کی لسٹ پر الیکشن کرائے جاتے ہیں تو زیادہ تر اب بلا مقابلہ ہی ایک باڈی الیکشن ” جیت جاتی ہے ۔اس سے بڑا المیہ کیا ہو گا کہ صحافتی یونینز کے پاس الیکشن لڑنے کے لیے بھی صحافی نہیں رہے ۔
دوسری جانب انہی حالات میں ایک کارکن صحافی اٹھتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے “ون مین یونین ” بن جاتا ہے ۔ بول پر جب مشکل وقت آیا توعلی عمران جونیئر احتجاج کرنے والوں میں شامل تھے ۔ پھرانہوں نے اپنی ویب سائٹ بنائی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر بھی بول کے کارکنوں کی آواز بنے ۔ اپنا شہر چھوڑنا پڑا ، پردیس کاٹا ، انتہائی مشکل وقت دیکھا لیکن اپنے مشن میں ڈٹے رہے ۔ یہی عمران جونیئر ڈاٹ کام صحافی کارکنوں کی آواز بن گئی ۔ میڈیا ہاؤسز میں کارکنوں کو درپیش مسائل پر اگر کوئی مستند آواز ہے تو وہ یہی آواز ہے ۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ اس مشن میں علی عمران جونیئر کو کن کن مسائل کا سامنا کرنا پڑا ۔ “سینہ بہ سینہ” کا سلسلہ شروع ہوا تو بھونچال آ گیا ۔ کئی مقدمات درج ہوئے ، نوٹسز کی بھرمار ہوئی ، میڈیا ہاؤسز کے دروازے بند ہونے لگے ۔ بےروزگاری کا سفر شروع ہوا ، ہر لمحہ ہتھکڑیاں اور جیل سامنے نظر آنے لگی لیکن نہ کوئی لالچ اور نہ ہی کسی قسم کا خوف انہیں اپنے کاز سے دور ہٹا پایا ۔ ابھی بھی ان پر کیسز موجود ہیں اور ابھی بھی جونیئر کا نقاب اوڑھے یہ سینئر ایکس ٹو اپنے محاذ پر ڈٹا ہوا ہے ۔
اس وقت علی عمران جونیئر پورے ملک کے صحافیوں کی واحد توانا آواز ہے ۔ یہ ویب سائٹ واحد ویب سائٹ ہے جسے میڈیا مالکان اور میڈیا ہاؤسز کے اعلی عہدے داران سے لے کر ادنی کارکن تک باقاعدگی سے دیکھتے اور پڑھتے ہیں ۔
ہمارے یہاں شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار زیادہ ہیں ۔ علی عمران جونیئر کی مخالفت کرنے والے صرف اس لیے مخالفت کرتے ہیں کہ اس شخص نے ان کے ادارے کے خلاف کیوں لکھ دیا ۔ دوسری طرف جب وہی ادارہ انہی وفاداروں کو اچانک ملازمت سے برطرفی کر کے آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتا ہے تو ان “وفاداروں ” کا آخری مرکز یہی ویب سائٹ ہوتی ہے ۔ علی عمران جونیئر کسی گلے شکوے کے بنا ان کے ساتھ ہونے والا سلوک بھی ایسے ہی شائع کر دیتا ہے ۔
میں عمران جونیئر ویب سائٹ کے لیے لکھتا ہوں ۔ یہ شاید بڑی بات نہیں لیکن یہ بڑی بات ہے کہ علی عمران جونیئر جیسا سینیئر اور بہادر صحافی میرے دوستوں میں شامل ہے ۔ ان کے اکثر دوست یہ بات چھپاتے ہیں کہ اس سرپھرے سے تعلق ظاہر ہونے پر بھی میڈیا ہاؤسز کے دروازے بند ہو جاتے ہیں ۔ میڈیا مالکان مین پایا جانے والا یہ خوف نہ تو کسی یونین کے حوالے سے دیکھا گیا اور نہ ہی کسی یونین کے عہدے دار کے حوالے سے دیکھا گیا ۔ پورے ملک کے میڈیا ہاؤسز میں علی عمران کا ایسا نیٹ ورک ہے کہ مالکان یا اعلی سطحی افراد کے درمیان ہونے والی خفیہ میٹنگ کی مکمل رپورٹ بھی اسی ادارے میں من وعن شائع ہوجاتی ہے ۔
میں عمران جونیئر ڈاٹ کام کی پوری ٹیم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔انہوں نے انتہائی کم وقت میں نامناسب حالات اور کم وسائل کے ساتھ ناممکن کو ممکن کر دکھایا ۔ یقینا ان کا یہ سفر ابھی جاری ہے ۔ ہم جیسے دوست غیر مشروط طور پر ان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ دنیا بھر کی خبریں چھاپنے والوں کی خبر اگر آپ کر کہیں مل سکتی ہے تو وہ عمران جونیئر ڈاٹ کام ہی ہے۔(سید بدرسعید)۔۔۔
(لوگ اکثر پوچھتے ہیں آپ کا پپو کون ہے، آپ کی ٹیم میں کون کون شامل ہے؟ ۔۔ پپو تو کسی طور ہم سامنے نہیں لاسکتے، جس طرح پپو کو ہم خفیہ رکھتے ہیں، اسی طرح ہماری ٹیم بھی خفیہ ہی رہتی ہے کیونکہ جیسا سید بدر سعید نے اپنی تحریر میں بتایا کہ اس سرپھرے سے تعلق ظاہر ہونے پر بھی میڈیا ہاؤسز کےدروازے بند ہوجاتے ہیں۔۔ ہماری ٹیم میں ایڈیٹوریل ٹیم، ڈویلپرز، آئی ٹی ایکسپرٹ اور دیگر لوگ شامل ہیں۔ مسئلہ وہی ہوتا ہے کہ ٹیم ظاہر کرنے پر ان کی نوکریاں بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔۔ بدرسعید سے بھائیوں والا تعلق ہے۔۔ ان کی محبت ہے کہ ہماری ویب کیلئے لکھتے بھی ہیں اور جب ہمارا لاہور چکر لگتا ہے تو نہ صرف اپنے گھر میں رہنے پر مجبور کرتے ہیں بلکہ لاہور میں ہمارے قیام کے دوران سائے کی طرح ساتھ ساتھ رہتے ہیں اور اپنی ساری مصروفیات ترک کردیتے ہیں۔۔۔ سلامت رہیں۔۔ علی عمران جونیئر)۔۔
