تحریر:حسنین اخلاق
سمجھ نہیں پا رہا ہوں کہ ارباب اقتدار اور اپنوں کی کاوشوں سے پنجاب میں مرچکی صحافت کی میت کا آج اپنی آنکھوں دیکھا اور خود پر بیتا حال کیسے بیان کروں۔ اسے ذلت کی داستان کہوں یا لاقانونیت بہرحال کچھ بھی نام دیجیے نتیجہ صرف جہالت کی تسکین اور اہنکار تھا جس کا مجھے اڑھائی گھنٹے سامنا رہا۔ شاید کچھ صحافتی دوست یہ گواہی دے ہی دیں کہ میں گزشتہ تین دہائیوں سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہوں اور اس دوران بہت سے قومی اور بین الاقوامی جرائد میں لکھنے کے علاوہ ملک کے بہت سے معتبر صحافتی اداروں میں اہم مقام پر کام کرچکا ہوں اور اب بھی ایک سیٹلائٹ نیوز چینل سے وابستگی ہے۔اس طویل تمہید کا مقصد آپکو وہ داستان بے توقیری بیان کرنا ہے جس کا میں آج شکار رہا۔ آپ نے کچھ روز پہلے میرے فیس بک پیج پر ایل ڈی اے کے افسران کی کرپشن سے متعلق ایک سٹوری پڑھیں ہوگی جہاں لاہور کے علاقہ شاد باغ میں پلازہ مالکان کی جانب سے ایل ڈی اے افسران سے لین دین کرکے بغیر نقشہ منظوری کے کروڑوں روپے کی قانونی فیسیں جمع کروائے بغیر غیر قانونی پلازے کی تعمیر کرائی جارہی ہے۔ سٹوری کے بعد مجھے آج سورس نے بتایا کہ ایل ڈی اے افسران کو بتائے جانے کے باوجود وہاں کام جاری ہے جب میں نے وقت کی کمی کے باعث خود ہی موبائل سے پلازے میں کام جاری ہونے کی فوٹیج بنائی تاکہ خبر دے سکوں تو وہاں اندر موجود افراد نے مجھ پر گنیں تان لیں۔ مختصراً مزید ستم یہ کہ میں بدقسمتی سے ون فائیو پر کال کر بیٹھا اس کے بعد تین گھنٹے کی وہ ذلت تھی جو مجھے شاد باغ تھانے میں ایس ایچ او کی سیٹ پر تعینات اللہ رب العزت کی ابتر مخلوق (اللہ گواہ ہے مجھے اب تک اس کا نام نہیں پتہ) کے ہاتھوں برداشت کرنا تھی کہ الاماں الحفیظ۔ اس فی الوقتی فرعون نے تین منٹ کی گفتگو کے دوران میری طرف سے خود کو پریس کلب کا رکن بتانے پر بھڑکتے ہوئے مجھ پر آٹھ بار پیکا ایکٹ کی ایف آئی آر کاٹنے اور چھ بار گھٹیا کہنے اور میرے سروس کارڈ کو نقلی ثابت کرنے کے سوا کچھ زیادہ تو نہیں فرمایا۔۔۔ اور ہاں، جب میں نے انکے پوچھے جانے پر کہ “پتہ ای نا کہ پیکا کی اے” یہ بتانے کی جسارت کی کہ میں پنجاب یونین آف جرنلسٹس کا ایک ایک بار جوائنٹ سیکرٹری اور نائب صدر رہ چکا ہوں پر یونین کو لپیٹ کر ** میں دے دیا۔ جبکہ ہر آدھ گھنٹے بعد ایک سب انسپکٹر کے ذریعے “بس تیرے تے پرچہ ہون لگا اے” کی آواز اس ہزیمت کو تازہ رکھنے کے لئے علیحدہ احکامات جاری کئے تاکہ میں غلطی سے بھی خود کو قابل عزت نہ سمجھ بیٹھوں۔مجھ سے فون لے لئے جانے اور ملزمان کے ساتھ بند کردئیے جانے کے بعد یہ تو بھلا ہو ان تین چار غیر معروف صحافتی اداروں کے رپورٹرز کا جو وہاں کسی کام سے موجود تھے اور حالانکہ میں ان سے واقف نہیں تھا لیکن ان مہربانی کہ وہ مجھے جانتے تھے۔ سو انہوں نے غالبًا ایس پی سٹی کے فون کے ذریعے میری حبس بجا سے بازیابی کرائی۔ اب کسی دوست نے بتایا ہے کہ سی سی پی او آفس جاکر درخواست گزارو۔ میں سمجھ نہیں پا رہا ہوں کہ یہ احساس ذلت کو کم کرے گا یا دوگنا؟؟۔شام چھ بجے سے اب تک رب کعبہ کی قسم ہے کہ اینگزائٹی کا یہ عالم ہے کہ کئی بار سب کچھ ختم کردینے کا سوچ چکا ہوں۔(حسنین اخلاق)
