جو میں نے جانا

تحریر: ظہیر احمد بابر

عمران جونیئر ڈاٹ کام کو میں اتنا نہیں جانتا جتنا علی عمران جونیئر کو جانتا ہوں ۔ پہلی بار جب یہ نام سنا تب وہ کراچی میں تھے اور میں لاہور میں ۔ جن سے نام سنا وہ دبئی سے آئے تھے ۔ تب علی عمران جونیئر ان کے دبئی سے شائع ہونے والے اخبارات کو دیکھ رہے تھے جو بعد میں میری ادارت میں شائع ہوتے رہے ۔ ہماری ملاقات اس کے کوئی دس سال بعد نیونیوزلاہورمیں ہوئی ۔ جہاں وہ بھی ’بول متاثرین‘ میں شامل ہونے کے بعد روزگار کی تلاش میں خودساخته شہربدری پر مجبورہوئے تھے ۔ نیونیوز میں بھی ان کے بول متاثرہ ساتھیوں کا پورا ٹولہ موجود تھا ۔ الگ الگ ’اوقات غلامی ‘ ہونے کی وجہ سے ان کی دھماچوکڑی الگ رہی اور میری الگ ۔ البتہ جب مجھے علم ہوا کہ یہ وہی کراچی کے علی عمران جونیئر ہیں جن کا برسوں پہلے نام سنا تھا تویاد پڑتا ہے خود جاکر انہیں بتایا کہ برسوں کی ’نام نہاد‘ شناسائی تھی شکر ہے ملاقات بھی ہوگئی ۔ تب سے ملیں نہ ملیں ، ایک قلبی تعلق ہمیشہ کیلئے قائم ہوچکا ۔

علی عمران جونیئر سے مجھے ہمیشہ فیصل آباد کے سینئر صحافی اور اپنے دل کے انتہائی قریب دوست گلزارپاویل کی خوشبو آئی ۔ ( گلزار پاویل ایک ٹریفک حادثے میں دوہزار ایک میں دنیا چھوڑ چکے ) ۔ وہی دبلا پتلا جسم ، وہی بے فکرا لباس ، وہی لاابالی انداز ، وہی سیدھا لہجہ ، وہی من کی موج میں بستا شخص ، جسے جو صحیح لگا ، اس کے بعد نفع دیکھا نہ نقصان ۔ سب سے بڑا روگ ، کیا کہیں گے لوگ ، یہ علی عمران جونیئر کا کبھی مسئلہ ہی نہیں رہا ۔

انہی دنوں عمران جونیئر ڈاٹ کام کا علم ہوا ۔ اس میں شائع ہونے والی خبریں اور اندر کی باتیں پڑھیں ۔ پہلے تو لگا لاہور میں اکیلے رہتے ہیں ۔ اس لیے وقت گزاری کے لیے اچھا طریقہ نکالا ہے پھر لگا چونکہ خود بول نیوز کے متاثرین میں شامل ہیں اور اب بھی باقی ساتھیوں کے ساتھ واجبات کیلئے قانونی جنگ لڑرہے ہیں ۔ انہیں شدت سے احساس ہے کہ میڈیا ورکرز جو سب کی آواز بنتے ہیں لیکن خود ان کی آواز کہیں سنائی نہیں دیتی ۔ بظاہر بااختیار لیکن بے اختیار اتنے کہ اکثریت وقت پر تنخواہ مانگیں تو فراغت کی دھمکی ملتی ہے ۔ اگر انکریمنٹ مانگ لیں تو فوراً ، ملازمین نکالنے کی لسٹیں بننے کی سرگوشیاں شروع کردی جاتی ہیں ۔ کچھ عجیب سا بھی لگا کہ تالاب میں رہ کر مگرمچھوں سے بیر لینے کی جرات ۔ لگتا ہے ۔ زیادہ عرصہ ’’ مگر مچھ ‘‘ تالاب میں رہنے نہیں دیں گے اور پھر ہوا بھی یہی ۔ ڈائریکٹر نیوز محمد عثمان صاحب اور ہمارے لیے پاعثمان کو کئی بار اندرونی اور بیرونی دباؤ برداشت کرتے دیکھا۔ کئی بار وہ اپنے مخصوص برادرانہ انداز میں سمجھاتے بھی نظرآتے مگر وہ علی عمران جونیئرکیا جو من کی دنیا سے نکل کر تن کی فکر میں ہلکان ہو ۔ آخرکار تنخواہ ملنے میں کئی ماہ کی تاخیر ہوئی تولاہورسے بوریا بستر باندھا اور کراچی لوٹ گئے کہ پردیسی شہر میں بیگاری سے بہتر ہے وہ بے روزگاری جو گھروالوں کے ساتھ کٹے ۔

علی عمران جونیئر کے چلے جانے کے بعد ان کا لاہور وقتا فوقتا آنا جانا ہوتا رہا لیکن ملاقات شاید ہی ہو پائی ہو ۔ ٹیلی فونک رابطہ بھی کم کم ہی رہا ۔ اب اچانک برقی پیغام کے ذریعے حکم نما فرمائش آئی ۔ کچھ عمران جونیئر ڈاٹ کے لیے لکھیئے ۔ ان کے پیغام سے علم ہوا کہ ان کو یہ تپسیا کرتے ہوئے نو برس ہوگئے ۔ لازمی بات ہے ان کی بے روزگاری کو بھی کم وبیش اتنا ہی عرصہ ہوچلا ہے ۔ بے آوازوں کو آواز بننے کی قیمت خود جو چکائی سو چکائی ، عجیب بات نہیں کہ جہاں کہیں صاحبزادے نے نوکری پائی ۔ والد کے نام کا علم ہونے پرانتظامیہ نے فورا ہی چھٹی کرائی ۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ متعدد بار یہ بھی ہوا کہ جس ادارے کے ملازمین کے حق میں خبر لگائی وہاں کی  انتظامیہ کے کچھ مچھندر واہی تباہی بکتے نظر آئے ۔ یعنی پرائے بھی ہوئے ناخوش ، اپنے بھی ہیں ناراض ۔ ایک دو اداروں میں تو ہم بھی ان کے ’پپو‘ کی مخبریوں کانشانہ بنے ۔ سچ کہوں تو بہت برا بھی لگا کہ جو لکھا گیا اس کا پس منظرمکمل طور پروہ نہیں تھا جو بیان ہوا۔ مزید پوچھ تاچھ کرلیتے تو پورا سچ سامنے آتا ۔ بہت عرصے بعد ایک بار رابطہ ہونے پر شکوہ کیا تو جواب ملا ۔ ہم تو خبر دیتے ہیں ۔ چاہے کوئی خبربنے ۔ بروقت بتادیتے تو ضرورتصحیح کرلیتے ۔

صحافتی دنیا کا حصہ ہونے کے ناطے بخوبی جانتا ہوں کہ جو کام علی عمران جونیئر کررہے ہیں ۔ وہ کٹھن بھی ہے اور فائدہ مند بھی نہیں ۔ ان کے جو خبر کے ذرائع ہیں وہ محدود بھی ہیں اور رضاکار بھی ۔ کبھی کبھار ان کے ’پپو‘ اپنے ذاتی کیفیت کو بھی خبر کی شدت کا حصہ بنادیتے ہیں ۔ کئی بار مختلف پس منظر کو پیش منظر بنانے کی بھی وہ کوشش کرتے ہیں ۔ ایسے میں عمران جونیئر ڈاٹ کام کی ادارتی رٹ بہت اہمیت اختیار کرجاتی ہے ۔ یہ احساس بھی ہے کہ جب آپ پاپارازی جرنلزم کی راہ پر چلتے ہیں تو قدم بہ قدم پرمحتاط رہنا ممکن نہیں ہوپاتا ۔ اچھی بات یہ ہوتی ہے کہ جب متاثرہ فریق نشاندہی کرے تو راست قدم اٹھالیا جائے ۔ مجھے لگتا ہے صحافت کا یہ بنیادی سبق علی عمران جونیئر میرے سے زیادہ اچھی طرح جانتے ہیں ، سمجھتے ہیں اور اس پرعمل پیرا ہوتے ہیں ۔

ایک تلخ حقیقت بتاؤں ۔ علی عمران جونیئروہ شخص ہے ، جنہیں مزدورصحافی چاہتے ہیں وہ ان کی آواز بنے لیکن کوئی ان سے تعلق ظاہر نہیں کرنا چاہتا کیونکہ ان کا دل ڈرتا ہے ۔ کہیں یہ نہ ہوجائے ، کہیں وہ نہ ہوجائے ۔ میرا ان سے جو تعلق رہا اور جو ہے وہ بتادیا ۔ میں جس علی عمران جونیئر سے واقف ہوں ۔ وہ ایک کہانیاں لکھنے والا تخلیق کار تھا ۔ رزق کی تلاش انہیں صحافت کے میدان میں لے آئی ۔ ایک عرصے تک تخلیق کار اور صحافی کا تال میل رہا لیکن حالات ایسے بنے کہ صحافی ، تخلیق کار پرحاوی ہوگیا ۔ یہ ایک حساس تخلیق کار کی اندر کی تلخی ہی ہے جو عمران جونیئرڈاٹ کام کی صورت میں سامنے آئی ہے اور نوبرس سے علی عمران جونیئر یہ صلیب اپنے کندھے پر اٹھائے تنہا چلا جارہا ہے ۔ (ظہیر احمد بابر)۔۔۔۔

(محترم، تحریر لکھنے کیلئے شکرگزار ہوں۔۔ آپ سے ایک خاص قلبی تعلق رہا ہے اور انشاء اللہ آگے بھی رہے گا، لیکن آپ کی یہ بات کہ۔۔ ہم تو خبر دیتے ہیں ۔ چاہے کوئی خبربنے ۔ بروقت بتادیتے تو ضرورتصحیح کرلیتے ۔ ہمیں ہضم نہیں ہورہی، بلاشبہ ہماری خبروں کے زد میں کبھی کبھی قریبی دوست بھی آجاتے ہیں اور بہت عرصے بعد کہیں کوئی ملاقات اتفاق سے ہوجائے تو مل کر شکوے بھی کرتے ہیں۔  اس طرح کا کورا جواب دینا کبھی ہماری یا ہماری ٹیم کی عادت نہیں۔ ہم سے تو اجنبی بھی شکوہ کرتے ہیں کسی خبر سے متعلق تو ہم ان کی تکلیف دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ خبر سب کی لگاتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے دوستو کی تعداد میں کمی ہوتی جارہی ہے، کیوں کہ جب کام ہی ایسا کررہے ہیں تو پھر ہمیں ذہنی طور پر کسی بھی ردعمل کیلئے تیار بھی رہنا پڑتا ہے۔۔ آپ سے دلی معذرت اگر ہم نے ایسا کبھی کہا ہو، ویسے ہماری ایسی عادت نہیں کہ چٹا جواب دیں کسی کو۔۔۔ بہرحال آپ بھی ہم میں سے ہی ہیں۔ اس لئے آپ کو بھی ان باتوں کا علم ہے کہ ابتدائی خبر جب بریکنگ ہوتی ہے تو ویسے ہی چلائی جاتی ہے، وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اپ ڈیٹ ہوتی جاتی ہے۔۔ آپ کو محبتوں کا تاحیات ممنون۔۔ آپ کا اپنا۔۔ علی عمران جونیئر)۔۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں