تحریر: محمد عثمان۔۔
میں دل کی گہرائیوں سے عمران جونیئر ڈاٹ کام کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ اس ویب سائٹ نے کامیابی سے نوسال پورے کئے، اور اس نو سال کے سفر کا میں گواہ بھی ہوں اور کہیں کہیں متاثرین میں بھی شامل ہوں۔
علی عمران جونیئر کو ہم دوست احباب پیار سے “چاچا” بھی کہتے ہیں، انہوں نےجس مشکل کام کا بیڑہ اٹھایا تھا اس وقت ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ اس مشکل کام کا آگے چل کر اثر کیا ہونےوالا ہے لیکن آج یہ بات بلاتردید کہی جاسکتی ہے کہ پورے میڈیا کی جو خبریں ہیں یا میڈیا میں ان سائیڈ جو چل رہا ہوتا ہے وہ علی عمران جونیئر کے سینہ بہ سینہ اور ویب سائٹ پر خبروں کی شکل میں سامنے آتا رہا ہے۔
علی عمران جونیئر میڈیا کی آواز بھی بنتے رہے ہیں،بدقسمتی سے میڈیا میں کام کرنے والے کارکنان دوسرے شعبوں میں کام کرنے والوں کی آواز تو بنتے ہیں، ان کے حق کیلئے آواز بھی اٹھاتے ہیں میڈیا کے ذریعے، خواہ وہ حکومتی ادارے ہوں،اپوزیشن کے لوگ ہوں یا دوسرے نجی و سرکاری اداروں کے ملازمین ہوں، لیکن اپنی خبر یا اپنے حق کیلئے آواز اس طرح بلند نہیں کرسکتے، نہ انکی خبریں چل سکتی ہیں۔ بہرحال عمران جونیئر ڈاٹ کام کے ذریعے میڈیا کے لوگوں کو ایک موقع ملا اپنی آوازپہنچانے کی۔۔ کئی بار ہم نے دیکھا بھی بہت سے لوگ علی عمران جونیئر سے رابطہ کرتے ہیں، یہ ان کی آواز بنتے ہیں اور کئی بار انہوں نے ان کا حق بھی دلایا ہے۔
مالکان کی حد تک اور حکومتی سطح تک عمران جونیئر ڈاٹ کام کو دیکھا بھی جاتا ہے اور انہیں سنجیدہ لیا بھی جاتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ خود علی عمران جونیئر نے ذکر بھی کیا کہ اس ویب سائٹ کی وجہ سے علی عمران جونیئر پر مختلف میڈیا ہاؤسز میں نوکری کے دروازے بھی بند رہے، ظاہر سی بات ہے جب آپ مالکان کی خبریں لگائیں گے میڈیا ورکرز،صحافیوں کی خبریں لگائیں گے تو دشمنوں کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے، کوئی بھی رسک لینے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔
جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا کہ میں عمران جونیئر ڈاٹ کام کے متاثرین میں بھی شامل ہوں کیوں کہ اس کی وجہ سے بہت سارے دوست مجھ سے اس لئے ناراض ہوئے کہ علی عمران جونیئر آپ کے ادارے میں بیٹھ کر ہمارے خلاف خبریں لگارہے ہیں،یہاں میں مثال دوں گا کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے خلاف کوئی خبر ویب سائٹ پر لگ گئی تھی، ڈاکٹر عامر لیاقت حسین سے میرا بہت پرانا تعلق جیونیوزکے ابتدائی دنوں سے رہا، بڑا پیار اور محبت کا رشتہ تھا، شاید کسی ایک خبر کے حوالے سے ان سے تلخی بھی ہوگئی، لیکن بعد میں تلخی دور ہوگئی، تعلقات ٹھیک ہوگئے، چیزیں بھی ٹھیک ہوگئیں۔ کچھ اور اداروں کے خلاف اگر خبریں عمران جونیئر ڈاٹ کام پر لگتی تھیں تو ان اداروں کے مالکان ہمارے ادارے کے مالک سے رابطے کرتے تھے اور شکایت کرتے تھے کہ آپ کے ادارے میں بیٹھ کر ایسی خبریں چل رہی ہیں ۔ ان مشکلات کا سامنا تو کیا علی عمران جونیئر نے، وہ بارہا کہتے بھی رہے کہ اس حوالے سے انہیں معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، ان کی مستقل مزاجی کا نتیجہ ہے کہ آج عمران جونیئر ڈاٹ کام میڈیا انڈسٹری کی بڑی معتبر ویب سائٹ اور بڑا نام ہے،
میری دعا ہے کہ عمران جونیئر میڈیا کے حوالے سےاپنا تعمیری کردار ادا کرتے رہیں، جو مسائل ہیں ان کی نشاندہی کرتے رہیں، اس کا سہرا ان کو جاتا ہے جو اب تک انہوں نے کیا ہے۔ اس ویب سائٹ کو میڈیا ورکرز کی تربیت کا پلیٹ فارم بنائیں۔۔ ہماری نیک تمنائیں علی عمران جونیئر کےساتھ ہیں۔۔(محمد عثمان)۔۔۔
( عثمان بھائی تہہ دل سے مشکورہوں۔ آج میں جو کچھ بھی ہوں آپ کی بھرپورسپورٹ اور سرپرستی کے یہ ممکن نہیں تھا۔ ہر نئے کام کی شروعات بہت مشکل ہوتی ہے، عمران جونیئر ڈاٹ کام کآ آغاز آپ کی نظروں کے سامنے آپ کے زیرسایہ نیونیوز میں کام کرتے ہوئے کیا۔۔ اگر آپ ساتھ نہ دیتے تو آج صحافی اور میڈیا ورکرز اس پلیٹ فارم سے محروم رہتے۔۔ لاہور میں جتنے سال گزارے آپ نے بالکل بڑے بھائیوں کی طرح محبت دی، خیال رکھا۔۔ آپ کیلئے ہمیشہ دل میں احترام کا رشتہ برقرار رہے گا۔۔ آپ کیلئے ہمیشہ دعاگو۔۔ آپ کا نالائق شاگرد۔۔۔ علی عمران جونیئر)۔۔۔

علی عمران جونیئر کو میں آج تک نہیں سمجھ سکا ہوں حالانکہ انکے ساتھ سوا سال تک اسٹار مارکیٹنگ میں کام بھی کیا ، اور اس دوران ہمارے درمیان تعلق مناسب ہی رہا مگر بعد میں وہ بہت کم ہی ملنے کو تیار ہوئے اور اکثر کسی نہ کسی بہانے بالخصوص بیماریوں کے بہانے ملنے سے گریزاں رہے ۔۔ اس رؤیئے کو میں نہایت توہین آمیز باور کرتا ہوں اسی لیئے اب ان سے تعلق واسطہ بھی سمیٹ لیا ۔۔۔ اور پہلے کبھی انکی اس ویب سائٹ کے لیئے لکھتا بھی رہا ہوں مگر انکے اس عجیب و غریب رؤیئے کے بعد یہاں تحریری تعلق بھی نہیں رکھا – میرا خیال ہے کہ وہ صرف اپنے مفاد کی دنیا کے اسیر ہیں اور کسی سے اسی وقت تک رابطے میں رہنا پسند کرتے ہیں کہ جب تک اس سے کوئی کام نکلنے کی امید باقی ہو۔۔۔