جہاں خبردینے والے خبر بنتے ہیں

تحریر: اسعد نقوی۔۔

عمران جونیئر ڈاٹ کام کو نو برس مکمل کرنے پر مبارکباد۔۔ یہ وہ پلیٹ فارم ہے جہاں صحافیوں کی خبر لگتی ہے بلکہ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ یہاں خبر بنانے والے خود خبر بن جاتے ہیں ۔

علی عمران جونیئر کے پپو کی خبریں میڈیا انڈسٹری کو جوڑ کر بھی رکھتی ہیں اور بھونچال بھی لے آتی ہیں ۔

کوئی شخص صحافتی قوانین یا اخلاقیات پر بات کرے  تو وہ بھی یہاں نظر آتا ہے۔اگر کوئی ان قوانین کو توڑے تو وہ بھی یہیں نظر آتا ہے۔

کئی بار تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے علی عمران جونیئر نے میڈیا  انڈسٹری کی خرابیوں اسی طرح نشان دہی کرنے  کا بیٹرا اٹھا رکھا ہے جیسے صحافی معاشرے کی خرابیوں کی نشان دہی کرنے کو اپنا فرض مانتے ہیں ۔

نو برسوں میں علی عمران جونیئر کا نیٹ ورک اتنا مضبوط نظر آتا ہے کہ اکثر ہم لاعلم ہوتے ہیں اور یہیں ہمارے قریب سے کوئی کہانی جنم لے کر بھونچال مچا رہی ہوتی ہے۔ کئی بار سنا کہ علی عمران جونیئر کو نوکری سے بھی ہاتھ دھونے پڑے مگر وہ نہیں ہٹا۔

شاید اس کی وجہ یہی ہے کہ خبر کچھ بھی ہو علی عمران جونیئر نے لگا دی تو ہزار سفارشیں آئیں وہ پیچھے نہیں ہٹتا، اپنی خبر پر اسٹینڈ لیتا ہے۔

اختلافات اپنی جگہ ہوں گے لیکن ایک چیز ماننی پڑے گی علی عمران جونیئر کی واحد ویب ہے جہاں صحافیوں کی بات ہوتی ہے وہ ویج بورڈ ایوارڈ ہو یا یونین کی سازش یا اداروں میں ڈاؤن سائرنگ، یا نئی جابز، ہر خبر سامنے آتی ہے۔

سینہ بہ سینہ  کا سلسلہ تاخیر کا شکار ہو رہا ہے اسے ریگولر کریں۔ اور میڈیا کے لوگوں کی تحاریر بھی ویب کی زینت بناتے رہیں، اس میں بھی تعطل آ رہا ہے۔ جدید طریقے اور ڈیجیٹل میڈیا سے متعلق آگاہی خبر یا معلومات بھی حصہ بنائیں ۔کچھ ایسا سلسلہ رکھیں جس سے سے صحافیوں میں  جدید تقاضوں کو سیکھنے اور آگے بڑھنے کی لگن بھی پیدا ہو

علی عمران جونیئر کو کامیابیوں کے نو برس مبارک۔مزید کامیابیوں کے لیے دعا گو۔۔(اسعد نقوی)۔۔

( آپ کے فیڈبیک کا شکریہ، آپ نے توجہ دلائی کہ سینہ بہ سینہ کا سلسلہ تاخیر کا شکار ہورہا ہے، اس میں سارا قصور سراسر ہمارا ہی ہے، ڈھیروں مصروفیات کی وجہ سے روزانہ بہت سے کام نہیں کرپاتے۔ ہمیں احساس ہے سینہ بہ سینہ میڈیا انڈسٹری میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا سلسلہ ہے، ہماری پوری کوشش ہوگی کہ کم از کم مہینے میں ایک بار سینہ بہ سینہ کی نئی قسط لکھ سکیں۔ باقی رہی بات میڈیا کے لوگوں کی تحاریر کی تو جب بھی وہ لکھیں جو بھی وہ لکھیں اس ویب کو اپنا سمجھ کر لکھیں، کبھی بھی ان کی تحریر ڈسٹ بن کا شکار نہیں بنتی ۔ مسئلہ یہ ہے کہ میڈیا میں کام کرنے والے لوگ ڈرتے ہیں، اس ویب پر لکھنے کی بات ہو یہاں تک کہ فیس بک پر کمنٹس تک نہیں کرتے کہیں جاب نہ چلی جائے۔ اس ویب پر ہم نہ صرف میڈیا کی تاریخ کے بارے میں وقفے وقفے سے تحریریں شائع کرتے ہیں بلکہ ڈیجیٹل میڈیا کے حوالے سے آگاہی خبریں اور تحاریر بھی شامل کرتے ہیں۔ مسئلہ یہاں بھی ایک آڑے آتا ہے کہ ہمارے نوجوانوں نے مطالعہ کرنا چھوڑ دیا ہے، نوجوان صحافیوں کو ہم آنے والے خطرات سے بھی آگاہ کرتے ہیں، مارکیٹ میں چلنے والے ٹرینڈز پر بھی بات کرتے ہیں، میڈیا کی جابز بھی شیئر کرتے ہیں۔۔ آخر میں صرف ایک درخواست یہ ویب علی عمران جونیئر کی نہیں بلکہ ہر صحافی اور میڈیا ورکر کی ویب ہے، جب تک ہم سب اسے اون نہیں کریں گے تب تک ایک موثر آواز کبھی نہیں بن سکتے۔۔ علی عمران جونیئر)۔۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں