تحریر: ندیم اعوان
چراغ گرد و نواح کے اندھیرے کو ختم کرکے روشنی دیتا ہے اس کی روشنی کی مدد سے لوگ آگے بڑھتے، کام کرتے اور دوسروں کے کام آتے ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ چراغ تلے اندھیرا ہوتا ہے۔۔
کچھ ایسی ہی صورتحال میڈیا انڈسٹری کی ہے۔ جو معاشرے میں ہونے والے ظلم، نا انصافی، کرپشن کے بازار کی نشاندھی کرتی ہے۔ میڈیا میں خبر آجانے کے بعد لوگوں کے سالوں سے پھنسے مسئلے دنوں میں حل اور نظام پر مسلط کرپٹ اور ظالم لوگ اپنے انجام کو پہنچتے ہیں۔
دنیا بھر کی خبروں پر نظر رکھنے والے اپنی دنیا سے بے خبر ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ کوئی اخبار یا چینل اپنے کسی ہم عصر کے حوالے سے کوئی خبر نشر کرتا ہے نہ صحافی برادری کے مسائل پر کوئی آواز بلند کرتا ہے۔
شعبہ جاتی صحافت میں معاشرے کے ہر پہلو پر آئین، قانون، اخلاقی و معاشی حوالوں سے تنقید برائے اصلاح ہوتی ہے۔
میڈیا انڈسٹری کی اپنی خبروں روشنی پھیلانے والے چراغ کے نیچے ایک عرصے سے دب رہی تھیں۔ پھر نئے دور کے نئے تقاضوں کے مطابق علی عمران جونئیر صاحب نے چراغ کے بجائے انرجی سیور جلانے کا فیصلہ کیا جو ہر طرف روشنی ڈال سکتا تھا۔۔
تقریبا 9 سال قبل عمران جونئیر ڈاٹ کام کی بنیاد رکھی گئی جس میں اخبار و ٹی وی کی دنیا سے منسلک ان خبروں کو منظر عام پر لانا شروع کیا گیا جو عموما انڈسٹری کے لوگوں میں سینہ بہ سینہ چلتی تھیں۔
اس ویب سائٹ نے اچانک صحافی برادری میں ہلچل مچا دی اور وہ خبریں جو عام لوگوں تک نہیں پہنچ پاتی تھیں وہ مستقل سلسلہ “سینہ بہ سینہ” میں منظر عام پر آنا شروع ہوگئیں۔ لوگوں کو اس سلسلہ کی اگلی قسط کا انتظار ہوتا اور پھر اس کے بعد متعلقہ ادارے میں کھلبلی مچ جاتی کہ بات باہر کیسے نکلی؟
یقینا یہ آسان کام نہیں تھا۔ چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے بعد نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔ عمران جونئیر کی ٹیم کو اس کا خوب خمیازہ بھی بھگتنا پڑا۔ مگر ایک بات ضرور ہے اس سے اس کارکن صحافی یا میڈیا ملازم کی داد رسی ضرور ہوئی جو بند کمروں یا میڈیا ہاؤسز کے اندر خود پر ہونے والی زیادتی کو “شادی شدہ مرد” کی طرح کسی کو بتا نہیں سکتا۔ سب یہ سمجھتے کہ صحافی بن کر بہت مزے میں ہے۔
ایک اور بات آئینہ جھوٹ نہیں بولتا اور اسے توڑنے سے چہرے کے داغ دھبے صاف نہیں ہوجاتے۔ عمران جونئیر ڈاٹ کام نے میڈیا انڈسٹری کو آئینہ دکھایا اسے انتقام کا نشانہ بنانے کی بجائے اپنا چہرہ دیکھ کر چہرہ صاف کرنے اور نکھار لانے کی ضرورت ہے۔
میں عمران جونئیر کی ٹیم کو کامیاب 9 سال کی جہد مسلسل پر مبارکباد دیتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ یہ اسی طرح اس مشکل مگر نہایت اہم ذمہ داری کو ادا کرتے رہیں گے۔ (ندیم اعوان)۔۔۔
