azadi sahafat par pabandian na manzoor kuj convention

آزادی صحافت پر پابندیاں نامنظور، کے یوجے کنونشن۔۔

خصوصی رپورٹ۔۔

پی ایم ڈی اے ملک کے بائیس کروڑ عوام کیخلاف سازش ہے اس سازش کو روکنے کے لیے پی ایف یو جے کی نومبر میں شروع ہونے والی تحریک میں سیاسی جماعتیں، وکلا، مزدور، نوجوان اور سول سوسائٹی ساتھ ہوگی حکومت کو ملک میں آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت پر پابندیاں نہیں لگانے دیں گے آزادی صحافت کی ضمانت پاکستان کی ضمانت ہے اگر پاکستان کو بچانا ہے تو آزادی اظہار رائے کو بچانا ہوگا اس کیلئے سیاسی ، سماجی و مزدور تنظیموں وکلا اور نوجوانوں کو صحافیوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، پریس کی آزادی اور ورکرز کے حقوق کیلئے پی ایف یو جے منظم تحریک کی جانب بڑھ رہی ہے پی ایف یو جے نے حکومت کو مسائل سے آگاہ کیا ہے مگر بے حس حکومت نے ان پر کوئی توجہ نہیں دی، اپنے مطالبات کے حق میں لانگ مارچ کریں گے اور پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیں گے پاکستان کو بچانے تک یہ تحریک نہیں رکے گی۔ ان خیالات کا اظہار پی ایف یوجے کے زیراہتمام کراچی کے مقامی ہوٹل میں آزادی صحافت اور صحافت کو درپیش مسائل کے مسائل کا حل کے عنوان سے منعقدہ جرنلسٹس کنونشن سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کیا، سیمینارمیں سینیٹر شازیہ مری،  اے این پی سندھ کے صدر شاہی سید، سابق گورنر سندھ اور مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدرشہزادہ ذوالفقار، سیکریٹری جنرل ناصرزیدی، ایپنک کے مرکزی چیئرمین عرفان علی، پی ایف یوجے کے سابق سیکریٹری جنرل مظہر عباس، خورشید عباسی، اے پی این ایس کے صدر سرمد علی، ورکرزپارٹی کے سیکریٹری جنرل اور ممتاز قانون دان اختر حسین ایڈووکیٹ، مزدوررہنما کرامت علی، ناصر منصور، زہرا خان، سندھو نواز گھانگرو، ہیرالڈ ورکرز یونین کے صدر کاشف صدیقی اور کے یو جے کے صدر نظام الدین صدیقی نے بھی خطاب کیا ۔ تقریب کی نظامت کے فرائض جنرل سیکریٹری کے یوجے فہیم صدیقی نے انجام دیئے۔ اس موقع پر برابری پارٹی کے سربراہ جواد احمد بھی موجود تھے۔ سینیٹر شازیہ مری نے کہا کہ ہم ملک کی صحافی برادری کے ساتھ کھڑے ہیں ہماری اورآپ کی لڑائی ایک ہی ہے۔ ناصرزیدی سمیت تین صحافیوں نے ضیاء کے کالے مارشل لا دور میں کوڑے کھائے، صحافیوں نے ہمیشہ جمہوریت کی جدوجہد میں اہم کردارادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ قدم بڑھائیں ہمارے کارکنان آپ کے ساتھ ہوں گے، اس کالے قانون کو جوصحافت پر قدغن لگانے کے لئے نافذ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ہم اسے مسترد کرتے ہیں، آج کا حسن یہ ہے کہ صحافی اپنے اداروں کے مالکان کے سامنے اپنے حقوق پیش کررہے ہیں، آپ جنون کی جنگ جاری رکھیں، ملک کے مزدوروں سمیت آدھا پاکستان آپ کے ساتھ کھڑا ہوگا، آج جو مسائل پاکستان کو درپیش ہیں اس کی مثال نہیں ملتی، آج پاکستان کے کسی شعبے میں استحکام نہیں ہے۔ اگر ہے تو قرضے مانگنے میں ہے اور مہنگائی بڑھانے میں ہے انہوں  نے کہا کہ میڈیا مالکان کو ورکرز کے مسائل کا بھی ادراک ہونا چاہئے سندھ حکومت کی طرح کم سے کم اجرت پچیس ہزار روپے روپے مقرر کریں اور اپنے ملازمین کو بروقت تنخواہ دیں انہوں نے کہا کہ عاصمہ شیرازی آج مزاحمت کی علامت بن گئی ہیں، وہ بہادر صحافی ہیں، ہم حکومتی افراد کا بھونکنا برداشت نہیں کریں گے ہمیں ان جھوٹے حکمرانوں سے نجات حاصل کرنا ہوگی، انہوں نے کہا کہ آپ بھی جانتے ہیں کہ اصل صحافی کون ہے آپ کی صفوں میں بھی کچھ لوگ گھس آئے ہیں اگر کوئی قانون اسٹیک ہولڈرزکو اعتماد میں لیے بغیر بنایا گیا تو وہ قابل قبول نہیں ہوگا اور ہم آپ کی ہر جدوجہد میں آپ کے ساتھ ہوں گے۔ بے نظیرکے وہ بیٹے موجود ہیں جو دہشتگردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا جانتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے رہنما اور مریم نواز کے ترجمان محمد زبیر نے کہا کہ آزادی صحافت اورآئین کے تحفظ کیلئے مسلم لیگ نون سب سے آگے ہے اور سب سے زیادہ قربانیاں ہم نے دی ہیں انہوں نے کہا کہ وہ کون لوگ ہیں جو کسی کو بھی اٹھا کر لے جاتے ہیں، ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، صحافیوں کا معاشی تحفظ بھی ضروری ہے، اسد طور سے اظہار یکجہتی کیلئے پی ڈی ایم کی قیادت گئی تھی۔ تاہم جب ہم پر کوئی حملہ ہوتا ہے تو کوئی ہمارے لیے آواز نہیں اٹھاتا۔ پی ایف یوجے کے صدر شہزادہ ذوالفقار نے کہا کہ جب ہم نے تحریک کا آغاز کیا تو یوتھ ، ڈاکٹرز، وکلا مزدوررہنماوں اورسیاسی جماعتوں کی جانب سے حوصلہ افزائی کی گئی انہوں نے کہا کہ یہ جنگ پوری سوسائٹی کی ہے۔ آزادی اظہار کی اس جدوجہد کو سیاسی ورکرز اور سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ ہم دو نومبرکو تحریک آگے بڑھانے کااعلان کریں گے اور ہم جانتے ہیں کراچی ہمیشہ کی طرح اس بار بھی بھرپور طریقے سے ہمارے ساتھ ہوگا پاکستان فیڈرل آف یونین جرنلسٹس کے سیکریٹری جنرل ناصرزیدی نے کہا کہ ہم نے سندھ دھرتی کے لوگوں کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کیا ہے، ہم سکھر اور حیدرآباد کے بعد کراچی کے لوگوں سے مخاطب ہیں، ہم نے ہمیشہ جمہوریت، آئین کی بالادستی، آزادی صحافت کی جدوجہد کی ہے، آج ملک مسائل کا شکار ہے، ٹریڈ یونین پر شب خون ماراگیا ہے۔ وہ قوتیں جنہیں آزادی برداشت نہیں وہی آزادی پر شپ خون مارتی ہیں۔ پی ایف یوجے ایک بڑے مقصد کیلئے آپ سے مخاطب ہے، اداروں میں برطرفیاں ہوئی ہیں جو ناقابل قبول ہیں، حکومت کے سامنے مطالبات رکھ رہے ہیں کہ صحافیوں کا تحفظ کیا جائے اور آزادی صحافت پر قدغن کیلئے کوئی قانون نہ بنایا جائے، میڈیا مالکان ویج ایوارڈ کے مطابق تنخواہیں دیں۔ الیکٹرانک میڈیا مالکان جب چاہتے ہیں ورکرز کو نکال دیتے ہیں،  ہم نے ان مسائل پر پارلیمان کے سامنے احتجاج کیا، پریس پر پابندیاں اورصحافیوں کا معاشی قتل قبول نہیں کریں گے۔ کے یوجے پی ایف یو جے کی مدر باڈی ہے اور اس نے ہمیشہ پی ایف یوجے کا ساتھ دیا ہے انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ وہ کون سی قوتیں ہیں جو جعلی خبروں کے ذریعے سیاستدانوں کی تذلیل کرتی ہیں، جعلی خبروں کوروکنے کا قانون موجود نہیں، ایسٹ پاکستان کی توہین جعلی خبروں کے ذریعے کی گئی، جعلی خبروں کے ذریعے ایوب خان نے سیاستدانوں کو بدنام کیا۔ ہمارے میڈیا مالکان جعلی خبروں کا ذریعہ ہیں اور جعلی خبروں کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم اپنے انیس مطالبات پر لانگ مارچ کریں گے اورپارلیمان کے سامنے دھرنا دیں گے پی ایف یوجے صحافیوں کی جدوجہد میں سب سے آگے ہوگی کیونکہ یہ پاکستان کو بچانے کی تحریک ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر شاہی سید نے کہا کہ پی ایف یوجے اور کے یوجے کی ہمت کوسلام پیش کرتا ہوں۔  کراچی کے صحافیوں کا شکر گزار بھی ہوں اورساتھ دینے پر قرض دار بھی ہوں، انہوں نے اس وقت میرا ساتھ دیا جب بیس بیس لاشیں گرتی تھیں، آج آپ کے سامنے بڑا چیلنج ہے۔ ایماندار صحافیوں کی جدوجہد قابل تعریف ہے اگر صحافی ہمت ہار گئے تو سیاستدان کچھ نہیں کرسکتے۔ مضبوط اداروں سے مضبوط ممالک بنتے ہیں۔ مضبوط صحافت سے پارلیمان بھی مضبوط ہوگا اور عدلیہ اور دیگر ادارے بھی۔ آج پارلیمان عدلیہ سمیت کوئی ادارہ آزاد نہیں ہے کیا عمران نیازی آزاد ہیں، کتابیں پڑھنے والے لوگ سوال کرتے ہیں ہمیں ایسی سوچ کی ضرورت ہے جو سوال کرے۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدان بھی رویہ درست کریں آئے دن جماعت تبدیل کرنا درست نہیں ہمیں خود احتسابی کی ضرورت ہے ہمیں اس نظریہ کو اپنانا ہوگا کہ ہمیں اس شخص کو نہیں لینا اپنی جماعت میں جو دوسری جماعت چھوڑ کرآئے، انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی جنگ میں ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم آزادعدلیہ، آزاد میڈیا، آزاد الیکشن کمیشن اور آزاد پارلیمان چاہتے ہیں۔ پی ایف یوجے کے سابق سیکریٹری جنرل مظہرعباس نے کہا کہ پی ایف یوجے نے ایک ایسی جدوجہد کا آغاز کیا ہے جو ہمارے لئے نئی نہیں ہے۔ ہمارا ہمیشہ سول حکومت اورآمریت سے مقابلہ رہا ہے۔  بدقسمتی سے قیام پاکستان سے لے کر آج تک کوئی ایسا سیاستدان نہیں آیا جس نے ایسا قانون بنایا ہو جس سے صحافیوں کا تحفظ ممکن ہوسکے۔ ہرحکومت نے صحافیوں پرقدغن لگانے کیلئے قانون سازی کی کوششیں کیں، آج پچاسی فیصد ملازمین کنٹریکٹ پر نوکریاں کررہے ہیں میڈیا پر پابندیاں لگانے والے آمروں اور سول حکومتوں کیخلاف پی ایف یوجے نے ہمیشہ جدوجہد کی ہے۔ ملک میں کنٹریکٹ ملازمتوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ تاہم کوئی ایک ایسی سیاسی جماعت نہیں جس  نے کنٹریکٹ ملازمت کے خاتمے کیلئے آواز اٹھائی ہو، مالکان کو کے یوجے کے مطالبات پر غور کرنا ہوگا، سیاسی جماعتوں کو بھِی سوچنا ہوگا کہ صحافیوں کی آزادی کیلئے ان کا کیا کردار رہا ہے ہیرالڈ ورکرز یونین کے صدر کاشف صدیقی نے کہا کہ ڈان میں سب کام کرنے والوں کو دس سال پہلے والی تنخواہوں پر واپس لایا گیا ہے، اخباری ورکرز کی تنخواہیں اس قدر کم ہیں کہ ان کے بچے تعلیم حاصل نہیں کرسکتے پی ایف یوجے کے سابق سیکریٹری جنرل خورشید عباسی نے کہا کہ میڈیا کی آواز کو دبایا گیا تو پھر کچھ نہیں بچے گا، ملک کو بچانے کیلئے میڈیا کے ساتھ سب کو کھڑا ہونا ہوگا مزدور رہنما ناصر منصور نے کہا کہ ملک میں ہر طرح کا بحران شدت اختیار کرتا جارہا ہے، آج ملک میں خوف کی فضا ہے لیکن خوف کا یہ ماحول ٹوٹ بھِ رہا ہے، اب لوگ کھل کرتنقید کررہے ہیں سماجی رہنما کرامت علی نے کہا کہ آزادی اظہار رائے کی جدوجہد کو ناکام نہیں ہونا چاہئے، ہمیں ایک پلیٹ فارم بنانا چاہئے جس پر تمام طبقوں کے افراد آکر ہمارے ساتھ شامل ہوں، یہ لڑائی ہمیں سنبھل کر لڑنا ہوگی سندھ یوتھ کونسل کی چیئرپرسن سندھو نواز نے کہا کہ جب آزادی اظہار کی بات کرتے ہیں تو پابندیاں لگادی جاتی ہیں۔ اے پی این ایس کے صدر سرمدعلی نے کہا کہ حکومتی اقدامات نے تمام میڈیا کارکنان کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کردیا ہے، وفاقی وصوبائی حکومتوں پر اخبارات کے چھ ارب روپے کے واجبات ہیں، ہم نے کہا کہ کارکنان کی تنخواہیں ہیں اشتہارات بڑھادیں لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیا، پریس اس وقت آزاد ہوگا جب اس کے پاس معاشی آزادی ہوگی۔ ایپنک کے مرکزی چیئرمین عرفان علی نے کہا کہ میڈیا پر پابندیاں ہمیشہ سے رہی ہیں کبھی بولنے کی آزادی نہیں دی گئی، میڈیا پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں یہی وجہ ہے کہ لوگوں میں مایوسی ہے، ان حالات میں یونینز کا بننا بہت مشکل ہوگیا ہے، سندھ حکومت نے کم ازکم تنخواہ پچیس ہزارروپے مقرر کرکے اچھی مثال قائم کی ہے، صحافیوں کیلئے تحفظ کیلئے سندھ اسمبلی سے بل پاس ہونا عمدہ کام ہے۔ عوامی ورکرز پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور پاکستان جوڈیشنل کونسل کے رکن ممتاز قانون دان اختر حسین ایڈوکیٹ  نے کہا کہ آزادی اظہار کی لڑائی وکلا اور صحافیوں کی مشترکا ہے یہ جنگ مل کر ہی لڑنا ہوگی، سیاسی قیادت کو بھی اس جنگ میں صحافیوں کا ساتھ دینا ہوگا، کنونشن کے اختتام پر شرکا نے پی ایف یوجے اور ایپنک کے مطالبات پر دستخط بھی کئے۔(خصوصی رپورٹ)۔۔

How to write on Imranjunior website
How to write on Imranjunior website
Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں