mein kiske hath mein apna lahu talash karu | Umair Ali Anjum

اچھا کون سے صحافی؟؟

تحریر: عمیرعلی انجم۔۔

کیا آپ صحافی ہیں ؟؟اچھا کون سے صحافی ؟؟ بھائی یہ کیسا سوال ہے ۔۔صحافی تو صحافی ہی ہوتا ہے ۔۔اس سوال سے آپ کی مراد کیا ہے ؟؟ ہاں صحافی اچھا یا برا ضرور ہوسکتا ہے ۔۔پوچھنے والے نے پھر سے سوال کیا کہ آپ صحافیوں کی کون سی ذات سے تعلق رکھتے ہیں ۔۔اس سوال نے مجھے حیران کردیا ۔۔میں نے کہا کہ بھائی آپ یہ کس قسم کے سوالات کررہے ہیں ۔۔صحافت کی بھی بھلا کوئی ذات ہوتی ہے کیا ؟؟؟اس نے کہا کہ پہلے تو نہیں ہوتی تھی لیکن اب صحافت میں ذاتیں ہوتی ہیں۔۔اب سوال کرنے کی باری میری تھی ۔۔ میں نے اس سے پوچھا کہ بھائی اگر میں آپ کی بات تسلیم کرلوں تو آپ مجھے یہ بتائیں کہ آپ کون سی ذات سے تعلق رکھتے ہیں ؟؟ اس نے مسکراکر میری جانب دیکھا اور کہا کہ میری ذات ”شودر” ہے اور آپ کیونکہ ایک رپورٹر ہیں اس کے لیے آپ شعبہ صحافت کی ”برہمن ”ذات سے تعلق رکھتے ہیں ۔میں نے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا اور کہا کہ آپ کیونکر ”شودر” ہوئے ؟؟ اس نے کہا کہ میں شودر اس لیے ٹھہرا کہ میں ڈیسک پر کام کرنے والا آدمی ہوں ۔۔ڈیسک پر اب چاہے سب ایڈیٹر ہو یاکاپی  ایڈیٹر ۔ ۔۔اب ہم سب شودر ہیں ۔۔کچھ لوگوں نے ہمیں ذاتوں میں تقسیم کردیا ہے ۔۔میں نے پھر اس سے کہا کہ آپ مجھے اپنی بات پوری طرح سمجھائیں ۔۔ ۔۔میں آپ کی بات کس طرح مان لوں ۔۔ڈیسک پر کام کرنے والے صحافی نہیں تو پھر فیض احمد فیض سے لے کر آج اطہر ہاشمی اور ان سے لے کر سعید خاور صاحب کوئی بھی صحافی نہیں ہوا ۔۔یہ تفریق آخر پیدا کس نے کی ہے ؟؟ وہ ایک مرتبہ پھر مسکرایا اور کہا کہ سنا ہے کہ ہماری ہی برادری کے کچھ لوگ ہیں ۔۔صحافتی تنظیموں کے عہدیدار بھی ہیں ۔۔وہ محکمہ انفارمیشن سندھ کے دفتر جا پہنچے اور وہاں جاکر ایک خط حکام کے حوالے کردیا کہ اس مرتبہ حکومت سندھ کی جانب سے جاری ہونے والے ایکری ڈیشن کارڈز کے لیے ہماری تجاویز پر عمل کیا جائے اور وہی یہ کوڑی لے کر آئے ہیں رپورٹنگ سے منسلک افراد کو ہی صحافی تسلیم کرتے ہوئے ایکری ڈیشن کارڈز جاری کیے جائیں ۔۔مجھے تو پہلے اس کی بات کا یقین ہی نہیں آیا لیکن جب اس نے قسماً یہ بات کہی تو مجھے یقین کرنا ہی پڑا ۔۔میں پہلے ہی عظیم رہنماؤں کو رو رہا تھا کہ اب یہ نیا انکشاف ہوگیا ۔۔اچھا مسئلہ یہ ہے کہ خود عظیم رہنما تو جہازوں میں سفر کرتے ہیں۔۔غریب صحافیوں کو اگر کسی دوسرے شہر جانا ہو تو اس کا ذریعہ سفر ٹرین ہی ہوتی ہے ۔۔شیخ رشید احمد صاحب نے مہربانی کرتے ہوئے ٹکٹ میں  بھرپور رعایت دی ہوئی ہے ۔۔اس ریلوے کی رعایتی کارڈ کے لیے آپ کے پاس ایکری ڈیشن کارڈ ہونا لازمی ہے ۔۔اب بیچارے مجبور صحافیوں کو جو ایک سہولت میسر تھی وہ بھی عظیم رہنماؤں کو گوارا نہیں تھی ۔۔انہوں نے کہا کہ دو کوڑی کے غریب صحافی کہاں اتنے سستے میں ٹرین کے ایئرکنڈیشنزکے مزے لیتے پھررہے ہیں ۔۔اس پر بھی قدغن لگانی چاہیے ۔۔نوکریوں سے نکل گئے ۔۔تنخواہیں بھی کم ہوگئی ہیں ۔۔ان کا یہ شاہانہ سفر بھی بند کرایا جائے ۔۔اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے ۔۔سندھ حکومت سے پوچھیں گے تو وہ یہی جواب دے گی کہ آپ کے ہی ”لوگوں” نے کہا تھا ۔۔اب اس بیچاری حکومت کو یہ کون سمجھائے کہ یہ ا گر واقعی ہمارے لوگ ہوتے ہیں تو کیا ہماری یہ حالت ہوتی ۔۔پھر بھی بیرسٹر مرتضی وہاب کو چاہیے کہ وہ اس معاملے دیکھیں  یا پھر شیخ رشید احمد صاحب ایک مہربانی کرتے ہوئے ریلوے کارڈ کے لیے ایکری ڈیشن کارڈ کی شرط ختم کرتے ہوئے اسے دفتری کارڈ سے سے منسلک کردیں تو یہ ”شودر” صحافی ان کے شکر گذار ہوں گے ۔۔(عمیر علی انجم)

How to Write for Imran Junior website
How to Write for Imran Junior website
Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں