پبلک نیوز میں برطرفیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔۔ پپو نے انکشاف کیا ہے کہ دو ماہ کی سیلری نہ ملنے کی وجہ سے ملازمین پہلے ہی ذہنی اذیت کا شکار ہیں، اوپر سے اب چینل انتظامیہ نے فیصلہ کرلیا ہے کہ بجٹ کم کیا جائے اس کیلئے برطرفیاں ضروری ہیں۔۔ پپو کے مطابق اسلام آباد بیورو میں دو سیٹلائٹ انجینئر، تین اسٹوڈیو کیمرہ مین، ایک آڈیو انجینئر نے جب دو ماہ کی تنخواہ مانگی تو بیورو میں تعینات ایچ آر کے نمائندے نےجواب دیا کہ تنخواہوں کا مسئلہ رہے گا اگر آپ لوگوں نے کام کرنا ہے تو کریں ورنہ استعفا دے دو، جس پر ملازمین نے جواب دیا کہ ہم کام تو کرنا چاہتے ہیں لیکن اپنی سیلری ہی مانگ رہے ہیں سیلری کے بغیر کام کیسے کریں، سیلری سے متعلق کوئی معقول جواب نہ ملنے پر ان چھ افراد نے بطور احتجاج ریزائن کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنا استعفا ایچ آر کو جمع کرادیا جس میں ایک ماہ کا نوٹس پیریڈ بھی تھا جو پانچ دسمبر تک کیلئے تھا، لیکن ایچ آر نے فوری طور پر ان کی دو ماہ کی سیلری دے کر سارا حساب چکتا کیا اور انہیں فارغ کردیا، پپو نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر استعفے کے بعد ہی دو ، دو ماہ کی سیلری دینی تھی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ پیسے تھے پھر استعفے سے پہلے کیوں نہیں دیئے، دوسری طرف کراچی بیورو سے بھی چھ افراد کو نکالے جانے کی اطلاعات ہیں۔۔ پپو کا کہنا ہے کہ اسلام آباد بیورو سے ایک نیوز کیمرہ مین کو اس لئے نکال دیا گیا کہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے وہ دفتر نہ آسکا جسے بنیاد بناکر اسے فارغ کردیاگیا۔۔ اجتماعی استعفے دینے والے ورکرز نے عمران جونیئر ڈاٹ کام کو بتایا کہ تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے پہلے ہی پریشان تھے اوپر سے انتظامیہ کی جانب سے مینٹل ٹارچر کیا جارہا تھا جس پر بطور احتجاج مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔۔۔
21
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل