پیکا کیس، اقرارالحسن پر بیس نومبر کو فردجرم عائد کی جائے گی۔۔۔ 8

پیکا کیس، اقرارالحسن پر بیس نومبر کو فردجرم عائد کی جائے گی۔۔۔

کراچی کی مقامی عدالت نے معروف ٹی وی اینکر پرسن اور پاکستان عوام راج تحریک کے سربراہ اقرار الحسن کے خلاف سوشل میڈیا پر مبینہ ریاست مخالف مواد نشر کرنے کے مقدمے میں فردِ جرم عائد کرنے کے لیے 20 نومبر 2026 کی تاریخ مقرر کردی ہے۔ مقدمہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے انسدادِ الیکٹرانک جرائم کے قانون (پیکا) کے تحت درج کیا گیا تھا۔جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں مقدمے کی سماعت ہوئی، جس کے دوران اقرار الحسن اپنے وکلا کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے ملزم کو مقدمے کی دستاویزات کی نقول فراہم کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ عدالت نے 20 نومبر کو فردِ جرم عائد کرنے کی کارروائی کے لیے مقرر کیا۔ اس سے قبل عدالت این سی سی آئی اے کی جانب سے جمع کرائے گئے عبوری چالان کو حتمی قرار دے چکی تھی۔
استغاثہ کے مطابق اقرار الحسن پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، جن میں فیس بک، انسٹاگرام اور ایکس شامل ہیں، کے ذریعے مبینہ طور پر غلط، ہتک آمیز اور ریاست مخالف مواد شائع کیا۔ تحقیقاتی ادارے کا مؤقف ہے کہ مذکورہ مواد کے ذریعے عوام کو ریاستی اداروں اور حکومتی اقدامات کے خلاف اشتعال دلانے کی کوشش کی گئی۔اقرار الحسن کے خلاف درج مقدمے میں پیکا ایکٹ کی دفعات 9، 10، 20، 24 اور 26 اے شامل کی گئی ہیں، جن کا تعلق مختلف نوعیت کے سائبر جرائم، سائبر دہشت گردی، آن لائن ہتک آمیز مواد، سائبر اسٹاکنگ اور جھوٹی معلومات کی اشاعت سے ہے۔ تاہم ان الزامات کی صحت کا تعین عدالتی کارروائی اور شواہد کی جانچ کے بعد ہی ہوگا۔
مقدمے کے پس منظر کے مطابق اقرار الحسن کو 12 اکتوبر 2026 کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں کراچی کی عدالت میں پیش کرکے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا۔ ابتدائی طور پر عدالت نے چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا، جس میں بعدازاں مزید دو روز کی توسیع کی گئی۔ 19 اکتوبر کو عدالت نے تحقیقاتی ادارے کی جانب سے مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا تھا۔22 اکتوبر کو ان کی درخواست ضمانت مسترد کردی گئی تھی، تاہم بعد میں عبوری چالان جمع ہونے کے بعد 31 اکتوبر کو جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی گلریز میمن نے دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ان کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرلی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں