رواں سال صرف لاہور میں 800 صحافی بیروزگار ۔۔۔ 8

رواں سال صرف لاہور میں 800 صحافی بیروزگار ۔۔۔

لاہور پریس کلب میں پروگریسیو گروپ کے احتجاج کا سلسلہ نویں ہفتے میں داخل ہو گیا ۔ ہفتہ وار اجلاس کے دوران نوجوان تحقیقاتی صحافی سید بدر سعید نے خوفناک اعداد و شمار سامنے رکھ دیے ۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں صرف 2026 کے دوران 8 سو میڈیا ورکرز بےروزگار ہوئے ہیں ۔ گزشتہ پانچ سال میں بےروزگار ہونے والوں کی تعداد 23 سو سے زائد ہے ۔ 11 سے زائد میڈیا ہاؤسز میں تنخواہیں وقت پر نہیں مل رہیں ۔ صحافی بائیکا چلا رہے ہیں ، دکانوں پر ملازمتیں کر رہے ہیں ، برگر ، کپڑے اور موبائل اسیسریز بیچ رہے ہیں ۔ ہم بدترین حالات سے گزر رہے ہیں۔ میرے ساتھیوں کے بچے سکولوں سے ہٹائے جا رہے ہیں ۔ ان کے گھروں کے چولہے بجھ رہے ہیں لیکن یہاں کسی کے پاس اس معاشی بدحالی کا کوئی حل نہیں ہے ۔ کوئی لائحہ عمل نہیں سوچا جا رہا ، کسی قسم کا روڈ میپ نہیں بن رہا۔ ہمارا اتنا بڑا المیہ صحافتی سیاست کا موضوع ہی نہیں رہا ۔ ہم ایک ایک کر کے خاموشی سے مر رہے ہیں اور کسی کو پروا ہی نہیں ہے ۔ اگلے برسوں میں میڈیا ہاؤسز میں اس سے زیادہ بدترین حالات نظر آ رہے ہیں لیکن اس طرف بات ہی نہیں کی جا رہی ۔ کوئی بھی تنخواہ نہ دینے والے میڈیا مالکان کا نام تک لینے کو تیار نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صحافی کالونی میں ایسے سینئر صحافی بھی ہیں جو بیس سال سے اپنے پلاٹ کے کاغذ لیے عدالتوں کے دھکے کھا رہے ہیں لیکن انہیں پلاٹ پر گھر نہیں بنانے دیا جا رہا ۔ کئی ایسے ہیں جن کے پاس پلاٹ کے کاغذ ہیں لیکن پلاٹ نہیں ہے ۔ یہ معاملات اس طرح نہیں چل سکتے ۔ آگ ہمارے گھر تک پہنچے گی تو پھر تپش وہاں بھی جائے گی جو اس کے ذمہ دار ہیں ۔ہم باہر والوں سے نہیں،اپنی کمیونٹی کو مفادات کے لیے بیچنے والوں سے سوال کر رہے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں