تحریر: امجدحسین بخاری۔۔۔
عطا تارڑ صاحب ، سینکڑوں اسلم کھوکھر سیٹھوں کے ظلم کا شکار ہورہے ہیں،انکے پاس کب جائیں گے ؟
میں نے گھر سے آن لائن رائیڈ بک کروائی، ایک سینئر صحافی گاڑی لیکر دہلیز پر موجود تھے ، مجھے دیکھ کر انکے چہرے پر شرمندگی کے آثار تھے ، لیکن مجھے اپنے تمام دوستوں کے حالات کا اندازہ تھا ، انہیں تھوڑا نارمل کیا ، اپنا دکھڑا سنایا اور یوں بیس منٹ کی رائیڈ کا اختتام ہوگیا ، یہ لاہور کے تقریبآ ہر دوسرے میڈیا ہاؤس کی کہانی ہے ،ورکر آن لائن رائیڈ چلا کر ،فوڈ پانڈہ چلا کر اپنا خرچہ چلا رہے ہیں،کیونکہ کسی بھی میڈیا ہاوس میں انکی جاب سیکورٹی ہے اور نہ ہی تنخواہیں مل رہی ہیں، حال ہی میں ایک میڈیا چینل جسکی چار ماہ کی تنخواہیں بقایا تھیں، اپنے کئی ورکرز کو بغیر تنخواہیں دئیے گھر بھیج دیا گیا۔
کئی دوست کرایے کے گھروں میں رہتے ہیں جو یوٹیلیٹی بلز ،بچوں کی فیس ، گھروں کے کرایوں کی وجہ سے شدید پریشان ہیں ۔ لیکن مجال ہے کہ سرکار کے کان پر جوں تک رینگ رہی ہو۔
اطلاعات ہیں کہ سرکار کی جناب سے بھی چینلز اور اخبارات کو لال جھنڈی دکھا دی ہے کہ اب انہیں میڈیا کی ضرورت نہیں ہے۔ اضلاع کی سطح پر میڈیا سیلز بنا کر انکے ذریعے سے کام لیا جارہا ہے۔
بہرحال اس وقت پریس کلبوں اور یونینز کا کردار بھی مکمل ختم ہوچکا ہے کیونکہ سبھی کمپرومائز ہیں ۔ اپنے حق کیلئے خود آواز بلند کرنا ہوگی ۔۔۔۔ کوئی صدر،سیکرٹری اور چیرمین آپکی مدد کو نہیں آئے گا۔
لیکن جناب تارڑ صاحب سے پوچھنا چاہوں گا کہ سرکار کیا آپ لاہور کے ورکرز کے پاس جائیں گے جو آج بھی مزدور کی اجرت سے کم پیسے لے رہے ہیں،لیکن وہ بھی نہیں مل رہی ۔۔( امجدحسین بخاری)۔۔
49